Header Ads

Breaking News
recent

کیا امریکا غریب ملک ہے؟

عنوان دیکھ کر ممکن ہے آپ حیران ہوئے ہوں، لیکن صبر کریں۔ مجھے تو ایسا
ہی لگتا ہے۔ مانیں یا نہ مانیں، یہ آپ کی مرضی۔ گذشتہ چند ماہ کے مختصرعرصے میں چار امریکی ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے سفر میں ایک عجیب چیز دیکھی۔ میں اپنے کالج، جس میں 75000 سے زائد طلبا ہیں کے مختلف دفاتر میں گیا، لیکن سب لوگ چھوٹے چھوٹے کیبن میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ پرنٹ کی کمانڈ دے کر خود جا کر پرنٹ اٹھا کر لاتے ہیں (عموماً، کئی لوگوں کے لیے درمیان میں ایک ہی پرنٹر لگا ہوتا ہے) اپنی چائے خود بناتے ہیں۔ اپنا کھانا خود گرم کرتے ہیں۔ امریکا جیسا ترقی یافتہ ملک اور سینئر ترین آفیسران کے لیے بھی چپڑاسی نہیں؟ مجھے تو عجیب لگتا ہے۔ امریکی ہوٹلز میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ کاؤنٹر پر جا کر کھانے کا آرڈر دیں، بل ادا کریں اور کھانا ایک ٹرے میں رکھ کر کسی میز پر جا کر بیٹھ جائیں۔ 
پانی خود ڈال کر پئیں اور کھانا ختم کر کے اپنا ٹیبل خود صاف کریں اور ٹرے میں رہ جانے والی چیزیں خود گرا دیں۔ بندہ پیسے دے اور سارہ کام خود کرے۔ بات سمجھ میں نہیں آتی! ٹرانسپورٹ پر بہت سفر کیا اور چند مطالعاتی دورے بھی، لیکن گاڑی کے ساتھ کنڈکٹر نہیں دیکھا۔ پٹرول پمپ تو ہیں، لیکن پٹرول ڈالنے والے موجود نہیں کیونکہ خود پٹرول ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر بہت مختصر الفاظ کا استعمال کروں، تو ہرشخص اپنا کام خود کرتا ہے یا پھر ہر کوئی کام کرتا ہے۔ پاکستان کا آفس کلچر بہت مختلف ہے۔

 ہمارے سرکاری دفاتر میں ہر آفیسر کے پاس ایک بڑا آفس ہوتا ہے۔ اس کے دروازے پر ایک سے زیادہ خدمتگار جنہیں چپڑاسی کہا جاتا ہے، موجود ہوتے ہیں، جو صاحب کے گھنٹی بجانے پر چند سیکنڈ میں مودبانہ حاضری پیش کرتا ہے۔ گھر میں سرکاری فون کے علاوہ ایک سے زیادہ سرکاری خدمت گاربھی ہوتے ہیں۔ ایک سرکاری گاڑی تو دفتر کے استعمال میں ہو، لیکن بچوں کو بھی یہ سہولت میسر ہوتی ہے۔ بات صرف ہمارے ٹیکس پر چلنے والے سرکاری اداروں کی نہیں بلکہ نجی اداروں اور کاروباری اداروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں، لیکن اپنے کام خود کرنے کے ٹوٹکے غریب امریکا کے ہیں، ہمیں اس سے کیا.

عبدالقیوم

No comments:

Powered by Blogger.