Header Ads

Breaking News
recent

مگر وقت کشمیر کا سب سے بڑا اتحادی ہے

گزشتہ برس جولائی میں برہان وانی کی موت کے بعد سے نہ صرف کشمیر میں
تشدد اور اس تشدد کی مزاحمت روائتی نہیں رہی بلکہ بہ فضلِ سوشل میڈیا و موبائل فون ستر برس میں پہلی بار خود بھارت کشمیر کے حال اور مستقبل کے معاملے میں دو حصوں میں بٹ رہا ہے۔ انیس سو نوے میں جب سوشل میڈیا اور موبائل فون نہیں تھا اور صرف سرکاری دور درشن تھا۔ اس وقت ہندی اخبارات میں کشمیر کے بارے میں جو بھی خبر چھپتی تھی وہ نہ صرف یکطرفہ ہوا کرتی تھی بلکہ بھارتی سیکورٹی دستوں کی زیادتیوں کے بارے میں اطلاعات کو پاکستانی سازش یا ایک خود ساختہ لبرل اقلیت کی ہاؤ ہو سمجھ کر جھٹک دیا جاتا تھا۔ اس وقت ارون دھتی رائے جیسے لوگ تھے بھی بہت کم اور زیادہ تر بھارتی انھیں پاگل بھی سمجھتے تھے۔

مگر 2002 کے فروری مارچ میں جب وزیرِ اعلی نریندر مودی کی ریاست گجرات میں قتلِ عام ہوا اور پھر اس قتلِ عام کو بھارت کے انگریزی پریس نے جو کوریج دی اور بعد ازاں بھی زندہ رکھا اور اس دوران کھوجی صحافیوں ، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جس طرح اپنے طور پر گجرات کے واقعات کو دفن ہونے سے بچایا اور بھارتی سپریم کورٹ نے اس بابت جو ایکٹو ازم دکھایا اس کے نتیجے میں ایک عام بھارتی کو پہلی بار محسوس ہونے لگا کہ تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں مگر دوسرے رخ کو خود تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ گجرات قتلِ عام کے کئی بڑے مجرم بچ نکلے لیکن بہت سے سلاخوں کے پیچھے بھی گئے۔اگر صحافتی ، سماجی و عدالتی ایکٹو ازم نہ ہوتا تو شائد سن ستر اور اسی کی دہائی کے دنگوں کے مجرموں کی طرح گجرات کا بھی کوئی قاتل جیل میں نہ ہوتا۔
البتہ کشمیر میں انسانی حقوق کے معاملے کو غیر جانبداری سے دیکھنا بھارتی پڑھے لکھوں کے لیے شائد اس لیے مشکل تھا کہ اس میں فوری طور پر آئی ایس آئی، پاکستان اور جہادی تنظیموں کے نام بھی جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ نوے کی دہائی کی خونریزہ کشمیر تحریک پر بھارت کے اندر رائے عامہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور جو سرکار نے کہا اسے ہی سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔
لیکن یہ جمود پچھلے برس ٹوٹنا شروع ہوا اور کشمیر صرف ارودن دھتی رائے جیسے لکھاریوں اور اے جی نورانی جیسے وکلا کا دردِ سر نہ رہا۔ دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبا تحریک کشمیر کے معاملے پر ہی شروع ہوئی جب افضل گرو ( جسے جنوری 2013  میں سپریم کورٹ نے سماج کے اجتماعی ذہن کو مطمئن کرنے کے نام پر پھانسی دی) کی تیسری برسی کے موقع پر فروری 2016 میں بائیں بازو کی طلبا یونین نے جلسہ کیا اور اس کے بعد یونین کے صدر کنہیا کمار ، نائب صدر آننت پرکاش نرائن ، پی ایچ ڈی اسکالر عمر خالد ، انربان بھٹہ چاریہ ، اشوتوش کمار اور راما ناگا کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ قائم کر کے گرفتار کیا گیا۔ اور پھر ان کے حامیوں کی بے جے پی کی ذیلی طلبا تنظیم اے بی وی پی سے جھڑپیں ہوئیں۔ یوں یہ لڑائی کیمپس پر نظریاتی قبضے کی جنگ میں بدل گئی اور اب تک جاری ہے۔

اس کے بعد جولائی میں جب برہان وانی کی شہادت ہوئی اور کشمیری مظاہرین پر پیلٹ گن کا اندھا دھند استعمال ہوا اور نابینا ہونے والے بچے اور بچیوں کی تصاویر وائرل ہونی شروع ہوئیں تو بھارتی سماج کو بھی تھوڑا بہت جھٹکا لگنا شروع ہوا۔ صحافیوں، سابق سیاستدانوں اور ریٹائرڈ  بیوروکریٹس نے اپنے اپنے طور پر حالات کا چشم دید جائزہ لینے اور کشمیریوں کی نئی نسل کے ذہن پڑھنے کے لیے انفرادی و اجتماعی طور پر متاثرہ علاقوں میں جانا شروع کیا۔ اس سال فروری میں سابق کانگریسی وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے کھل کے کہا کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور محض طاقت کا استعمال یہ عمل تیز تر کر رہا ہے۔ پچھلے دنوں وادی میں دو نشستوں کے ضمنی انتخابات میں معاملات اور کھل کے سامنے آ گئے جب الیکشن کمیشن کے مطابق محض دو سے سات فیصد تک ووٹ پڑے۔ چنانچہ انتخابی عمل کو معطل کرنا پڑ گیا۔ پہلی بار یہ بھی ہوا کہ ایک فوجی ایکشن کے دوران مقامی نوجوان اس حریت پسند کے لیے انسانی ڈھال بن گئے جسے فوج  نے گھیر لیا تھا۔ اگرچہ یہ حریت پسند ہلاک ہو گیا مگر اس کارروائی میں تین عام شہری بھی مارے گئے۔ اس کے بعد وادی میں امن ایک بار پھر تہہ و بالا ہو گیا۔

اس دوران ایک عام شہری فاروق احمد ڈار کی وڈیو بھی وائرل ہوگئی جسے انسانی ڈھال کے طور پر فوجی جیپ کے بونٹ پر باندھ کر گھمایا گیا۔ ایک اور وڈیو میں بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو بٹھا کر ڈنڈے مارتے ہوئے انھیں پاکستان مخالف نعرے لگانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک مقامی فٹ بال ٹیم وندے ماترم کے بجائے پاک سرزمین شاد باد گا رہی ہے اور اس نے پاکستانی جھنڈا بھی اٹھا رکھا ہے اور سبز رنگ کی وردیاں بھی پہنی ہوئی ہیں۔ مگر بھارتی میڈیا نے سب سے زیادہ اہمیت اس وڈیو کو دی جس میں کچھ کشمیری نوجوان نرغے میں آئے سی آر پی ایف کے ایک جوان کو تھپڑ مار رہے ہیں۔ اس پر انڈین ایئرفورس کے ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل انیل چوپڑہ کی بھی غیرت جاگی اور انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’’ ایسے واقعے کے بعد کوئی بھی خود دار قوم پتھراؤ کرنے والے کم ازکم سو لوگوں کو اب تک گولی مار چکی ہوتی۔ مگر ہمارے جعلی لبرل دانشوروں کو تو پاکستانی ہائی کمیشن میں چائے پینے سے فرصت نہیں‘‘ ۔

اسی وڈیو پر ردِ عمل دیتے ہوئے کشمیر کی بی جے پی پیپلز لیگ مخلوط حکومت کے وزیرِ صنعت و تجارت چندرا پرکاش گنگا نے کہا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ کشمیریوں کا علاج صرف گولی ہے۔ اسی وڈیو کے ردِ عمل میں راجھستان کے شہر چتور گڑھ کی پرائیویٹ میواڑ یونیورسٹی میں پانچ کشمیری باشندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہاں پانچ  سو کشمیری طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔ واقعہ ایسا تھا جس کی مرکزی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری لڑکے بھی ہمارے بیٹے ہیں۔ مگر انھی راج ناتھ سنگھ کے ماتحت سی آر پی ایف کشمیر میں پیلٹ گن استعمال کر کے نوجوانوں کو اندھا بھی کر رہی ہے۔ اس دوران وزیرِ اعلی یوگی ادتیا ناتھ کی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں بڑے بڑے ہورڈنگز پر لکھ دیا گیا کہ کشمیری یوپی چھوڑ دیں یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

مگر اسی بھارت میں ایک متبادل سوچ بھی ابھر رہی ہے جو طاقت کے زور پر مسئلہ حل کرنے کے نتائج سے خوب واقف ہے۔ بھارت کے ممتاز قانون دان اے جی نورانی کے بقول کشمیری نوجوان موت کے خوف سے آزاد ہو چکا ہے اور بھارت کے لیے آنے والے دنوں میں حالات کنٹرول کرنا مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ کنسرنڈ سٹیزن نامی سول سوسائٹی کا ایک گروپ مودی حکومت کو مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ اس کی کشمیر پالیسی ملک  کو  ایسی کھائی میں دھکیل رہی ہے جہاں سے واپسی تقریباً ناممکن ہے۔ جمہوری عمل پر سے کشمیریوں کا کلی طور پر ایمان اٹھ جانا ریاست کے بنیادی وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اس کا ثبوت حالیہ انتخابات میں ووٹنگ کی شرح ہے۔ اس سے واضح ہے کہ کشمیریوں کو اب جمہوری حل پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ لہذا فوری ضرورت ہے کہ طاقت کا اندھا دھند استعمال روکا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں منطق اور عقل سے کام لے کر امن بحال کیا جا سکے۔ ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے جن کے نتیجے میں کم ازکم اشتعال پھیلے اور ردِ عمل ہاتھ سے نہ نکلے۔

اس گروپ میں بی جے پی کے سابق وزیرِ خارجہ یشونت سنہا ، سابق خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ اور سلمان حیدر، ریٹائرڈ جسٹس اے پی شاہ، کشمیر سے متعلق سابق مصالحت کار وجاہت حبیب اللہ، سرکردہ صحافی پریم شنکر جھا ، شیکھر گپتا، جون ڈیال ، بھارت بھوشن اور ارونا رائے، رام چندرا گوہا ، عرفان حبیب ، بدری رائنا اور سشوبھا بروا جیسے دانشور شامل ہیں۔ کشمیری جدوجہد کے تازہ باب کے بارے میں ایک اہم مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ مودی حکومت کوشش کے باوجود اب تک ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر پائی کہ موجودہ بے چینی کے پیچھے بھی پاکستان یا کوئی امپورٹڈ جہادی گروہ ہے۔ لہذا اس کے لیے یہ بات پریشان کن ہے کہ کشمیری اپنی مدد آپ کے تحت کس طرح پچھلے نو ماہ سے بھارت کے لیے مسلسل دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔

اس نئے باب کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان خود کو بدستور صرف سیاسی و اخلاقی و سفارتی مدد تک محدود رکھے۔ نئے راؤنڈ میں کشمیری مسلسل ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اپنی لڑائی خود لڑ سکتے ہیں۔ ان کی کامیابی کے پیچھے نہ صرف موت کے خوف سے آزادی اور سوشل میڈیا کا ہتھیار ہے بلکہ بھارت کا یہ نہ سمجھنا بھی ہے کہ نئے دور میں پرانے دماغ کے ساتھ حالات سے نہیں نمٹا جا سکتا۔ بہتر پہلو یہ ہے اس نکتے کو رائے عامہ پر اثرانداز ہونے والے بہت سے بھارتی اب سمجھنے لگے ہیں۔ ویسے  بھی کشمیر کا سب سے بڑا اور بنیادی اتحادی وقت ہے۔ جو آہستہ آہستہ دنیا بدل رہا ہے۔ کوئی چاہے کہ نہ چاہے۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.