Header Ads

Breaking News
recent

اے سی چلے تو لگتا ہے سر پر ڈرون گھوم رہا ہے

پاکستان میں اغوا کے اس خراب موسم میں ایک ایسے برخوردار سے ملنے کا موقع ملا جو تین سال تک اسیری کی زندگی گزار کر واپس لوٹا ہے۔ قید ایک دن کی بھی ہو تو اچھے اچھوں کو بہت کچھ یاد دلا دیتی ہے لیکن لاہور کے علاقے ڈیفنس میں علی حیدر گیلانی کی رہائش گاہ پہنچا تو انھیں تازہ دم پایا۔ سلام دعا اور مصافحے کے دوران ہی جب ان سے اپنا تعارف کروانا چاہا تو وہ بولے ’میں آپ کو سنتا رہا ہوں، جانتا ہوں۔‘

آخری مرتبہ جب وہ رہائی کے بعد میڈیا کے سامنے آئے تھے تو ان کی داڑھی اور بال لمبے تھے لیکن اب وہ اپنی پرانی حالت میں واپس آ چکے تھے۔ تراشیدہ داڑھی اور بال، سفید شرٹ اور جینز واپسی کی ظاہری علامات تھیں لیکن ابتدائی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ ذہنی طور پر بھی ہشاش بشاش ہیں۔ انھیں دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ زندگی کے انتہائی مشکل تین برس کے آسیب کا سایہ اب ان پر چھایا ہوا نہیں ہے۔ ان سے کبھی پہلے ملاقات کا موقع نہیں ملا تھا لہذا ماضی اور آج کے انداز گفتگو میں فرق کرنا میرے لیے مشکل تھا۔ تین سال کی آپ بیتی سنانے کے دوران بھی زیادہ تکلیف، ملال یا فلیش بیک والی صورتحال نہیں تھی۔ اپنی کہانی سنانے کے دوران اچانک سے کوئی دلچسپ واقعہ یاد آتا تو کہتے ’ارے یہ تو میں بتانا بھول گیا‘ اور پھر وہ واقعہ بیان کرنا شروع کر دیتے۔
ایک جگہ پر تھوڑی تشویش ہوئی جب وہ بولے کہ ’جب ایئرکنڈیشنر چلتا ہے تو ایسا لگتا ہے ڈرون سر پر گھوم رہا ہے۔‘ جو شخص موت کے منہ میں تین برس تک رہا ہو، اسے اتنے قریب سے دیکھا ہو اور ایک بالکل انجان اور سخت علاقے میں اسیری گزار کر آیا ہو ان کے لیے تو یہ نئی زندگی پرمسرت اور خوشگوار ہونی چاہیے۔ میڈیا پلیئر کے بغیر آگے جائیںمیڈیا پلیئر کے لیے مددمیڈیا پلیئر سے باہر۔ واپس جانے کے لیے ’enter کا بٹن دبائیں اور جاری رکھنے کے لیے tab دبائیں۔

انٹرویو سے قبل گپ شپ کا آغاز ہوا تو بتایا کہ القاعدہ کی قید میں وہ باقاعدگی سے بی بی سی اردو سنتے رہتے تھے اور میرے علاوہ بی بی سی اردو سروس کے شفیع نقی جامعی اور شمائلہ جعفری کے نام اب بھی انھیں یاد تھے۔ یہی نہیں بلکہ بی بی سی اردو سے اپنی اور اغوا کاروں کی ایک مشترکہ شکایت بھی کر ڈالی کہ ریڈیو پر نشر ہونے والے سیربین کو نشرِ مکرر ہونا چاہیے۔ انٹرویو بی بی سی اردو کے ٹی وی پروگرام کے لیے ریکارڈ کیا لیکن علی حیدر گیلانی کا سوال تھا کہ یہ انٹرویو ریڈیو پر بھی نشر ہوگا کہ نہیں۔ میری ہاں نے انہیں تسلی دی اور بولے کہ جس علاقے سے وہ آئے ہیں وہاں کے لوگ اسے ضرور سن پائیں۔ معلوم نہیں وہ کیا پیغام اس انٹرویو کے ذریعے وہاں پہنچانا چاہتے تھے۔

پاکستان میں آج کا زمانہ ٹی وی کا سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے ریڈیو سے لگاؤ اور خصوصی دلچسپی سے خوشی محسوس ہوئی کہ ریڈیو اپنی طاقت اب بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے اس کی اہمیت ابھی بھی ہرگز کم نہیں ہوئی ہے۔ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور دیہی علاقوں میں تو آج بھی ریڈیو کا راج ہے۔ دلچسپ واقعات کی تو ان کے پاس کمی نہیں تھی۔ اغوا کاروں کے صحافیوں سے تعلقات سے متعلق ایک واقعہ بھی سنایا کہ اغوا کار انہیں بتاتے تھے کہ وہ جب صحافیوں کو قبائلی علاقوں میں مدعو کرتے تھے تو ان کی خوب خاطر مدارت کرتے تھے۔ انھیں دنبے کا گوشت کھلانے کے علاوہ ہر صحافی کو دس ہزار روپے نقد بھی دیتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید مجھے بھی ایک مرتبہ یہ رقم ادا کی گئی تھی۔ میں نے ہنس کر کہا کہ کھانے پینے کی حد تک تو میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ قبائلی علاقوں میں خوب مہمان نوازی کرتے تھے لیکن وہ دس ہزار روپے مجھے آج تک نہیں ملے۔ معلوم نہیں کون درمیان سے لے اڑا۔ علی حیدر نے کافی تفصیل سے بات کی لیکن یہ بھی واضح طور پر دکھائی دیا کہ وہ کچھ اہم تفصیلات اپنی آنے والی کتاب کے لیے مخصوص رکھنا چاہتے ہیں مثلاً ان کے بدلے جن قیدیوں کی رہائی القاعدہ مانگ رہی تھی وہ کون تھے، پہلے دن سے ان کے ساتھ رہنے والا القاعدہ کا ضیا نامی شخص کیا کردار تھا وغیرہ وغیرہ۔

جس طرح کے حالات میں ان کا اغوا ہوا اور رہائی عمل میں آئی ہے اس پر کتاب تو کیا فلم بھی بن سکتی ہے۔ انھوں نے اس بارے میں بھی ہالی وڈ کے کسی پروڈیوسر سے بات چیت کی تصدیق تو کی اور یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ سٹیون سپیلبرگ نہیں ہیں۔

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

No comments:

Powered by Blogger.