Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانیوں کی اکثریت اسلامی قوانین کی حامی

 ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 78 فیصد پاکستانی ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں بنائے جانے کی 'سختی سے حمایت' کرتی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر نے مسلم اکثریتی دس ممالک میں ایک سروے کیا گیا جس میں لوگوں سے ان کے ملک میں نافذ قوانین کو اسلام تعلیمات کے مطابق بنانے' کے حوالے سے رائے لی گئی۔
سروے میں پوچھا گیا کہ ان میں سے کون سے بیان کی حمایت کرتے ہیں:
آپ کے ملک کے قوانین سختی سے قرآن کی تعلیمات کی پیروی کریں؟
آپ کے ملک کے قوانین اسلام کے اصولوں کی پیروی کریں لیکن قرآن کی تعلیمات کی سختی سے پیروی نہ کریں؟

ملکی قوانین میں قرآن کی تعلیمات کا اثر نہیں ہونا چاہیے؟
سروے میں پاکستان، فلسطین، اردن، ملائشیا اور سینیگال میں نصف سے زائد آبادی نے ملکی قوانین کی قرآن کی روشنی میں سختی سے پیروی کی حمایت کی۔
پاکستان کے 78 فیصد افراد نے 'سختی' سے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنے کی حمایت اور 16 فیصد نے اسلامی قوانین کی حمایت تو کی مگر 'سختی' کی مخالفت کی۔ سروے میں صرف 2 فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں نہیں بنائے جانے چاہیے۔
دوسری جانب برکینو فاسو، ترکی، لبنان اور انڈونیشیا میں سروے میں شامل افراد کی ایک چوتھائی یا اس سے بھی کم تعداد نے اسلامی قوانین کی حمایت کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم اکثریتی ترکی کی صرف 13 فیصد افراد نے ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کی حمایت کی۔ تاہم، حیرت انگیز طور پر سروے میں سعودی عرب اور ایران کو شامل نہیں کیا گیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔
 
اس حوالے سے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمال نے ڈان کو بتایا کہ مذہب کو ممکنہ طور پر قانون سازی کرتے ہوئے دور رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مذہبی تعلیمات قانون سازی پر اثرانداز ہوں گی تو قرآن کریم کی تعلیمات اصل معنوں میں نافذ کی جائیں جن میں امن اور بھائی چارے کی بات کی گئی ہے۔
 
اس سروے میں مجموعی طور پر 10194 افراد کی رائے لی گئی جن میں مسلم اور غیر مسلم شامل ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.