Header Ads

Breaking News
recent

کیا سپریم کورٹ نواز شریف کو نا اہل قرار دے گی؟

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی JIT نے جو حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے اُس کے مطابق بظاہر وزیر اعظم نواز شریف کیلئے آپشن انتہائی محدود ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیب میں اُن کے خلاف مزید تحقیقات کے بعد اُنہیں اور اُن کے اہل خانہ کو نااہل قرار دئے جانے کے علاوہ کوئی اور امکان موجود نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف اگر نا اہلی سے بچنا چاہتے ہیں تو واحد راستہ یہی ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہو جائیں، کیونکہ ایسا کرنے سے نااہلی کی کارروائی کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

تاہم، معروف قانون داں اور وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کیلئے وکیل سلمان اکرم راجہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ خصوصی بات چیت میں بتایا کہ یہ رپورٹ تفتیشی افسروں کی رائے پر مبنی ایک رپورٹ ہے اور اس رپورٹ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینا مشکل ہو گا۔ سپریم کورٹ صرف یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کیا کسی فوجداری عدلت میں اس پر مقدمہ چلایا جائے یا نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی نظیر موجود نہیں ہے کہ کسی تفتیشی افسر کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دے۔ تاہم، اُنہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ یہ طے کر لیتی ہے کہ اس رپورٹ پر ہی اسے فیصلہ کرنا ہے تو اس میں صرف چند ہفتے ہی درکار ہوں گے۔ لیکن، اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ JIT رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور تفتیشی ٹیم نے معاملہ آگے نہیں بڑھایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اپنا فیصلہ دیا تھا تو اُس فیصلے میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ بہت سی چیزیں مبہم ہیں اور تمام واقعات واضح نہیں ہیں۔ اُس وقت شریف خاندان کی طرف سے عدالت میں یہ کہا گیا تھا کہ چالیس پچاس سال کے عرصے پر پھیلے ہوئے کاروبار کا تمام تر ریکارڈ پیش کرنا ممکن نہیں ہے اور اس رپورٹ میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اُس وقت پانچ میں سے تین جج صاحبان کا کہنا تھا کہ پیش کردہ ریکارڈ کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اگر اُس وقت پیش کی گئی تفصیلات میں اب بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے تو صرف یہی امکان باقی رہ جاتا ہے کہ مزید تفتیش کیلئے یہ معاملہ کسی اور عدالت میں بھیجا جائے اور یہ عدالت فوجداری ٹرائل کورٹ ہی ہو سکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس رپورٹ پر بہت سے اعتراضات سامنے آئیں گے۔ اس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اُٹھائے جائیں گے۔ تاہم، اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ اسے فوجداری عدالت میں بھیجا جائے تو فوجداری عدالت اپنا وقت لے گی۔ ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیشی ٹیم شروع ہی سے متنازعہ رہی ہے اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ کیلئے کسی فیصلے پر پہنچنا مشکل ہو گا۔ تاہم، سپریم کورٹ مزید تفتیش کیلئے یہ مقدمہ فوجداری عدلت میں بھیج سکتی ہے۔

رپورٹ میں البتہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور اُن کے خاندان نے جن اثاثوں کی تفصیل پیش کی ہے اُن کے مطابق، شریف خاندان کی آمدنی اور اُن کے انداز زندگی اور اخراجات میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے تمام تر اثاثے ظاہر نہیں کئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، شریف خاندان کی مزید ’آف شور کمپنیوں‘ کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں متعدد دوسرے کمپنیوں کے علاوہ سعودی عرب میں قائم ہل میٹلز اسٹیبلشمنٹ اور برطانیہ میں قائم فلیگ شپ انویسٹ منٹ لمیٹڈ اور متحدہ امارات میں قائم کمپنی کیپٹل FZE شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے شدید نقصان میں ہونے کے باوجود ان کے ذریعے قرض اور تحائف پر مبنی خطیر رقوم کی ترسیل نواز شریف اور اُن کے بیٹے حسین کو کی گئیں تھیں۔

تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کو ’اسموک سکرین‘ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لین دین کو مخفی رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تفتیشی ٹیم میں شامل ایف آئی اے نے سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر حجازی پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اُنہوں نے اپنے ماتحت عملے پر دباؤ ڈالتے ہوئے، حقائق کو وزیر اعظم نواز شریف کے حق میں تبدیل کر دیا اور یوں انصاف کی راہ میں حائل ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ سپریم کورٹ بینچ نے جنگ نیوز پیپر گروپ کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نوٹس بھیجا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی صاحب زادی نے حکومت کی جانب سے مشترکہ تفتیشی ٹیم کی اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس کے فوراً بعد نواز شریف حکومت کے چار سینئر وزراء نے ایک پریس کانفرنس میں رپورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ رپورٹ عمران خان کے ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے تیار کی گئی ہے‘‘۔ بیشتر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے نتیجے میں دونوں فریقین یعنی مدعا علیہ اور استغاثہ کے دلائل اور جوابی دلائل سنے بغیر سپریم کورٹ اس بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہیں کرے گی۔

اب دیکھنا یہی ہے کہ جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل سپریم کورٹ کا بینچ جس نے پانچ رکنی بینچ میں اکثریتی فیصلہ دیا تھا جس کے ذریعے وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے خاندان کو رقوم کی ترسیل ثابت کرنے کا ایک موقع فراہم کیا تھا، پیر کے روز سماعت کرتے ہوئے اس مشترکہ تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے کیا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔

شبّیر جیلانی
 وائس آف امریکہ

No comments:

Powered by Blogger.