Header Ads

Breaking News
recent

کیا ایسے لوگ قتل کے قابل ہوتے ہیں؟

سعودی عرب کے متعدد شہروں بالخصوص مدینہ منورہ میں خودکش حملوں میں جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانی کا تذکرہ سوشل میڈیا پر اللہ کے مہمانوں کی حفاظت اور میزبانی کرنے والے اہلکاروں کی انسانی خدمت کے مظاہر سے عبارت تصاویر کی تشہیر اور جذباتی تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سیکیورٹی اہلکار اللہ کے مہمانوں کی خدمت بلا تفریق رنگ ونسل اور عمر کرتے ہیں۔

 پیرانہ سال حجاج اور معتمرین جب مقامات مقدسہ کے طویل فاصلوں اور راستوں میں تھک جاتے ہیں تو کبھی یہ باہمت جوان آپ کو ان بزرگوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے نظر آئیں گے اور کبھی انہیں چھتری تلے پانی پلاتے ملیں گے۔ سیکیورٹی کو درپیش خطرات کا خاتمہ کرنے میں یہ جری جوان ایک دوسرے پر سبقت لیجاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں 'یا حج، یا حج' کی پیار بھری آوازیں لگاتے یہ شیر دل دراصل ایسا کر کے دوسرے حاجیوں اور متعمرین کے لئے راستہ مانگ رہے ہوتے ہیں۔

 سعودی عرب جانے والا کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ مقامات مقدسہ کے ہر کونے اور گوشے میں سعودی سیکیورٹی کے جوان اللہ کے مہمانوں کی ہمہ وقت مدد اور تعاون کے لئے چوکس و تیار نظر آتے ہیں۔  العربیہ نیٹ نے سوشل میڈیا پرسیکیورٹی اہلکاروں کی انسانی خدمت پر مبنی مظاہر کو ایک تصویری رپورٹ کی شکل میں یکجا کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی سیکیورٹی اہلکار صرف رمضان اور حج کے دنوں میں سیکیورٹی کے فرائض ہی سرانجام نہیں دیتے بلکہ تکلیف فیما لا یطاق کا مصداق بنے ضیوف الرحمان کی انسانی ضروریات کو بھی پورا کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

 ان قابل تعریف مثبت کاموں کی طویل فہرست میں حرم کی حدود میں افطاری کی تقسیم، معذوروں کی ویل چیئر چلانا، حرمین شریفین میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کا انتظام خصوصیت طور پر نظر آتا ہے۔ یہ سیکیورٹی اہلکار دنیا بھر سے آئے ہوئے فرزندان توحید کی خدمت کو اپنا اولین شعار سمجھتے ہیں۔  زیر نظر تصویری جھلکیاں سیکیورٹی اہلکاروں کی انسانی خدمت کی ایسے منہ بولتے مظاہر ہیں کہ جنہیں دیکھ بے ساختہ منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ "کیا ایسے لوگ قتل کئے جانے کے قابل ہیں!؟"

لأحساء - ابراهيم الحسين




No comments:

Powered by Blogger.