Header Ads

Breaking News
recent

فوجی عدالتوں کی ایک اور بیساکھی

حکومتِ پاکستان نے فوجی عدالتوں کی میعاد ختم ہونے کے دو روز بعد ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ ان عدالتوں کو مزید توسیع دینے کی خاطر آئینی ترمیم متعارف کروائی جائے گی جس کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔ یہ فوجی عدالتیں دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کے پس منظر میں قائم کی گئی تھیں۔ اس کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ہمارے عدالتی نظام میں خامیاں موجود ہیں جن کے باعث وہ دہشت گردوں کو قرار واقعی سزائیں دینے سے قاصر ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ نے فوجی عدالتوں کا جواز پیش کرتے ہوئے چند روز قبل کہا تھا کہ 'انتہا پسندی کے مقدمات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جج، وکیل اور گواہاں کو جان کا خوف ہوتا ہے۔ اہم مقدمے کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ کوئی سامنے نہیں آتا۔ اسی لیے ایسے مقدمات سے نمنٹے کے لیے فوجی عدالتیں بنائی گئیں۔'

لیکن دوسری جانب ماہرِ قانون جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ ’حکومت اصل مسئلے سے آنکھیں چرا رہی ہے، اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پولیس کی تفتیش درست نہیں ہے، مختلف اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ ٹھیک نہیں ہے، گواہوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، استغاثہ ٹھیک نہیں ہے، لیکن حکومت بجائے ان معاملات کو حل کرنے کے لیے آسان حل کی جانب جا رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ 'یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دو سال قبل تمام پارٹیوں نے فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا، لیکن ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ دو سال چٹکی بجاتے ہی گزر جائیں گے۔'

انھوں نے کہا کہ 'آج ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں دو سال پہلے کھڑے تھے اور اس کی وجہ صرف اور صرف سیاست دانوں کی کوتاہی اور نالائقی ہے۔' آئی ایس پی آر کے مطابق پچھلے دو برس میں فوجی عدالتوں نے 274 مقدمات کی سماعت مکمل کر کے فیصلے سنائے، جن میں سے161 مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت، جب کہ 113 مقدمات میں قید کی سزائیں دی گئیں۔ سزائے موت پانے والے 161 میں سے اب تک 12 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ لیکن سوال یہ ہےکہ کیا یہ ایسا کام ہے جو عام عدالتوں کے بس سے یکسر باہر تھا ؟ مزید یہ کہ حکومت نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ توسیع کی نئی مدت کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا ؟ دفاعی امور کے ماہر ایاز گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'بلاشبہ فوجی عدالتوں کو بیساکھی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں 20 نمبر شق یہی تھی کہ پاکستان کے تعزیری نظام کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جائیں گی، پولیس میں اصلاحات کی جائیں گی، لیکن اس کی بجائے فوجی عدالتیں مسلط کر دی گئیں جو بین الاقوامی طور پاکستان کے تشخص کے لیے اچھا نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام میں تعاون کرنا سوچنا بھی رجعت پسندانہ عمل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ایسے اقدامات نہیں کرنا چاہتی جو اس کے اختیارات میں ہیں لیکن اسے خدشہ ہے کہ اس کی بدنامی کا سبب بن سکتے ہیں۔' انھوں نے کہا کہ ’فوجی عدالتوں سے بہتر ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی جو 52 عدالتیں موجود ہیں ان کو وہی اختیارات دیے جائیں جو فوجی عدالتوں کو دیے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے۔‘ کیا اس فیصلے کے پیچھے کہیں فوج کا دباؤ تو نہیں کہ وہ معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ایاز گل نے کہا کہ 'میرا نہیں خیال کہ فوج کا دباؤ ہے، البتہ فوج کے دباؤ کا بہانہ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اگر دباؤ ہو بھی تو اس کی مزاحمت بھی کی جا سکتی ہے۔' دوسری جانب خود حکومت کے بعض ارکان اس عمل کو پسندیدہ نہیں سمجھتے۔ چند روز قبل بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ 'فوجی عدالتیں بنانا اچھا اقدام نہیں ہے۔'جمہوری معاشرہ ہے، ہماری سیاسی جماعت ہے، ہم الیکشن لڑ کر آئے ہیں ہم تو فوجی عدالتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔'

اس کے علاوہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنااللہ نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ' ملٹری کورٹس کوئی حل نہیں ہے، وہ دو سال رہی ہیں، لیکن ان کی کارکردگی بھی کوئی اتنی زیادہ بہتر نہیں رہی ہے جس کے اوپر کہا جا سکے کہ اس کے بغیر سسٹم چل نہیں سکتا۔' تاہم اس پر وزیرِ اطلاعات مریم اورنگ زیب کو رانا ثنا اللہ کے اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا جس کے بعد رانا ثنااللہ نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ 'یہ ہنگامی اقدام تھا جس سے فائدہ ہوا۔'

ظفر سید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

No comments:

Powered by Blogger.