Header Ads

Breaking News
recent

مقبوضہ کشمیر اور میڈیا کی جنگ

مقبوضہ کشمیر میں 70 افراد کی شہادت نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو
بھی بیان دینے پر مجبور کر دیا ۔ بھارتی فوج کے ہاتھ عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے پرزور مذمت کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کیلئے آپس میں بامقصد مذاکرات کریں ۔ بین الاقوامی میڈیا بلکہ بھارتی میڈیا بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے انسانیت سوز مظالم کو نظر انداز نہیں کر سکا اور بھارتی سیکورٹی فورس کے نئے ہتھیار یعنی پیلٹ (چھروں ) سے چھننی عورتوں اور بچوں کے چہروں اور ان چھروں سے نابینہ ہونیوالے کشمیریوں کی خون سے بھری آنکھوں نے دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

بد قسمتی سے یہ توجہ صرف اسی وقت ملتی ہے جب مقبوضہ کشمیر میں لاشیں گرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر چھپنے والی تصاویر بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو بھی اپنی ساکھ بچانے کیلئے ان واقعات کو رپورٹ کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں افسوس اس بات کا ہے کہ بین الاقوامی اور بھارتی میڈیا ان واقعات کو زیادہ تر پولیس اور بھارتی سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کی حد تک زیر بحث لاتا ہے اور مسئلہ کشمیر کی اصل وجہ اور تاریخ اور اسکے تناظر میں حق خود ارادیت سے متعلق مجرمانہ خاموشی اختیار کرتا ہے ۔ بہت کم ہی کوئی بھارتی صحافی کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر زبان کھولنے کے ہمت کر پاتا ہے ۔ غرض یہ کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی اور بھارتی میڈیا کیلئے ایک کرائم سٹوری یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ایک واقعے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ۔
ہماری پاکستان عوام اور حکومت بھی بین الاقوامی میڈیا میں بھارتی مظالم کی تصاویر اور کہانیاں شائع ہونے پر سمجھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو گیا ہے ۔اگر اسی کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا کہتے ہیں تو اس میں پاکستان کی حکومت نے کبھی کون سا تیر مارا ہے ۔ ہم پاکستان کو کشمیر کا بین الاقوامی وکیل اور آزاد کشمیر کو آزادی کا بیس کیمپ تو کہتے ہیں مگر عملی طور پر کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ چاہے کشمیر فنڈ ہو یا پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی ہم لوگ ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی ترتراہٹ اور عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار پر ہی کیوں جاگتے ہیں ؟ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے پاکستانی حکومت اور میڈیا دونوں ہی اپنا کردار ادا کرنے میں کسی واضح اور ٹھوس حکمت عملی سے محروم ہیں۔

ہماری حکومتوں کی آنیاں جانیاں اور تقاریرپچھلے کئی عشروں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی تکالیف میں کوئی کمی نہیں لاسکی ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری حکومتوں نے آج تک کشمیر کے حوالے سے کوئی ٹھوس میڈیا پالیسی بھی نہیں اپنائی ۔ ہماری کشمیر کے متعلق میڈیا پالیسی سرکاری ٹی وی چینلوں پراپیگنڈا خبروں اور کشمیری زبان کے چند خبرناموں کی خود فریبی سے آج تک باہر ہی نہیں نکل سکی ۔ خود فریبی اس لیے کہ کشمیر پر ہماری سوچ اور میڈیا پالیسی مقبوضہ کشمیر کے عوام اور پاکستانی عوام میں آزادی کی شمع جلائے رکھنے پر ہی مرکوز رہی آج بھی سرکاری پی ٹی وی کے خبرناموں میں کشمیر میڈیا سروس کی خبروں میں بھارتی فوج کے ساتھ مجاہدین کی جھڑپوں اور ان میں کشمیر مجاہدین کی شہادتوں کے اعداد شمار ایک روایتی خبر بن چکے ہیں ۔ 

ہمارے انگریزی ریاستی ٹی وی چینل کا نام یوں تو پی ٹی وی ورلڈ ہے مگر یہاں بھی ترجمہ شدہ خبروں کے زریعے محض پاکستان میں انگریزی سمجھنے والوں کیلئے تفریح کا محدود سامان کیا گیا ہے۔ اس انگریزی ریاستی ٹی وی چینل کی ورلڈ (دنیا) کشمیر کے حوالے سے صرف بھارت اور پاکستان تک محدود ہے، اس چینل کے پوری دنیا میں اہم دارلخلافوں کے نمائندے ہی نہیں جو مقبوضہ کشمیر کی آج کی صورتحال پرامریکہ ، برطانیہ ، یورپ یا بھارت سے رپورٹنگ کرتے اور دنیا کو حق خودارادیت کے حوالے سے کشمیر تنازعے کی تاریخ بتاتے ، سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی بھی کشمیر کے نام سے خبروں کا ڈیسک تو بنا دیتی ہے مگر اسکے پاس بھی کشمیر میڈیا سروس کی جاری کردہ خبریں چلانے اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے کشمیر سے متعلق بیانات چلانے کے علاوہ بیچنے کو کچھ خاص نہیں۔ غرض یہ کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہمارا سرکاری میڈیا دنیا کو اپنا پیغام دینے کی بجائے اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہریوں کا جذبہ ایمانی و جہاد بڑھاتا رہتا ہے۔ 

ہم لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو کشمیر کے مسئلے پر راغب کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے میڈیا کیلئے اصل چیلنج اس مسئلے پر بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنا ہونا چاہیے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں کشمیر پوسٹ کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں کشمیر کی صورت حال پر میڈیا کے کردار پر بات کرنے کا موقعہ ملا۔ راقم نے وہاں بھی اپنی حکومتی میڈیا پالیسیوں اور نجی میڈیا کی بھی اس خود فریبی کا ذکر کیا۔ ہمارے مقابلے میں بھارت نے کمال اور چالاکی سے اپنے صحافتی تعلیمی اداروں کے ذریعے اپنے صحافیوں کو دنیا بھر کے میڈیا کے اداروں میں ملازمت دلوانے کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے عالمی نشریاتی اداروں اور اخبارات میں بھارتی نڑاد صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو بھارتی مفادات کا ڈھکے چھپے انداز میں تحفظ کرتی ہے۔ پاکستان میں ہماری حکومتوں نے جو پیسہ بین الاقوامی لابنگ فرم کی خدمات اور عالمی میڈیا میں اشتہار بازی پر لاکھوں ڈالروں کی صورت خرچ کیا اگر وہی پیسہ پاکستان کی یونیورسٹیوں اور انکے شعبہ جات صحافت پر لگایا جاتا تو آج پاکستانی نژاد صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعداد عالمی اخبارات و نشریاتی اداروں میں پاکستانی مفادات اور مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد کی کم از کم درست عکاسی تو کر رہی ہوتی۔

اب بھی وقت ہے کہ ہماری حکومت اور نجی میڈیا مل کر اس پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ہمارا نجی میڈیا بھی انٹر نیٹ اور سیٹیلائٹ کی بدولت کہلاتا تو بین الاقوامی میڈیا ہے ۔ ہمارے ٹی وی چینل اپنا سگنل خلاء میں سیٹیلائٹ کو تو بھیجتے ہیں مگر ہمارے پروگرام اور خبریں ہمارے بین الاقوامی مفادات کی عکاسی نہیں کر پاتے ۔ مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے علاوہ ہمارے مسلمان ممالک سے بھی سیاسی، سفارتی اور صحافتی مفادات جڑے ہیں اور خاص کر ایٹمی طاقت بننے کے بعد ہمارا مفاد براہ راست بین الاقوامی چالوں کی زد میں آ چکا ہے جس کے بعد ہمارے میڈیا کا عالمی سطح پر موجود ہونا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ بھارت کے درجنوں انگریزی ٹی وی چینلوں کے مقابلے پاکستان میں نجی ٹی وی چینلوں میں سے ایک بھی انگریزی کا ٹی وی چینل نہیں چل سکا ۔ اور پھر ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی رائے عامہ کشمیر پر پاکستان کے حق میں ہونی چاہیے۔ ذرا سوچیں آزاد کشمیرمیں مکمل ہونیوالا حالیہ سیاسی اور جمہوری انتخابی عمل اگر ہمارے کسی انگریز ی ٹی وی چینلوں پر براہ راست رپورٹ ہوتا اور ہم دنیا کے مختلف شہروں میں بیٹھے غیر ملکی ماہرین سے اس پر رائے لے رہے ہوتے تو کیا دنیا کو مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں فرق نظر نہ آتا ؟

مطیع اللہ جان....ازخودی

No comments:

Powered by Blogger.