Header Ads

Breaking News
recent

مائونٹ ایورسٹ کی ’’ڈیتھ پیک ‘‘ 300 سے زائد جانیں لے چکی ہے

مائونٹ ایورسٹ میں پہاڑوں سے محبت کرنے والوں کے لیے بہت پرکشش ہے۔ لیکن اس کی ’’ڈیتھ پیک ‘‘ کے نام سے مشہور بے رحم چوٹی 1953 سے اب تک 300 سے زائد کو ہ پیمائوں کی جانیں لے چکی ہے ۔ کم و بیش 100 سے 200 تک لاشیں اس بے رحم چوٹی میں اب بھی کہیں نہ کہیں دفن ہیں۔ 31 ہزار فٹ کی بلندی پر آکسیجن نہ ہونے کے باعث لاشیں نکالنے کی سرگرمیاں بھی جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ کوہ پیما وہیں کہیں مر کھپ جاتے ہیں، لاشوں تک کا پتہ نہیں چلتا۔ کچھ لاشیں برف میں ڈھک جاتی ہے تو کچھ پہاڑوں کی چوٹیو ں پر جمی، دور سے دکھائی دیتی ہیں ، رنگ برنگ کے بیگ ، چھتریوں یا جوتوں سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔

ابھی حال ہی میں بھارتی حکومت نے اپنے تین کوہ پیمائوں کی لاشیں نکالنے کے لیے 92 ہزار ڈالر خرچ کیے۔ منصوبے کا اعلان ہوتے ہی کوہ پیمائوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، ہیلی کاپٹر کی 29 ہزار فٹ پر پرواز موت کا پیغام تھی لیکن حکومت نے بھی وہاں گوتم کی پھنسی ہوئی لاش نکالنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔’’ آخر مرنے والوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے بھی تو حکومت کا ہی کام ہے۔ یہ بات اس پراجیکٹ کے انچارج نے کی۔ 29 ہزارفٹ کی بلندی پر کم ہوا کے باعث زیادہ تر کوہ پیما اسی جگہ مار ے جاتے ہیں، اسی جگہ کو ڈیتھ پیک کہا جاتا ہے۔ گوتم اور روی کمار کی لاشیں بھی یہیں سے ملیں۔ ہیلی کاپٹر 29 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا رہا اور لاشیں نکالنے کا کام کوہ پیمائوں نے سر انجام دیا۔ ان میں سے ایک لاش 2 سال سے وہاں پھنسی ہوئی تھی۔ اس طرح یہ مشن کامیاب رہا۔

رحمیٰ فیصل


 

No comments:

Powered by Blogger.