Header Ads

Breaking News
recent

کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے : وسعت اللہ خان

ہر سال ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی کی انکم ٹیکس ڈائریکٹری شایع ہوتی ہے
اور ہر سال میڈیا تنقید کرتا ہے کہ نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صنعتی خاندان کے سربراہ ہیں۔ ان کے خاندان کی اندرونِ و بیرونِ ملک املاک و فیکٹریاں اور پروجیکٹس ہیں مگر انکم ٹیکس نواز شریف کا محض بائیس لاکھ روپے سالانہ، شہباز شریف کا صرف چھہتر لاکھ، حمزہ شہباز کا صرف تریسٹھ لاکھ اور کیپٹن صفدر کا صرف پچاس ہزار روپے اور فریال تالپور کا صرف بائیس لاکھ اور خورشید شاہ کا صرف ایک لاکھ تیرہ ہزار اور عمران خان کا صرف چھہتر ہزار اور مولانا فضل الرحمان کا انکم ٹیکس صرف انچاس ہزار نو سو دو روپے۔ کیا فائدہ یہ واویلا کرنے کا کہ کس نے کتنا انکم ٹیکس دیا اور دراصل کتنا دینا چاہیے تھا۔ کاغذ پر سب ایماندار ہیں۔ تمام غریب ارب پتیوں کے گوشوارے ٹیکس ماہرین ہی  بناتے ہیں۔ انھیں ٹیکنیکلی چیلنج کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن ان سب غریب ترین امرا کو اندر سے تو معلوم ہو گا ہی کہ اصل میں انھوں نے کتنی ایمانداری سے ٹیکس دیا یا کاغذوں میں چھپا دیا۔ عوام بھلے بول نہ پائیں پر یہ تو جانتے ہی ہیں کہ کس کا رہن سہن کتنی آمدنی سے لگا کھاتا ہے بھلے وہ کاغذ پر کتنا ہی مفلوک و مسکین نظر آوے۔

ہمارے ہاں وہ تو آسانی سے پکڑا جاتا ہے جس کے ذرایع آمدنی بظاہر محدود ہوں مگر لائف اسٹائل لا محدود قسم کا ہو۔ لیکن اسے پکڑنا مشکل ہے جس کے ذرایع آمدنی لامحدود ہوں مگر ٹیکس کے کاغذ پر میں وہ لوئر مڈل کلاسیا نظر آئے۔ موجودہ حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی ایک ٹیکس ریفارمز کمیشن بنایا۔ اس نے اس سال فروری میں جو رپورٹ پیش کی اس کا مختصر ترین خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام کا جھکاؤ واضح طور پر اشرافیہ کی جانب ہے۔ زیادہ تر ٹیکس بلاواسطہ انداز میں عام آدمی کی کمر پر لاد دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے سفارش کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جگہ ایک خود مختار نیشنل ٹیکس ایجنسی قائم کی جائے جسے تمام مستثنیات ختم کر کے بلاامتیازِ ادارہ و فرد ہر اس پاکستانی شہری کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا اختیار ہو جو ٹیکس ایجنسی کی جمع کردہ معلومات کی بنا پر ٹیکس دینے کا اہل سمجھا جائے۔ یہ ایجنسی تمام وفاقی و صوبائی ٹیکس جمع کرنے کی مجاز ہو تاکہ کنفیوژن ، ڈپلی کیشن اور چور دروازہ بند ہو سکے۔ حکومت چاہتی تو ان سفارشات کو موجودہ بجٹ کا حصہ بنا سکتی تھی مگر ٹیکس ریفارم کمیشن کی سفارشات ہنوز زیرِ غور ہیں۔
ابھی تو حکومت کو پراپرٹی ٹیکس کے نئے چارٹ اور بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس پر ہی نان ٹیکس پے ایبل اشرافیہ کی خفگی کا سامنا ہے۔ اس اشرافیہ کی خفگی جسے اپنے ملک پر اس قدر اعتماد ہے کہ دبئی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کے مطابق پچھلے ڈھائی برس کے دوران بھارتی اور برطانوی سرمایہ کاروں کے بعد دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری پاکستانیوں نے کی۔ یعنی تقریباً چھ ہزار پاکستانیوں نے اس عرصے میں اٹھارہ ارب درہم (پانچ سو بارہ ارب روپے) کی املاک خریدی ہیں۔ اللہ جانے یا ایف بی آر جانے کہ یہ چھ ہزار پاکستانی پاکستان کے اندر کتنا ٹیکس دیتے ہیں اور ان میں سے کتنوں کے نام دس لاکھ چوہتر ہزار ٹیکس دہندگان کی جاری کردہ ڈائریکٹری میں شامل ہیں۔ (ذرا ملاحظہ فرمائیے، بیس کروڑ کی آبادی میں ڈائریکٹ ٹیکس بھرنے والوں کی تعداد دس لاکھ چوہتر ہزار)۔

پہلے تو کچھ لوگ جانتے تھے اب تو اندر باہر سب ہی طرح کے لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستانی اشرافیہ ملک و قوم سے اور پھر اپنی ذات سے کس قدر مخلص ہے۔ گزشتہ ماہ اخبار بزنس ریکارڈر نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے پاکستان پروگرام ڈائریکٹر مارک آندرے فرانشے کا ایک چشم کشا انٹرویو شایع کیا۔ مارک پاکستان میں چار برس گزار کے واپس جا چکے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں بنیادی تبدیلیوں کے امکانات پر یہ رائے دی کہ ’’ملک میں اس وقت ہی بدلاؤ آ سکتا ہے جب بااثر ادارے اور لوگ، امرا اور سیاستدان اپنے قلیل المیعاد مفادات کی قیمت پر اجتماعی و قومی مفاد کو ترجیح دینے کے بارے میں سوچیں‘‘۔ 

بقول مارک ’’ایسی اشرافیہ تا دیر نہیں چل سکتی جو دولت کمانے کے لیے تو سستی ان پڑھ لیبر کی ناواقفیت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے مگر اپنی پارٹیاں لندن میں، شاپنگ دبئی میں اور جائداد یورپ و امریکا میں رکھے۔ اشرافیہ کو بالاخر فیصلہ کرنا ہو گا کہ انھیں یہ ملک چاہیے یا نہیں‘‘؟۔ مارک نے بتایا کہ ’’مجھے ان لوگوں کے گھروں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا جو صدیوں سے جاگیردار ہیں۔ مگر جنہوں نے آج تک پانی کے بھی پیسے نہیں دیے اور جن کا دار و مدار لوگوں کی جبری مشقت پر رہا ہے۔ اور پھر یہی لوگ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں آ کر کہتے ہیں کہ آئیے آپ ہمارے علاقے، ہمارے ضلع میں تعلیم، صحت و صفائی اور پانی کی فراہمی کے شعبوں میں پیسہ لگائیں۔ مجھے یہ دیکھ کر نہایت افسوس ہوتا ہے‘‘۔ مارک نے کہا کہ ’’آج دو ہزار سولہ میں بھی پاکستان کی اڑتیس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ اس ملک کے کئی اضلاع پسماندہ ترین افریقی ممالک جیسے ہیں۔ فاٹا کے لوگ ایسے قوانین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جو ستہرویں صدی کی یاد دلاتے ہیں۔ ہزار میں سے چھیاسٹھ بچے یا مائیں دورانِ زچگی مر جاتے ہیں اور یہ تناسب دنیا کے سب سے زیادہ پسماندہ ممالک کے برابر ہے۔ مگر اشرافیہ نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ خود کو بڑے بڑے دروازوں اور دیواروں کے پیچھے محصور کر لو تاکہ نظر ہی نہ پڑے۔

ایک جانب لوگوں کی بے ترتیب آبادیاں ہیں اور دوسری طرف بڑے بڑے شاپنگ مالز جہاں عام آدمی قدم رکھتے ہوئے گھبراتا ہے۔ کیا یہ ایسا سماج ہے کہ کوئی بھی اپنے بچوں کو مسلسل رکھنا پسند کرے؟ تعلیم اور روزگار کے مواقع میں ایک خوفناک اپارتھائیڈ نظر آتا ہے۔ چنانچہ جس نوجوان کو موقع مل رہا ہے ملک چھوڑ رہا ہے۔ فوری بغاوت کے آثار نہیں البتہ ایسی صورتحال بتدریج بن رہی ہے جس میں چالیس فیصد آبادی کو مسلسل غربت پر راضی رکھنا مشکل تر ہوتا جائے گا‘‘۔
مارک نے کہا کہ ’’میڈیا چاہتا تو جمہوریت اور احتسابی عمل کو استحکام دینے اور عوامی شعور کی سطح بلند کرنے کے لیے اپنی آزادی اور طاقت استعمال کر سکتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے حکومت کا فوج پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے اور میڈیا بھی طاقتور مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف جمہوریت بلکہ آگے چل کر ملک کے بنیادی اداروں کی جڑیں بھی کمزور ہوتی چلی جائیں گی‘‘۔
اگر میں خود اپنی آنکھوں سے نہ پڑھ لیتا کہ یہ باتیں یو این ڈی پی پاکستان کا سبکدوش ہونے والا چیف مارک آندرے فرانشے کر رہا ہے تو میرا پہلا دھیان اس جانب ہوتا کہ کوئی پرانے انداز کا کھڑتل کیمونسٹ اپنی فرسٹریشن نکال رہا ہے۔ لیکن ذرا سوچئے! کیا واقعی پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مارک جیسا کوئی محتاط بین الاقوامی سول سرونٹ بھی ناقدانہ جائزہ لینا شروع کرے تو یوں لگے گویا کارل مارکس انیسویں صدی  کی بے حس یورپی اشرافیہ کے بارے میں کچھ کہہ رہا ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر تو بقول جون ایلیا ،

کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے

وسعت اللہ خان 

No comments:

Powered by Blogger.