Header Ads

Breaking News
recent

یورپی یونین سے اخراجِ برطانیہ کے بعد پاکستان پر اثرات

کل تک یورپی یونین (EU) یورپ کے 28 ملکوں پر مشتمل ایک جغرافیائی، سیاسی، تجارتی، سماجی اور مالی اتحاد تھا جس میں (1) آسٹریا۔۔۔(2) بلجیم۔۔۔(3) بلغاریہ۔۔۔(4) کروشیا۔۔۔ (5) قبرص ۔۔۔ (6) چیک ری پبلک۔۔۔(7)ڈنمارک ۔۔۔(8) اسٹونیا۔۔۔(9) فن لینڈ۔۔۔ (10) فرانس۔۔۔(11) جرمنی۔۔۔(12) یونان۔۔۔(13) ہنگری۔۔۔(14) آئرلینڈ ۔۔۔(15) اٹلی۔۔۔(16) لٹویا۔۔۔ (17)لیتھونیا۔۔۔ (18) لکسم برگ ۔۔۔(19) مالٹا ۔۔۔(20) ہالینڈ ۔۔۔ (21) پرتگال۔۔۔ (22)رومانیہ۔۔۔(23) سلوواکیا۔۔۔ (24) سلوینیا ۔۔۔(25) سپین۔۔۔(26) سویڈن۔۔۔ (27) پولینڈ۔۔۔ اور(28) برطانیہ شامل تھے۔۔۔

قارئین یہ بات نوٹ کریں گے کہ یہ دفاعی اتحاد نہیں تھا کہ یورپ کے دفاعی اتحاد کا نام ناٹو ہے اور اس کے اراکین کی تعداد بھی 28 ہے جس میں امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ باقی تمام ممالک براعظم یورپ کے ممالک ہیں۔ EUاور NATO میں ایک فرق تو یہی ہے کہ ان میں سے ایک سراسر دفاعی اتحاد ہے اور دوسرا سراسر غیر دفاعی ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ناٹو میں صرف ایک ہی مسلم ملک (ترکی) شامل ہے جبکہ ترکی کو EU میں بار نہیں مل سکا۔ آپ نے شائد یہ بھی محسوس کر لیا ہوگا کہ ترکی کو EU میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ اگر نہیں کیا تو سن لیجئے کہ وہ ایک تو اسلامی ملک تھا اور دوسرے اس کا بڑا حصہ ایشیا میں تھا، یورپ میں نہیں جبکہ EUکے دوسرے ممالک عیسائی تھے (اور ہیں)۔عیسائیوں کے جتنے بھی مذہبی فرقے ہیں ان کی نمائندگی EU میں ہے لیکن مسلمانوں کے کسی بھی مذہبی فرقے کی نمائندگی اس تنظیم میں نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے؟۔ یہ سوال ایک گلوبل سٹرٹیجک لیول سے منسلک سوال ہے اس لئے اس پر بحث کرنا ہم پاکستانیوں کی افسردگی کا باعث تو ہو سکتا ہے، خوشدلی کا نہیں۔
یورپی یونین کاباقاعدہ ایک ہیڈکوارٹر تھا، پارلیمنٹ تھی، باقاعدگی سے اجلاس ہوتے تھے، کرنسی ایک تھی، آپس میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی،کوئی ویزا اور کوئی پاسپورٹ نہیں تھا، ایک ملک کے شہری کو وہ ساری شہری اور سماجی مراعات حاصل تھیں جو کسی دوسرے EU کے ملک کو تھیں۔ یہ تنظیم 1973ء میں وجود میں لائی گئی تھی اور آج اس کو 43برس (یعنی تقریباً نصف صدی ) گزر چکی ہے۔ اس میں فرانس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی (کسی حد تک) بڑے بڑے ممالک تھے اور باقی ’’کچرا‘‘ تھا۔ سوال یہ ہے کہ برطانیہ کو 43سال بعد کیا ضرورت پڑی کہ وہ EU سے علیحدہ ہو جائے؟۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر میڈیا میں کالم لکھے جا رہے ہیں، ایڈیشن پر ایڈیشن نکل رہے ہیں، تبصروں کا طومار باندھا جا رہا ہے اور تجزیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ آپ یہ سب کچھ آنے والے دنوں میں بھی پڑھتے،سنتے اور دیکھتے رہیں گے۔ گلوبل میڈیا(خاص طور پرمغربی میڈیا) آنے والے کئی ماہ تک اسی موضوع کے گرد گھومتا اور اپنے قارئین و ناظرین کو گھماتا رہے گا۔

میرے ذہن میں اس وقت جو سوالات ابھر رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس برطانوی اخراج کا فال آؤٹ پاکستان پر کیاپڑے گا؟ ہماری معیشت کہاں تک متاثر ہوگی؟ ہماری درآمدات اور برآمدات کے مثبت اور منفی اشارے (Index) بعد از اخراج کیا ہوں گے؟۔ اس پر بھی الا ماشا اللہ ہمارے میڈیا میں ’’دنگل‘‘ شروع ہو چکا ہے؟۔

میں پرسوں کسی چینل پر ایک ٹاک شو دیکھ رہا تھا جس میں اینکر اپنے مہمانوں سے بار بار یہ سوال پوچھ رہے تھے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے تو مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے ،ہمارے وزیراعظم کے کیا ارادے ہیں؟ کیمرون کی رائے کو ریفرنڈم میں صرف ایک ڈیڑھ فیصد آبادی کی مخالفت کی وجہ سے شکست ہوگئی اور انہوں نے تو فوراً 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے سامنے آکر اعترافِ شکست کر لیا اور کہا کہ وہ مستعفی ہو رہے ہیں لیکن پاکستان کو دیکھئے۔ ہمارے وزیراعظم جانے کا نام نہیں لیتے۔ اس چینل نے حسبِ معمول تحریک انصاف، پی پی پی اور نون لیگ کے نمائندوں کوبلوایا ہوا تھا اور باری باری ان سے ایک ہی سوال پوچھ رہے تھے کہ کیمرون نے تو لندن میں بیٹھے جھٹ استعفے دے دیا ہے لیکن نوازشریف صاحب، لندن میں بیٹھ کر بھی ریموٹ کنٹرول سے پاکستان کو چلا رہے ہیں ۔ یہ کیا تماشا ہے؟ کیا برطانیہ میں کوئی اور قسم کا طرزِحکومت ہے اور پاکستان کی جمہوریت کی ’’نسل‘‘ کوئی دوسری ہے؟۔ میں اینکر کے لوڈڈ سوالات کوبغور سن رہا تھا۔ ہر شریکِ مباحثہ کا پوائنٹ سننے کے بعد اینکر کی تان اسی سوال پر جا کر ٹوٹ رہی تھی کہ ہمارے جمہوری وزیراعظم، برطانیہ کے جمہوری وزیراعظم کی پیروی کیوں نہیں کررہے؟

پھر پی پی پی کے سینیٹر مانڈوی والا صاحب نے ایک اور نکتہ بھی اینکر موصوف کو دے دیا اور فرمایا کہ برطانوی پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت نے تو اپنے وزیراعظم کے حق میں ووٹ دے دیا تھا کہ برطانیہ کو EUمیں شامل رہنا چاہیے اور Brexit کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ لیکن اس ریفرنڈم نے پارلیمانی اکثریتی فیصلے کی بھی نفی کر دی۔ گویا یہ ریفرنڈم برطانوی عوام کا وہ فیصلہ ہے جو دو برس قبل والے ان کے اپنے انتخابی فیصلے سے ماورا ایک اقدام ہے۔ جس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ اگر کسی جمہوری دورِ حکومت کے بیچ میں کوئی ایسا وقت آئے یا کوئی ایسا مسئلہ کھڑا ہو جائے جس میں ملک کے عوام کو از سر نو فیصلے کی ضرورت پڑے تو قبل از وقت الیکشن کی بجائے ریفرنڈم کرا لینا ایک جمہوری روائت ہوگا۔ میں پاکستان کے ریفرنڈم کی روائت میں جا کر قارئین کو بدمزہ نہیں کرنا چاہتا کہ یہی ریفرنڈم پاکستان نے بھی کروایا تھا اور ہم سب جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا تھا۔ چنانچہ الیکشن ہو یا ریفرنڈم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق اگر پڑتا ہے تو برطانوی عوام کے اس کردار سے پڑتا ہے جو ہم جیسی نو آموز(اور گاودی) قوم کے عوام کے کردار کے درمیان مابہ الامتیاز ہے!

دولت مشترکہ (انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلیز اور شمالی آئرلینڈ) کا کوئی تحریری آئین نہیں۔ سب کچھ روایات پر چلتا ہے۔ برطانیہ کا ہر باشندہ اپنی ذات میں ایک آئین ہے، اسے کسی تحریری پمفلٹ کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ اس کے دماغ میں موجود ہے۔ ایک ہی گھر میں خاوند کسی اور پارٹی کو ووٹ دیتا ہے تو بیوی کسی اور کو۔ ایک بالغ بہن اگر لبرل پارٹی کے ساتھ ہے تو دوسری قدامت پسند پارٹی کے ساتھ ۔  لیکن کیا ہمارے پاکستان میں یہ جمہوری آزادیاں کسی کنبے کو حاصل ہیں؟ ۔ یہاں تو قوموں، برادریوں، ذاتوں، مسلکوں، زمینداریوں، جاگیرداریوں، گدیوں، زبانوں اور بولیوں (Dialects) تک کو ووٹ دیئے جاتے ہیں، انسانوں کو نہیں۔ ہمارے عوام اور برطانیہ کے عوام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ لوگ صد ہا سال سے ایک سیاسی نظام سے گزرے ہیں۔ شرح خواندگی 90،95 فیصد سے اوپر ہے۔ گزشتہ صدی بلکہ 19 ویں صدی میں جنگ و جدال کے کئی گردابوں کو انہوں نے جھیلا ہے، اپنے اردگرد وحشتوں، بربادیوں اور انسانی رشتوں کی رداؤں کو تار تار ہوتے دیکھا ہے اور دوسری طرف ہم پاکستانیوں نے کیا دیکھا ہے؟۔  صرف 1965ء کی جنگ کے 17 روز اور بس ۔  دوسری عالمی جنگ میں پہلے ہٹلر کی نازی افواج نے سارے یورپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 1939ء سے 1942ء بلکہ 1943ء تک یورپی ممالک کے گلی کوچے محوری افواج کی فضائی، بحری اور زمینی گولہ باریوں سے لرزتے رہے اور ریزہ ریزہ ہو گئے اور پھر 1943ء سے اوائل 1945ء تک ایک بار پھر پورے یورپ نے اتحادیوں کی گولہ باری کا منظر دیکھا۔ یعنی اس جنگ کے چھ برسوں میں یورپ کے قریئے قریئے اور کوچے کوچے کو دو بار مسمار اور برباد کیا گیا۔

ایک بار محوریوں نے اور دوسری بار اتحادیوں نے ۔ لیکن کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب یورپ میں یہ جنگ اختتام کو پہنچی تو محض ایک ڈیڑھ عشرے ہی میں سارا یورپ از سرِ نو دمک اٹھا۔ اب کی بار اس کی تعمیر نو میں جدید ترین تعمیراتی ٹیکنالوجی اور شہری اور سماجی تزین و آرائش کی جدید ترین سہولتوں اور ایجادوں سے کام لیا گیا۔ ہم پاکستانی بھلا ان یورپی اقوام کا کیا مقابلہ کریں گے؟ نجانے ٹیلی ویژن کے اینکر حضرات کو معلوم ہے یا نہیں کہ تشبیہِ سادہ تشبیہِ مرکب کے اجزائے لازم کیا ہوتے ہیں۔  نجانے یہ حضرات برطانیہ اور پاکستان کو ایک ہی پلڑے میں کیوں ڈال دیتے ہیں؟ اور ڈیوڈ کیمرون کو میاں نوازشریف کا ہمسر کیوں گردان لیتے ہیں؟ اور برطانوی عوام اور پاکستانی عوام میں تجربے اور سیاسی دانش و بینش کا جو فرق ہے اس کا احساس کیوں نہیں کرتے؟ ایک عام پاکستانی شہری کو برطانوی شہری کے مماثل قرار دے لینا اور دونوں کو یکساں پیمانے سے ناپنا ایک غلطی نہیں، بلنڈر ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تشبیہات و مماثلات کے تقاضوں کو سمجھا کریں۔ اگر ڈیوڈ کیمرون نے اس ریفرنڈم کے نتائج کی بنا پر استعفیٰ دے دیا ہے تو پاکستانی ریفرنڈم میں بھی صدر پاکستان نے یہی کیا تھا اور اپنی کرسیء صدارت ’’برقرار‘‘ رکھی تھی۔ دیکھیں تو دونوں ریفرینڈموں کے فیصلے درست ہیں لیکن برطانوی ریفرنڈم اور پاکستانی ریفرنڈم میں جو فرق ہے وہ وہی ہے جو کڑاہی گوشت اور ارہر کی دال میں ہے!

اس برطانوی ریفرنڈم سے چند روز پہلے امریکی صدر اوباما نے برطانوی عوام کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر انہوں نے "leave" کو ووٹ دیا تو اس کے نتائج ان کے لئے ’’بہتر‘‘ نہیں نکلیں گے یعنی بہتر یہی ہے کہ "Remain" کو ووٹ دیں۔ کون نہیں جانتا کہ اس ایک دھمکی میں امریکی ڈیموکریٹس کے بہت سے عزائم مضمر تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر ری پبلکن کی ترجمانی کر دی کہ اس ریفرنڈم سے برطانیہ صحیح معنوں میں آزاد ہو گیا ہے۔ ان کا یہ بیان بے شک سیاسی بیان ہی ہوگا لیکن اس کا اثر امریکی رائے عامہ پر پڑنا ناگزیر ہے۔

پاکستان پر برطانیہ کے EU سے نکل جانے سے کیا اثرات پڑیں گے اس موضوع پر تبصرہ کرنا ہمیں اس وقت زیب دیتا جب پاکستان بھی فرانس اور جرمنی کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی قد کاٹھ کا ملک ہوتا۔ ہم پاکستانی تو Receiving End پر ہیں اور نجانے کب تک رہیں گے۔ ہم پر اس اخراجِ برطانیہ کے جو اثرات پڑیں گے اس کی مثال چھری اور خربوزے سے دی جا سکتی ہے۔ خربوزہ خواہ چھری کے نیچے ہو یا اوپر اس سے کیا فرق پڑے گا؟

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

No comments:

Powered by Blogger.