Header Ads

Breaking News
recent

کس نے کہا تھا ؟ وسعت اللہ خان

گزشتہ پینتیس برس کے دوران افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور بحالی کے سلسلے میں کتنے منصوبے، وارننگز اور بیانات سامنے آئے۔ شائد کسی کو بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ بلکہ ہر  آنے والے برس میں یہ مسئلہ وہ باسی کڑھی ہوتا گیا ہے جس میں کبھی کبھی ایک آدھ ابال آ کے بیٹھ جاتا ہے۔ ملا اختر منصور کی موت، افغان ایران بھارت راہداری اور طورخم بارڈر کی کشیدگی کے سبب ان دنوں پھر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا غلغلہ بپا ہے۔ کہنے کو سرکار ایک ہے مگر پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق سرکاری آرا بھانت بھانت کی ہیں۔ چنانچہ کوئی بھی عام سا سنجیدہ شخص اس سنجیدہ مسئلے کو سنجیدگی سے کیوں کر لے؟
مثلاً بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے فرمایا کہ افغان مہاجرین شرافت سے نہ گئے تو ہم دھکے دے کر نکال دیں گے۔ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل نواز شریف کی اتحادی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ پاکستان افغانیوں کا وطن ہے۔ جب تک چاہیں رہیں۔ کوئی زبردستی نہیں نکال سکتا۔ نواز حکومت کے مشیرِ قومی سلامتی و خارجہ سرتاج عزیز نے گزشتہ ہفتے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ افغان مہاجرین کے کیمپ دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہیں۔

نواز شریف حکومت کے وزیر برائے سرحدی امور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کہتے ہیں کہ پاکستان اب افغان مہاجرین کی میزبانی کا اور متحمل نہیں ہوسکتا۔ ان کی تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے۔ ان کے سبب مقامی بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دس لاکھ سے زائد ملازمتیں اور کام کاج کر رہے ہیں (گویا ہر دوسرا افغان پناہ گزیں برسرِ روزگار ہے)۔ قادر بلوچ کے بقول گورنر خیبر پختون خوا اقبال ظفر جھگڑا کا مشاہدہ درست ہے کہ افغان مہاجرین نہ صرف جرائم میں ملوث ہیں بلکہ خیبر پختون خوا کی معیشت اور ثقافت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس ہاؤ ہو کے مابین وزیرِ اعظم نواز شریف نے ملک میں قانونی طور پر مقیم رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام میں مزید چھ ماہ تک توسیع کر دی ہے حالانکہ ان کی رجسٹریشن دستاویزات تیس جون کو ایکسپائر ہو چکی ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں بھی اس قیام میں اسی حکومت نے چھ ماہ کی توسیع کی تھی۔
مگر کتنے افغان پناہ گزیں رجسٹرڈ ہیں؟
خیبر پختون خواہ کے وزیرِ اطلاعات مشتاق غنی کہتے ہیں کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق صرف ایک لاکھ مہاجرین رجسٹرڈ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اٹھاون ہزار سے زائد پناہ گزیں وطن واپس گئے۔ اس سال اب تلک لگ بھگ چھ ہزار پناہ گزین ہی واپس جا سکے ہیں۔ مشتاق غنی کہتے ہیں کہ ہم انھیں جبراً واپس نہیں بھیجیں گے مگر انھیں واپس جانا ہو گا۔
پاکستان کے بعد سب سے زیادہ افغان پناہ گزین ایران میں مقیم ہیں۔ مگر ایرانیوں نے انھیں شروع دن سے کیمپوں تک محدود رکھا، ان کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی اور باقاعدہ دستاویزی ریکارڈ  مین ٹین کیا۔ لہذا تہران سے ان پناہ گزینوں کی بابت بھانت بھانت کے سرکاری بیانات بہت کم سنائی دیتے ہیں۔

کیا پاکستان کی کبھی کوئی افغان پناہ گزیں پالیسی تھی یا ہے؟ کیا پاکستان میں کسی کو معلوم ہے کہ کل کتنے پناہ گزیں ہیں اور جو کیمپوں میں نہیں وہ کہاں کہاں ہیں۔ اگر رجسٹریشن کا ریکارڈ دیکھا جائے تو شاید پانچ لاکھ بھی نہ ہوں۔ اگر بیانات سے اندازہ لگایا جائے تو شائد اٹھارہ سے پچیس لاکھ کے درمیان ہوں۔ ان میں سے کتنوں کے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بن چکے ہیں؟ وہ کیا کیا کاروبار اور ملازمتیں کر رہے ہیں؟ جو ریاست پچھلے اٹھارہ برس میں اپنے ہی شہریوں کی مردم شماری نہ کر سکی ہو وہ غیرملکیوں کی گنتی کیسے کرے گی؟ جب پوری ریاست ہی اندازوں، تخمینوں، غالباً، شائد جیسے الفاظ پر چل رہی ہو تو کس بیان کو پالیسی بیان اور کس حکمتِ عملی کو سنجیدگی سے لیا جا سکتا ہے؟

شروع شروع میں جب افغان مہاجرین آئے تو انھیں مہاجر و انصار اخوتی جذبے کے تحت کیمپوں میں ٹھہرایا گیا۔ مگر جو موٹی آسامیاں تھے انھیں پشاور اور گرد و نواح میں کاروبار کی بلا روک ٹوک اجازت دی گئی۔ پشاور کی یونیورسٹی روڈ کی آدھی دکانوں پر دری زبان میں سائن بورڈ نصب ہو گئے۔ یونیورسٹی ٹاؤن میں کرائے کا مکان کرائے سمیت مقامی پشاوری کی اوقات سے باہر ہو گیا۔ پھر یہ پناہ گزیں اندرونی علاقوں میں پھیلنے لگے۔ ہزارہ ڈویژن میں مقامیوں سے جنگلات کی کٹائی پر چھٹ پٹ جھڑپوں کی اطلاعات آنے لگیں۔ مقامی باشندے دبی دبی زبان میں ان مہمانوں کو بوجھ کہنے لگے۔ مگر کھل کے بات کرنے کا رواج اس لیے نہیں تھا کہ ضیا الحق سرکار کے لیے یہ پناہ گزیں اور ان کے کیمپ وہ شو کیس تھے جن میں رکھے گئے مظلوموں کو دکھا دکھا کر غیر ملکی مہمانوں سے ہمدردی اور ریالی و ڈالری امداد طلب کی جاتی اور پاکستان کے جذبہِ انسانی ہمدردی، اخوت و خیرسگالی کے قصیدے اسٹیبلشمنٹی کانوں کو بھلے لگتے۔
از قسمِ ولی خان و اجمل خٹک ٹائپ لوگ جب ان پناہ گزینوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے اور کیمپوں سے باہر بسنے بسانے کے عمل پر چیں بہ جبیں ہوتے تو انھیں ملک دشمنی و غداری  و سرخ ایجنٹی  کے طعنے ملتے۔

خیبر پختون خواہ کے بعد افغان پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں پائی جاتی ہے۔ میں نے پچھلے چار عشروں میں سندھ کی دیواروں پر ’’بہاری نہ کھپن‘‘ تو لکھادیکھا مگر ’’افغان نہ کھپن‘‘ایک بھی نہیں دیکھا۔ (ممکن ہے میری نگاہ ہی کمزور ہو)۔ پھر یوں ہوا کہ بادلوں کے پیچھے سے سورج نکل آیا۔ مداری تماشہ دکھا کے روانہ ہوا۔ افغان مہاجرین کی امدادیانہ و خیر سگالیانہ افادیت کم ہوتی چلی گئی۔ اچانک سے محسوس ہوا کہ یہ تو بوجھ ہیں، جرائم پیشہ ہیں، دھشت گرد ہیں، مفتے ہیں۔ آج اہلِ حکومت ان پناہ گزینوں کی شان میں وہ وہ ہجو پڑھ رہے ہیں کہ ضیا الحق کے ہوتے پڑھتے تو اسلام و مسلمان و برادر افغان دشمنی کی پاداش میں راندہ ِ درگاہ ہوتے۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جو کل تک افغانوں کی جوق در جوق آمد کو قومی مفاد کہہ رہے تھے اور آج ان پناہ گزینوں کی جلد از جلد واپسی کو قومی مفاد میں بتا رہے ہیں۔

افغان پناہ گزینوں کی بکثرت واپسی کے لیے سب سے بہترین وقت چھ سالہ طالبان حکومت کا پرامن دور تھا۔ مگر ان چھ برسوں میں مدارس کے طلبا کو تو افغانستان جاتے دیکھا گیا البتہ پناہ گزینوں کو ’’دارلسلام‘‘ کی جانب لپکتے کسی نے نہ دیکھا۔ جو اس دارلسلام کا سیاہ و سفید چلا رہے تھے خود ان کے خاندان بھی پاکستان میں ہی ٹکے رہے ہیں۔ ان حالات میں آپ بھلے اپنا چہرہ کتنا بھی کرخت کر لیں، واپسی کی کتنی ہی ڈیڈ لائنز دے دیں، قیام کی مدت میں توسیع کریں نہ کریں۔ آپ میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ افغان چھوڑ کسی برمی یا سری لنکن کو ہی بھیج سکیں۔ پنجابی کی مثال ہے کہ ہاتھوں سے لگائی گرہ دانتوں سے کھولنی پڑتی ہے۔ 
کس نے کہا تھا پیپسی پینسٹھ کی کر دو

وسعت اللہ خان 

No comments:

Powered by Blogger.