Header Ads

Breaking News
recent

سارے دوست چلے گئے اب کیا کہوں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ 11 سالوں سے بار اور بینچ مسلسل
حملہ آوروں کے نشانے پر ہے۔ اس عرصے میں پر تشدد واقعات میں تین ججز اور 41 سے زیادہ وکلا ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور نگاہیں اور انتظامی گرفت روز بروز مضبوط ہونے کے باوجود دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگز کا سلسلہ رک نہیں پایا۔

کوئٹہ میں وکلا اور ججوں پر حملوں کی ٹائم لائن

فروری 2007 میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کمرہ عدالت میں موجود سینیئر سول جج عبدالوحید درانی اور چھ وکیلوں سمیت 11 افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سات جولائی 2008 کوئٹہ میں جان محمد روڑ پر نامعلوم حملہ آوروں نے وکیل غلام مصطفیٰ قریشی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان کا تعلق اہل تشیع فرقے سے تھا۔

چھ ستمبر 2010 کو کوئٹہ کے وکیل زمان مری کی گولیوں سے چھلنی لاش مستونگ سے ملی تھی انھیں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا، اسی طرح کوئٹہ سے ہی لاپتہ وکیل علی شیر کرد کی تشدد شدہ لاش 24 ستمبر 2010 خضدار سے ملی تھی۔
30 اگست 2012 کو کوئٹہ میں واقع منیر مینگل روڈ پر سیشن جج ذولفقار نقوی ان کے گارڈ اور ڈرائیور کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ چار اپریل 2013 کو سابق ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان صلاح الدین مینگل کو سریاب روڈ سے اغوا کیا گیا اور تقریباً ایک ماہ بعد ان کی بازیابی عمل میں آئی تھی، ان کی رہائی کے لیے تاوان طلب کیا گیا تھا۔

دو سال کے وقفے کے بعد 20 جون 2014 کوئٹہ کے جناح ٹاؤن میں فائرنگ کے ایک واقع میں ماحولیات سے متعلق ٹربیونل کے جج سخی سلطان ہلاک ہوگئے۔

11 نومبر 2014 انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نظیر لانگو ایک بم حملے میں محفوظ رہے۔ اس واقع میں ایک شخص ہلاک اور 20 افراد رخمی ہوگئے تھے۔

آٹھ جون 2016 کو سپن روڈ پر بلوچستان لا کالج کے پرنسپل بیریسٹر امان اللہ 
اچکزئی کو حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، اسی طرح تین اگست کو ایڈووکیٹ جہانزیب علوی کو فیصل ٹاؤن میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

8 اگست کو بلال انور کاسی منوجان روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے، جن کی لاش جب سول ہپستال پہنچائی گئی تو خودکش حملہ کیا گیا، جس میں تاحال بار کے صدر باز محمد کاکڑ سمیت کم از کم 34 وکلا ہلاک ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو وہ ہسپتال میں موجود تھے۔ صدمے سے دوچار سینیئر وکیل کا کہنا تھا کہ ’سارے دوست چلے گئے، جونیئر چلے گئے، وکلا کی ایک بہت بڑی تعداد ختم ہوگئی اب کیا کہوں۔ پہلے خدشات تھے لیکن اب تو عملی طور پر ہوگیا۔‘ کوئٹہ میں ججز اور وکلا پر حملوں اور ہلاکتوں پر انسانی حقوق کمیشن بھی اپنے خدشات کا اظہار اور سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات پیش کرچکا ہے۔
 
کمیشن کے صوبائی صدر طاہر خان کے مطابق وکلا کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس انٹیلیجینس معلومات ہوتی ہے، ان کے پاس جن کی معلومات آتی ہے ان کو پکڑ لیں اور اگر کسی سے مالی معاونت ہو رہی ہے تو اس کو تلاش کیا جائے۔ ’کبھی ضرب عضب تو کبھی قومی ایکشن پلان ان میں کامیابی حاصل کیوں نہیں ہوتی، یہ عناصر کیسے بچے ہوئے ہیں، ان کے لیے سنگین اقدامات کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘ تجزیہ نگار فرید کاسی کے اس حملے میں چھ رشتے دار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا واقعہ اس لیے بڑا ہے کہ جو حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’یقیناً صورتحال بہتر ہو رہی ہے لیکن اس قسم کے واقعات کا ہونا بھی تو اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔‘
 
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


No comments:

Powered by Blogger.