Header Ads

Breaking News
recent

جولائی میں ’اسلام دشمن‘ ٹویٹس عروج پر

بی بی سی کو ملنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ماہ جولائی
میں دنیا بھر میں ہر روز صرف انگریزی زبان میں تقریباً سات ہزار ’اسلام دشمن‘ ٹویٹس بھیجی گئیں۔ اس کے مقابلے پر اپریل میں ڈھائی ہزار ایسی ٹویٹس کی گئی تھیں، تاہم فرانسیسی شہر نیس میں حملے اور ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ان میں تیزی آ گئی۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک ڈیموس کو ایسے 49 الفاظ اور ہیش ٹیگ ملے جن سے اسلام دشمنی ظاہر ہوتی تھی۔
ٹوئٹر نے اس پر تاحال تبصرہ نہیں کیا۔

ڈیموس نے مارچ اور جولائی میں کی جانے والی ٹویٹس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ایسی 215,247 انگریزی ٹویٹس ہیں جو اسلام دشمن، حقارت آمیز یا نفرت انگیز ہیں۔ یورپ میں سب سے زیادہ ایسی ٹویٹس برطانیہ سے کی گئیں، جب کہ اس کے بعد نیدرلینڈز، فرانس اور جرمنی تھے۔ 15 جولائی ایسا دن تھا جب سب سے زیادہ، یعنی 21,190 ٹویٹس بھیجی گئیں۔ اس سے ایک روز پہلے ایک شخص نے نیس میں ساحل پر موجود لوگوں پر ٹرک چڑھا کر 85 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کہا تھا کہ یہ حملہ اس کے ایک پیروکار نے کیا ہے۔
ایک اور تیزی 17 جولائی کو ترکی میں ناکام بغاوت کے ایک روز بعد دیکھنے کو ملی، جب ایسی 10,610 ٹویٹس بھیجی گئیں۔ اس کے علاوہ 26 جولائی بھی اس حوالے سے سرگرم دن تھا۔ اسی دن فرانس کے شہر روآں میں شدت پسندوں نے ایک پادری کو چرچ کے اندر قتل کر دیا تھا۔ اس کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔  تھنک ٹینک ڈیموس کے ریسرچ ڈائریکٹر کارل ملر نے کہا کہ یہ ٹویٹس اس لحاظ سے پریشان کن ہیں کیوں کہ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ لوگ ’دولت اسلامیہ پر نہیں بلکہ وسیع تر مسلم دنیا پر برہم ہیں۔‘

انھوں نے ان ٹویٹس کو ’نقصان دہ، ضرررساں اور انتہائی بڑے مسئلے کا باعث‘ قرار دیا۔ البتہ انھوں نے کہا کہ برطانوی قانون کے تحت ان کی ’بہت قلیل تعداد ہی کو غیرقانونی کہا جا سکتا ہے۔‘ کارل ملر کے مطابق قانون صرف اس صورت میں ٹوٹتا ہے جب کسی کی زندگی کو واقعی خطرہ ہو، لیکن اس قسم کی دشنام طرازی زد میں زیادہ تر آن لائن افراد ہی آتے ہیں۔ لندن کی ایک 23 سالہ طالبہ رقیہ حارث ٹوئٹر پر خاصی فعال ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں ایسی ٹویٹس ملتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ مسلمان ’یہاں بہت رہ لیے،‘ وہ ’معاشرے میں ضم نہیں ہو سکے،‘ اور وہ ’ہمارے طرزِ زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ نیس جیسے حملوں کی بعد ایسے پیغامات کی شرح میں ’ہمیشہ‘ اضافہ ہو جاتا ہے۔ ’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ میں کیا یا کس کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔ کسی دہشت گردانہ حملے کے بعد میرے پیغامات پر آنے والا ردِعمل کسی نہ کسی طرح اسلام دشمن ہوتا ہے، اور اسلام کو گالی، مجھے گالی یا میرے حجاب کو گالی پر مبنی ہوتا ہے۔ ’چاہے میں کسی بالکل غیرمتعلق موضوع پر بات کر رہی ہوں۔ چاہے میں متاثرین کے خاندانوں کو تعزیتی پیغامات بھیج رہی ہوں۔‘

No comments:

Powered by Blogger.