Header Ads

Breaking News
recent

ڈرون حملے کیسے کیے جاتے ہیں؟ وائٹ ہاؤس کی خفیہ 'پلے بُک'' جاری

امریکی حکومت نے ڈرون حملوں کے اہداف کے انتخاب اور ان کے فیصلے سے
متعلق ایک خفیہ پالیسی دستاویز جاری کردی ہے۔ اس کو ''پلے بُک'' کا نام دیا جاتا ہے اور اس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکام جنگ زدہ علاقوں سے باہر ڈرون حملوں کے اہداف کا کس طرح انتخاب کرتے ہیں اور اس انتخاب سے حملے تک صدر کا اس تمام عمل میں کیا بنیادی اور اہم کردار ہے۔ امریکی شہری آزادیوں کی یونین (امریکن سول لبرٹیز یونین اے سی ایل یو) نے ہفتے کے روز اٹھارہ صفحات کو محیط صدارتی پالیسی رہ نمائی ( پی پی جی) کے عنوان سے یہ دستاویز جاری کی ہے۔ اس میں ڈرون حملوں سے متعلق امریکی حکومت کی جانب سے ماضی میں جاری کردہ تفصیل سے کہیں زیادہ انکشافات کیے گئے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ''دہشت گرد قرار پائے اہداف کے خلاف مہلک اقدام سمیت اقدامات جہاں تک ممکن ہو مختصر اور امتیازی ہونے چاہییں''۔ روایتی طور پر صدر براک اوباما کو ذاتی طور پر جنگ زدہ علاقوں سے باہر مقیم مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف حملوں کے منصوبے کی منظوری دینی چاہیے۔ جنگ زدہ علاقوں سے باہر ممالک میں پاکستان ،لیبیا ،صومالیہ اور یمن شامل ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں جیسے عراق ،شام اور افغانستان میں ڈرون حملوں کا کنٹرول امریکی فوج کے پاس ہے۔ ہر کیس کا قانونی جائزہ لیا جاتا ہے۔ پھر اس کو قومی سلامتی کونسل اور پھر صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
پالیسی دستاویز یہ کہتی ہے کہ '' غیرمعمولی حالات کی عدم موجودگی میں ایک اعلیٰ قدری اہمیت کے حامل ہدف پر یہ یقین کرلینے کے بعد ڈرون حملہ کیا جائے گا کہ اس میں کوئی اور عام شہری ہلاک نہیں ہوگا''۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملے کرتے وقت کسی دوسری قوم کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ اے سی ایل یو نے امریکی حکومت کے خلاف ایک قانونی عذر داری میں کامیابی کے بعد یہ دستاویز جاری کی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے وکلاء نے جمعے کی شب یہ دستاویز اے سی ایل یو کے حوالے کی تھی۔ اس یونین کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل جمیل جعفر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس پی پی جی دستاویز سے ان پالیسیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی اموات ہوئیں اور ان میں غیر لڑاکا لوگ بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ اس سے افسر شاہی کے بارے میں بھی پتا چلا ہے جس کو اوباما انتظامیہ نے ان پالیسیوں پر عمل درآمد اور ان کی نگرانی کے لیے مقرر کیا ہوا تھا''۔

اوباما انتظامیہ نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ 2009ء سے 2015ء تک جنگ زدہ ملکوں کے علاوہ دوسرے غیر جنگی علاقوں میں کل 473 ڈرون حملے کیے گئے تھے۔امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ان حملوں میں 64 سے 116 تک عام شہری مارے گئے تھے۔ 2581 جنگجو ہلاک ہوئے تھے لیکن ناقدین مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی حکومت ڈرون حملوں میں مارے گئے شہریوں کی تعداد کو گھٹا کر پیش کررہی ہے اور شہریوں کی اس سے کہیں زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے دعویٰ کیا ہے کہ پی پی جی سے شہریوں کے تحفظ کی کوشش کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ یقین کی حد تک ہدف موجود ہو اوریہ کہ غیر لڑاکا افراد ہلاک نہیں ہوں گے تو پھر ہی ڈرون حملہ کیا جاتا ہے اور یہی ایک اعلیٰ معیار ہے جو ہم مقرر کرسکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ صدر اوباما یہ زور دے چکے ہیں کہ ''امریکی حکومت کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور ان کے نتائج کے معاملے میں جہاں تک ممکن ہو ،امریکی عوام کے ساتھ شفاف ہونا چاہیے''۔ مسٹر نیڈ پرائس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ''ہمارے انسداد دہشت گردی کے اقدامات مؤثر اور قانونی ہیں۔ ان کے قانونی جواز کا بہترین مظہر یہ ہے کہ عوام کو ان اقدامات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باخبر رکھا جاتا ہے اور دوسری اقوام کی پیروی کے لیے بھی ایک معیار مقرر کیا گیا ہے''۔ پی پی جی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مشتبہ دہشت گرد پکڑا جاتا ہے تو پھر اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔اس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ کسی زیر حراست شخص کو کسی بھی صورت میں امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتا نامو بے میں قائم فوجی جیل میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ صدر اوباما اپنے وعدے کے باوجود اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کو بند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

واشنگٹن ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

No comments:

Powered by Blogger.