Header Ads

Breaking News
recent

اسرائیل کے ہاتھوں مکانات، امن اور عالمی قوانین کی تباہی

مشرق وسطیٰ میں ایک طرف منجمد کر دینے والا سرد موسم ہے اور دوسری طرف سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں کے مکانات گرانے کی نئی مہم شروع کرنے کے لئے اس سے بہتر موقع نہیں مل سکتا تھا۔ پوری دنیا کی نظریں شام کی جنگ اور امریکی صدارتی انتخابات کی مہم پر لگی ہیں جہاں تمام صدارتی امیدوار اپنی اسرائیلی وفاداری کا ثبوت دینے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔

ایسے میں نیتن یاہو حکومت اگر سیاسی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ صدر اوباما اس وقت اتنے ہی بے پرواہ ہیں جتنا کوئی بھی امریکی صدر اپنی مدت کے اختتام پر ہوا کرتا ہے۔ یورپی ممالک اپنے ہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات کا وقت ہمیشہ ہی فلسطینیوں کے لئے سخت ترین ہوتا ہے کیونکہ اسرائیلی حکومتیں واشنگٹن کی مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر مظالم اور قتل عام کی رفتار بڑھا دیتی ہیں۔
ان حالات میں فلسطینیوں کو لاحق سب سے بڑا خطرہ دنیا کو نظروں سے اوجھل ہے۔ یہ نیتن یاہو کا وہ خطرناک منصوبہ ہے جس کے ذریعے مغربی کنارے کے عین درمیان میں نئی یہودی بستی آباد کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ اس منصوبے پر بہت تیزی سے کام جاری ہے اور اس سال اب تک آٹھ علاقوں میں فلسطینیوں کے مکانات کو زمیں بوس کیا جا چکا ہے۔

مستقبل میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تدارک کے لئے ان مسماریوں کو روکنا ضروری ہے۔ نیتن یاہو کی مخلوط حکومت جس میں آبادکاری کے کاروبار سے وابستہ وزراء کی اکثریت ہے، مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے پھیلأو کے ہر موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔ فلسطینی مکانات کی مسماری اس بزنس کا بنیادی حصہ ہے اور ۱۹۶۷ سے اب تک اسرائیل نے پچاس ہزار سے زیادہ مرتبہ منظم مسماریوں کے ذریعے فلسطینی آبادیاں تباہ کی ہیں۔

اسرائیل نے فلسطینی گھروں کی مسماری کے لئے تین کیٹگریز بنائی ہیں۔ ایک، انتقامی مسماری جو 'دہشت گردی' کے ملزمان کے خاندان کے مکانات گرانے کے لئے کی جاتی ہے۔ دوئم، جن مکانات کے پرمٹ نہیں ہیں۔ تین، ایسے علاقوں میں واقع مکانات جو فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ مثلاً جنوبی الخلیل کے پہاڑی علاقوں کی قدیم عرب بستیاں جو اسرائیل کے قیام سے کئی دہائیوں قبل سے موجود تھیں اس وجہ سے تباہ کر دی گئیں کہ یہ علاقہ اب فائرنگ زون نمبر ۹۱۸ قرار دیا جا چکا ہے۔
 سال ۲۰۱۶ میں اب تک اسرائیل نے شدید ترین سردی کے موسم میں وادی اردن اور مغربی کنارے کے پہاڑیوں کے ساتھ واقع ۱۵۰ سے زیادہ فلسطینی مکانات اور عمارتیں مسمار کر دی ہیں۔

میں نے دسمبر ۲۰۱۳ میں سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کے ساتھ مغربی کنارے اور جنوبی الخلیل کے ان علاقوں کا دورہ کیا تھا جو اب مسمار کئے جانے والے ہیں۔ اس وقت بھی ہماری آمد سے ایک دن قبل اسرائیلی فوج نے وادی اردن میں کئی مکانات کو گرا دیا تھا۔ ان دنوں یہ علاقے ۱۹۵۰ کے بعد سے شدید ترین سردی اور برفانی طوفان کی لپیٹ میں تھے جس کی شدت کا حال یہ تھا کہ قاہرہ میں سو سال بعد برف پڑی تھی۔

 تاہم اسرائیل نے ان غریب کسانوں کی خستہ عمارتوں اور جھونپڑیوں کو سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر مسمار کر دیا تھا اور کئ خاندانوں کو جال لیوا سردی میں بے گھر کر دیا تھا۔ فلسطینی چرواہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ کس طرح پہلے ان کے غاروں اور جھونپڑیوں کو گرایا گیا، پھر ان کو زمینوں سے بے دخل کیا گیا اور پھر ان سے اقوام متحدہ کے فراہم کردہ خیمے بھی چھین کر شدید سردی میں کھلے آسمان تلے بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا۔

 ہم نے بمشکل ۹۰ منٹ ان لوگوں کے ساتھ گزارے مگر سردی ناقابل برداشت تھی اور اس دوران ہماری شدید خواہش تھی کہ ہم کسی طرح اپنی گاڑی کے گرم ماحول میں واپس پہنچ جائیں۔ چرواہوں نے ہمیں وہ پانی کی ٹنکیاں بھی دکھائیں جنہیں یہودی آبادکاروں نے گاڑیوں سے ٹکر مار کر تباہ کر دیا تھا۔
مسماری بطور سزا

اسی ماہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مکانات گرانے کے دوران پانچ سولر پینل بھی قبضے میں لے لئے۔ جن فلسطینیوں کے مکان اور کھیت چھین لئے گئے ہیں، یہاں ان کے لئے خطرات چھت اور روزگار چھن جانے سے زیادہ بڑے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اریحا سے آگے وادی اردن کا تمام علاقہ بالکل خالی کرا لینا چاہتی ہے اور یہاں رہنے والے کسانوں اور بدوؤں کو مغربی کنارے کے وسطی علاقوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔

اسرائیلی سیاستدانوں میں یہ منصوبہ زیر غور رہا ہے کہ کس طرح پوری وادی اردن صرف اسرائیل کے قبضے میں ہونی چاہئے تاکہ یہاں مستقل فوجی اڈے بنائے جا ئیں، خواہ اس علاقے پر قبضے کے لئے کوئی لیز کا معاہدہ بھی کرنا پڑے۔ مزید برآں، اسرائیلی منصوبہ ساز چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کسی ٹوٹی پھوٹی فلسطینی ریاست کی کوئی سرحد نہ دریائے اردن سے نہ مل سکے اور نہ ہی اردن کی زمینی حدود کو چھو سکے، تاکہ وہ دریائے اردن کے پانی کی تقسیم یا اس میں حصہ داری کا مطالبہ نہ کر سکے کیونکہ اسرائیل اس کو اپنی سیکیورٹی کا معاملہ قرار دیتا ہے۔

جنوبی الخلیل کی پہاڑیوں کا معاملہ بھی اسرائیل اپنی سیکیورٹی سے متعلق قرار دیتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ فائرنگ زون ۹۱۸ اور اس سے متصل الخلیل کے مشرق میں تمام علاقے اس کے قبضے میں رہیں تاکہ وادی اردن تک اس کو ایک کوریڈور مل جائے۔ یہ منصوبہ ۱۹۶۷ کی جنگ کے بعد آلون پلان میں بھی شامل تھا اوراب اس راہ میں حائل غریب کسانوں اور بدووں کو ہٹایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ مسماریوں کا شکار اہم علاقہ یروشلم ہے جہاں کے فلسطینیوں کی زندگی کو ہر ممکن حد تک اتنا مشکل بنایا جا رہا ہے کہ وہ خود نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں۔ کسی فلسطینی کے لئے مکان کے پرمٹ کا حصول ناممکنات میں سے ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطابق ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۴ کے درمیان فلسطینیوں کی جانب سے ۲۰۲۰ تعمیراتی پرمٹ کی درخواستوں میں سے صرف ۱۔۵ فیصد کو پرمٹ جاری کئے گئے۔

اسی ماہ سر بہار کے علاقے میں بلجیئم کے حکومت کے تعاون سے یہاں تاریخ کا پہلا کھیل کا میدان بنایا گیا ہے مگر بغیر پرمٹ، چنانچہ اس کی مسماری اور جرمانے کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں یہودی بستیوں می ۳۰ گنا زیادہ کھیل کے میدان موجود ہیں۔

ہمیشہ کی طرح عالمی برادری اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق فلسطینیوں کے ۲۰ فیصد سے زائد مکانات کی مسماری عالمی ڈونر اداروں کے فنڈز سے کی جاتی ہے۔ کیا اقوام متحدہ ان سے مرمت اور معافی کا مطالبہ کرتا ہے؟

یورپی یونین کے ایک ترجمان نے، فیڈریکا موگرینی نہیں، ایک رسمی سا بیان جاری کیا تھا جس میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا بھی کوئی ذکر نہیں تھا۔ یورپی یونین اسرائیلی سیاستدانوں کی سخت تنقید سے پریشان دکھائی دیتی ہے جو اس جرأت کے جواب میں کی جا رہی ہے کہ اس نے اسرائیلی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی گئی مصنوعات پر اسرائیل کے بجائے ان علاقوں کا لیبل لگانے کا حکم دیا ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط جنگی جرائم اور منظم ہٹ دھرمی کے ساتھ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزیوں کے جواب میں یہ حکم کسی طرح بھی کوئی سزا نہیں کہلائی جا سکتی۔

اسرائیل ہٹ دھرمی کے ساتھ کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے ذریعے عالمی برادری کی برداشت کی حدود کا اندازہ لگاتا رہا ہے، جو اس کے اندازوں سے بہت ہی کم اور لچکدار نکلی ہیں۔ مکانات کی مسماری، زمینوں پر قبضہ، یہودی بستیوں کی توسیع میں اضافہ ہوتا جائے گا جس کے لئے اسرائیل دہشت گردی اور اسی طرح کے کئی بہانے بنا لے گا۔ اگر عالمی برادری نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور قوانین پر عملدرآمد پر توجہ نہ دی تو فلسطین میں کبھی نہ تو امن ہو گا اور نہ ہی کوئی امن کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔ اسرائیل روس اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر جو کچھ مسمار کر رہا ہے وہ دراصل بین الاقوامی نظام کی بنیادیں اور ستون ہیں۔

کریس ڈوئلے

No comments:

Powered by Blogger.