Header Ads

Breaking News
recent

ویب پیج کو برق رفتاری سے لوڈ کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایک ٹیکنالوجی وضع کی ہے جو پیچیدہ اور بڑی ویب سائٹ کے ویب پیچز بھی ایک تہائی کم وقت میں لوڈ کردے گی اور اس سے انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آجائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کا نام ’’پولارس‘‘ رکھا گیا ہے جو پیچ پر موجود مختلف اشیا کے درمیان کنیکشنز اور روابط کو دیکھتے ہوئے کم سے کم مدت میں پیچ لوڈ کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے ایک طالب علم کے مطابق ایک چھوٹے ڈیٹا کو اپنے سرور سے موبائل نیٹ ورک تک آنے میں 100 ملی سیکنڈ لگتے ہیں اور اگر پیج زیادہ بھرا ہوا اور پیچیدہ ہو تو یہ وقت اسی لحاظ سے بڑھتا جاتا ہے۔

اس پروجیکٹ پر ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ کام کیا ہے اور دنیا کی 200 مشہور ویب سائٹس کا جائزہ لیا ہے۔ براؤزر پہلے نیٹ ورک پر جاتا ہے اور مختلف آبجیکٹ ( اشیا) کو براؤزر پر ظاہر کرتا ہے جن میں ایچ ٹی ایم ایل فائلز، جاوااسکرپٹ اور دیگر سورس کوڈ شامل ہیں۔ اس دوران براؤزر تمام آبجیکٹ کا جائزہ بھی لیتا رہتا ہے۔ براؤزر جس ترتیب سے آبجیکٹ جمع کرتا ہے اسی رفتار سے ویب پیچ لوڈ ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف بے ترتیبی کی صورت میں براؤزر کو بار بار نیٹ ورک پر جاکر آبجیکٹ کال کرنے ہوتے ہیں۔
اب اگر براؤزر کو تمام آبجیکٹ ترتیب وار معلوم ہوں تو یہ وقت کم ہوجاتا ہے اوریہی کام پولارس کرتا ہے اور ویب پیجز بہت تیزی سے اپ لوڈ کرتا ہے۔ اس طرح گوگل اور ایمیزون جیسی کمپنیوں نے بھی کئی طریقوں سے اپنے پیجز کا لوڈ ٹائم کم کرکے اپنے منافع میں اضافہ اور وقت کی بچت کی ہے۔

پولارس کے ذریعے پیچیدہ اور کئی کوڈز والے بھرے ہوئے ویب پیجز لوڈ ہونے کے وقت کو ایک تہائی کم کیا جاسکتا ہے بلکہ موبائل نیٹ ورک کی دنیا میں بھی ایک انقلاب آجائے گا۔

No comments:

Powered by Blogger.