Header Ads

Breaking News
recent

انقلاب فرانس کا سبب کیا تھا ؟

لوئی چہارم دہم فرانس کا مطلق العنان بادشاہ تھا۔ یہی و جہ ہے کہ اس کے عہد میں پارلیمنٹ کے دروازوں پر قفل لگا دئیے گئے۔ صوبائی آزادی ختم ہو چکی تھی۔لوئی چہار دہم فخریہ یہ کہتا تھا:’میں ریاست ہوں‘۔ لوئی چہار دہم نے 1715ء میں جان دی۔ عہد لوئی کے آسمانِ عظمت پر ستاروں کی طرح چمکنے والے بال زک، دی کارتے ،پاسکلی ، پاسن ، مولیئرے ، دی زر ،لاروش زکار، لورین کارنیل، لافانتین، راسین ، بوسیو، بولیو اور فلیون تھے۔ لوئی چہار دہم بلا شبہ فرانس کا سب سے بڑ ا بادشاہ تھا۔ لیکن اس کی یہی ’عظمت‘ انقلاب ِ فرانس کا باعث بنی۔جاگیرداری کے خاتمہ کے بعد فرانس میں بادشاہت مستحکم او ر مضبوط ہو گئی۔

بادشاہت کا یہی استحکام انقلاب کا موجب بنا۔ جاگیردارانہ نظامِ حکومت کے خاتمہ کے بعد فرانس میں جو جدید طرزحکومت قائم ہوئی اس کا تمام تر اقتدار شاہی کونسل میں مرکوز تھا۔ یہی کونسل تمام اداروں اور شعبوں کی اجارہ دار تھی۔ یہی کونسل عدالتِ عالیہ تھی۔ کیونکہ اسے تمام عدالتوں کے خلاف قلم اٹھانے کا اختیار تھا۔ مجلسِ قانون ساز کا کام بھی اسی شاہی کونسل میں شامل تھا۔ کیونکہ ’سٹیٹس جنرل‘ (جنرل سمبلی) کا سترہویں صدی کے بعد کوئی اجلاس نہیں ہوا تھا۔ مال اور نظامت بھی شاہی کونسل کے اختیار میں تھے۔ تمام فرانس پر اسی کونسل کی حکومت تھی۔ محاصل میں زیادتی اور کمی کا حق بھی اسی کونسل کو تھا۔ سرزمینِ فرانس کا پانچواں حصہ کلیسا کے قبضہ میں تھا۔ امراء کی طرح کلیسا بھی محاصل کے بوجھ سے آزاد تھا۔ مجلسِ کلیسا میں ، جس کا اجلاس ہر پانچ سال بعد ہوتا تھا، ہر باربادشاہوں سے مراعات حاصل کی جاتی تھیں۔

علاوہ ازیں کلیسا مقامی حکام سے بھی فائدہ اٹھاتا رہتا تھا۔ کلیسا کے اختیار میں سیاسی اقتدار بھی تھا۔ تمام درس گاہیں کلیسا ہی کے زیرِ ہدایت تھیں۔ احتساب کے کلی اختیارات بھی کلیسا کو حاصل تھے۔ کیمبررائے کالاٹ پادری 75 ہزار انسانوں پر حکومت کر رہا تھا۔ طولو کے لاٹ پادری کی آمدنی 54 ہزار پونڈ سالانہ تھی۔رون، ٹرائے اور سٹرس بورج کے پادریوں کی آمدنی اس قدر تھی کہ ان کے محلات شاہی محلات کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انگلستان کے انقلاب اوراس کے فلسفیوں کے افکار و آراء نے بھی فرانسیسیوں کے سینوں میں استبداد کے خلاف آگ بھڑکا دی۔

بکلے ہمیں بتاتا ہے کہ لوئی چہاردہم کی موت اورانقلاب ِ فرانس سے قبل شاید ہی کوئی فرانسیسی ایسا تھا جو انگلستان نہ گیا ہو۔ شاہی کونسل کے استبداد کلیسا کے اقتدار ، برطانوی افکار اور امریکی جنگ ِ آزادی کے تاثرات نے فرانس کے طبقۂ اولیٰ کی تعیش پسندیوں سے مل کر انقلاب کو قریب سے قریب تر کر دیا۔ فرانس میں طبقۂ اولیٰ کی ایک جداگانہ جماعت تھی جس کے افراد تقریباً چالیس ہزار تھے۔یہ جماعت محاصل سے بری اور متعدد مراعات کی حامل تھی۔ تخت و تاج کی کمزوری ان کی تقویت کا باعث ہوتی۔ شاہی دربار فضول خرچیوں کے لیے مشہور ہو چکا تھا۔ ورسائی کی شان و شوکت حد سے متجاوز کر گئی تھی۔ شہزادوں اور شہزادیوں کے خدام کی اس قدر کثرت تھی کہ ملکہ کے خادموں کی تعداد پانچ سو اور بادشاہ کے ملازم ایک ہزار کے قریب تھے۔

لوئی چہار دہم نے ایک محل پر 30 ملین پونڈ صرف کیے۔ لیکن اس کا جانشین تیس لاکھ پونڈ میں ’آہوچشم ‘خرید کرتا ہے۔ طبقہ اول کا طبقۂ متوسط بھی شاہی مراعات کا حامل تھا۔ اس طبقہ کے افراد حکومت کے مختلف شعبوں کے عہدے خرید کر فائدہ اٹھاتے تھے۔ دونوں طبقوں کی یہ کیفیت ہو تو محاصل کے بوجھ مزدور یا کسان کے کندھوں کے سوا اور کو ن اٹھا سکتا تھا ؟ عوام سے روپیہ چھین کر انہیں اس قدر مفلس اور غریب کر دیا گیا کہ خود مفلسی کو اپنے شکاروں پر رحم آتا۔ سرکاری عہدہ دار ہر سال دیہاتی آبادی کو مجبور کرتے کہ وہ سڑکیں بنائیں اور پُل تیار کریں لیکن اجرت کے لیے ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائیں۔

ان کے چہرے محنت ، تمازت اور کمی ٔ خوراک سے اترے ہوتے۔ان کا لباس کہنیوں اور گھٹنوں سے پھٹا ہوتا۔ سرد ہوائیں ان کے ہونٹوں کو نیلا اور خون سرد کر دیتیں۔ فرانس کا کسان اپنے مرزع ہستی میں بد بختی کے بیج بوتا۔ اس کے کھیت شکار گاہوں کا کام دیتے۔ جب آقا اس کی متاعِ حیات لوٹ لیتا تو دینی پیشوا اس کے روحانی ارتقاء کا معاوضہ شائی لاک کی طرح اس کے جسم سے گوشت کاٹ کر وصول کرتا۔ مظالم نے فرانس میں گداگروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا۔ انہیں مطبخ کی جگہ زنداں بھیج دیا۔1767ء میں پچاس ہزار گداگر گرفتار کیے گئے۔ لیکن دس سال بعد ان بے ساز وبرگ انسانوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ تھی۔ 

شاہی کونسل کی مر کزیت ، کلیسا کے مظالم ،امریکی اور برطانوی افکار کے تاثرات ،امراء کی تعیش پسندی ، تاج و تخت کی بے نیازی ، طبقۂ متوسط کی مراعات ،کسان کی بد بختی ، مزدوروں کی بربادی اور گدا گروں کی کثرت اٹھا   رہویں صدی کے فرانس کا آئینہ ہیں۔  

No comments:

Powered by Blogger.