Header Ads

Breaking News
recent

کالا باغ ڈیم کی تعمیر… ابھی نہیں تو کبھی نہیں

پاک چین اقتصادی راہداری کی طرح کالا باغ ڈیم کی تعمیر بھی ملک کے چند گھمبیر مسائل میں سے ایک ہے جس کا سامنا ملک کو گزشتہ کئی عشروں سے ہے۔ پاکستان کو صرف کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہی میں مشکلات کا سامنا نہیں رہا بلکہ کچھ اور مسائل و معاملات بھی ایسے ہیں جن کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ابتداء ہی میں طے کر لیا جاتا تو آج ملک کا اقتصادی، سماجی اور سیاسی منظرنامہ بہت مختلف اور بہتر ہوتا‘ مثلاً ملک کا سیاسی نظام صدارتی ہونا چاہیے یا پارلیمانی؟

 نظامِ تعلیم میں میڈیم آف انسٹرکشن اُردو ہونا چاہیے یا انگریزی؟ سیاسی نظام میں فوج کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ قومی لباس کی نوعیت کیا ہو؟ صوبوں کے درمیان مالیاتی امور طے کرنے کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟

مقامی سطح پر حکومتی نظامِ کار ’’بلدیاتی نظام‘‘ کو کس طرح منظم کیا جائے؟ یہ سب ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ہم کسی بیرونی سازش کا بہانہ بنا کر اپنی ذمے داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ یہ سب مسائل نہ تو کشمیر کے مسئلے کی طرح پیچیدہ ہیں نہ ہی ان کا تعلق ہماری خارجہ پالیسی اور عالمی صورتحال سے جڑا ہے۔ یہ سب جھگڑے ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں اور ان کا حل بھی ہم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر باہمی افہام و تفہیم سے ڈھونڈنا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستانی سیاست کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے کہ کسی بھی قومی مسئلے پر تمام سیاستدانوں کا اتفاق رائے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ پاکستان کے قیام کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد اور علیحدہ وطن کے مقصد کو حاصل کرنے میں بھی مسلمانانِ ہند کبھی یک زبان نہ ہوئے۔ ایک طرف تو قائداعظم محمد علی جناحؒ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں مصروفِ عمل تھے اور دوسری جانب بہت سے مسلم سیاستدان مسلم لیگ کی بجائے یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو رہے تھے۔
یہ لوگ آزادی حاصل کرنے کی بجائے اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک ہونے کے لیے بیتاب تھے۔ سیاستدانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے آزادی کے 9 سال بعد 1956ء تک ملک کا آئین نہ بنایا جا سکا۔ سندھ طاس منصوبے پر بھی سیاستدانوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ 1960ء میں بھارت سے ہونیوالے اس معاہدے کو بھی سیاستدانوں نے تنقید کا نشانہ بنایا لیکن کوئی یہ نہ بتا سکا کہ اس معاہدے کے بغیر پاکستان بھارت کو دریاؤں کا رُخ موڑنے سے کس طرح روک سکتا ہے؟ 

صدر ایوب کے اقتدار کے آخری ایام میں جب وہ حزب ِاختلاف کی تحریک کے نتیجے میں انتہائی کمزور ہو چکے تھے اور انھوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ آیندہ انتخاب میں صدارتی امیدوار نہیں ہونگے تو سیاستدانوں میں اتنا اتفاقِ رائے بھی پیدا نہ ہو سکا کہ وہ چند ماہ اور انتظار کر لیتے تا کہ ملک میں اس وقت رائج سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی انتخابات ہو جاتے اور یحییٰ خان کے مارشل لاء کی نوبت نہ آتی۔

اگر بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان اقتدار میں شراکت پر اتفاق رائے ہو جاتا تو مشرقی پاکستان کا سقوط نہ ہوتا اور آج خطے کی سیاسی صورتحال مختلف ہوتی۔ اسی طرح 1977ء میں اگر پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور پی این اے کے سیاستدانوں میں اتفاقِ رائے ہو جاتا تو ضیاء الحق کو 90 دن کے اندر انتخابات کرانے پڑ جاتے اور ملک 11 سال کے مارشل لاء سے بچ جاتا۔ اگر نوازشریف اپنے قریبی سیاستدانوں کی رائے کا احترام کرتے اور پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے ہٹانے کی سعیِ لاحاصل نہ کرتے تو ممکن ہے ہمارا سیاسی نظام آج کہیں زیادہ مضبوط ہوتا۔

آج کے نظام میں سیاستدانوں کو اقتدار تو حاصل ہے لیکن اختیار نہیں۔ ان ہی تاریخی تناظر میں اگر ہم کالاباغ ڈیم کے مسئلے کا جائزہ لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر میں بھی سیاسی اختلافِ رائے کی وجہ سے دیر ہوئی اور ملک میں آبی ذخائر میں کمی کا شدید مسئلہ پیدا ہوا۔ کالا باغ ڈیم منصوبے پر ابتدائی کام کا آغاز 63 سال پہلے 1953ء میں ہوا‘ اس وقت اس منصوبے پر کسی کو اعتراض نہ تھا۔1960ء میں جب پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے دریاؤں پر بند باندھ کر ڈیم بنانے کا سروے کیا گیا تو اس وقت منگلا ڈیم اور تربیلاڈیم کی طرح کالاباغ ڈیم بھی ڈیزائن کیا گیا تھا۔

منگلا ڈیم، دریائے جہلم پر تعمیر ہونا تھا جب کہ تربیلا اور کالا باغ ڈیم میں سے ایک ڈیم دریائے سندھ پر بننا تھا۔ تربیلا ڈیم کو ترجیح دی گئی کہ پہلے یہ تعمیر کر لیا جائے پھر اگلے پانچ سالہ منصوبے میں کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جائے گا۔ تربیلا ڈیم کو ترجیح اس لیے دی گئی تھی کہ ایک تو اس میں پیداواری صلاحیت کالا باغ ڈیم سے زیادہ تھی‘ دوسرے یہ کالا باغ ڈیم سے پہلے واقع تھا اور پانی کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ تیسری بڑی وجہ یہ تھی کہ تربیلا کی جھیل کا آخری سرا ہری پور پر ختم ہوتا تھا اور اس میں ہری پور کی کچھ آبادی بھی آتی تھی۔

ہری پور کے علاقے میں ایوب خان کے ایک سیاسی حریف راجہ جارج سکندر زمان کافی بااثر آدمی تھے جو ہر وہ کام کرتے تھے جس سے ایوب خان کو چوٹ پہنچے۔ اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے راجہ جارج سکندر نے تربیلا ڈیم اور خانپور ڈیم کی بھرپور مخالفت کی لیکن چونکہ ایوب خان اس وقت صدارت کی کرسی پربراجمان تھے اور ان کا تعلق بھی ہری پور سے تھا‘ ان کی ٹیم نے بہرحال کسی نہ کسی طرح معاملات کو کنٹرول کر لیا اور سکندر زمان کی مخالفت کے باوجود دونوں ڈیم بنائے‘ یعنی تربیلا ڈیم اور خان پور ڈیم۔ اگر یہ اس وقت نہ بنائے جاتے تو شاید آج تک نہ بنے ہوتے۔ کالا باغ ڈیم میانوالی کے کالاباغ کے علاقہ میں تھا اور وہاں کے لوگ بخوشی راضی تھے کہ یہ ڈیم تعمیر کر لیا جائے۔

ویسے بھی وہ علاقہ نواب کالاباغ کے زیراثر تھا اور ان کا اس علاقے میں بیحد احترام کیا جاتا تھا اور ان کے حکم کے آگے لوگ سر جھکاتے تھے‘ اس لیے اسے بنانے میں کسی دقت کا سامنا ہونے کی توقع نہیں تھی لیکن تربیلا ڈیم کے بنانے میں چونکہ دِقت کا سامنا تھا اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پہلے پانچ سالہ منصوبہ میں یہ ڈیم مکمل کر لیا جائے۔ 

چونکہ یہ خیال تھا کہ اگر صدر ایوب ملک کے سربراہ نہ رہے تو شاید اسے بنانے میں دِقت کا سامنا ہو گا‘ چنانچہ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ اگلے پانچ سالہ منصوبہ میں ڈال دیا گیا اور پہلے پانچ سالہ منصوبے میں منگلاڈیم اور تربیلا ڈیم کو ترجیح دی گئی لیکن بدقسمتی سے کالاباغ ڈیم شروع ہونے سے پہلے ہی صدرایوب کی حکومت چلی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پر کام موخر کر دیا اور پھر یہ سیاست کی نذر ہو گیا۔

اس منصوبے پر 1985ء میں جب عملدرآمد کا فیصلہ ہونے لگا تو اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق نے علاقائی سیاستدانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور ذاتی مفاد کے لیے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اگر ان دنوں صدر جنرل ضیاء الحق انہیں روک دیتے تو معاملہ آگے نہ بڑھتا۔ صوبہ سرحد کے بیانات کے بعد سندھ کے وڈیرے سیاستدانوں نے بھی اس کی مخالفت میں بیان دینے شروع کر دیے۔

 اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کچے کے علاقے کی زمینوں پر انھوں نے ناجائز قبضے کر رکھے ہیں اور دریائے سندھ کی اس زرخیز مٹی سے وہ مفت میں فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں خوف ڈالا گیا کہ کالاباغ ڈیم بننے سے دریائے سندھ کا پانی حکومتی کنٹرول میں آ جائے گا اور مربوط نہری نظام کے ذریعے حساب کتاب سے پانی مہیا کیا جائے گا۔

اسی طرح اس خطے کے وڈیرے، سیاستدانوں کے ناجائز ’’قبضے مفتے‘‘ ختم ہو جائینگے اور زمینوں سے لگان اور مالیہ بھی لیا جا سکے گا۔ کالا باغ ڈیم منصوبے کو ہوا دینے میں بھارتی لابی اور اس کے ایجنٹوں نے بھی بڑا کام دکھایا ہے۔ اینٹی ڈیمز لابی میں اب ایل پی پی، آئی پی پی اور او ایم سی آئل مارکیٹوں اور کمپنیوں کے بڑے بڑے کمیشن بھی شامل ہو گئے‘ اس طرح ملک میں عاقبت نااندیشوں، سیاستدانوں اور منافق لیڈروں کی موج دَر موج ہو گئی۔

 بھارت کو یہ بخوبی اندازہ ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم کا منصوبہ خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا تو پاکستان کی زرعی معیشت اور ملکی توانائی کے ذرایع کو استحکام حاصل ہو گا جس سے پاکستان کو خودکفیلی کی منزل آسانی سے حاصل ہو جائے گی‘ اس طرح معاشی اور زرعی اعتبار سے مضبوط پاکستان بھارت کے لیے مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے۔

اس پس منظر میں بھارت کو جب یہ احساس ہوا کہ کالا باغ ڈیم منصوبے پر اختلاف رائے کو اُبھارا جا سکتا ہے تو اس نے صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ کے اندر اپنی ہمدرد لابی کے ذریعے مقامی اخبارات پر اثرانداز ہونے کی پالیسی اپنائی۔ بعض اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ اس منصوبے کے خلاف سیاست کرنیوالوں اور لکھنے والوں کو بھارتی لابی کی طرف سے مالی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت اور اس میں توانائی کی اہمیت پر نظر رکھنے والے لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ کالاباغ ڈیم منصوبہ آسانی سے پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکے گا تو انھوں نے آئی پی پی کا منصوبہ پیش کیا۔ اس ریکٹ کی وجہ سے بینظیر دور میں بڑے بڑے کمیشن/ کک بیک دیکر پاور یونٹ لگائے گئے اور عوام کو مہنگی ترین بجلی مہیا کی جانے لگی جس سے پوری قوم بلبلا اٹھی۔ بدقسمتی سے سندھ سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم نے بھی کالاباغ ڈیم منصوبے کو عظیم تر قومی مفاد کے بجائے پنجاب کے خلاف نفرت کے طور پر استعمال کیا۔ اسی طرح پنجاب کے وزیراعظم نے بھاری مینڈیٹ ہوتے ہوئے بھی اس عظیم منصوبے پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اپنی تمام تر قوت عدلیہ اور فوج کو زیرنگیں لانے پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔

ان حقائق کے پس منظر میں یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ اگر ہم اس انتظار میں رہیں کہ جب تک ملک کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں ہو جاتا اس وقت تک ڈیم تعمیر نہ کیا جائے تو یہ ایک تاریخی بھول ہو گی اور ماضی کی حکومتوں کی طرح میاں نواز شریف کی حکومت کو بھی تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی۔ پاکستان کا سب سے اہم اور سنگین مسئلہ جس نے ملکی معیشت کمزور کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا وہ ہے پانی کی شدید قلت۔

 قیامِ پاکستان کے وقت ہمارے پاس اتنا وافر مقدار میں پانی موجود تھا کہ بجلی کی پیداوار میں 80 فیصد پانی اور 20 فیصد تیل کا استعمال ہوتا تھا‘ مگر بدقسمتی سے پانی کی قلت کے سبب آج ہماری بجلی کی پیداوار میں 80 فیصد تیل اور 20 فیصد پانی کا استعمال ہو رہا ہے‘ اس کی بنیادی وجہ نئے ڈیموں کی تعمیر میں تاخیر و عدم دلچسپی ہے۔

رہی سہی کسر ہمارے ازلی اور مکار دشمن بھارت نے کشمیر سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر 65 ڈیم بنا کر پوری کر دی ہے۔ اس کی دشمنی صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ مزید 200 ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ مسلسل زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ پاکستان کو جلد از جلد بنجر کیا جا سکے۔
پاکستان بننے کے بعد کئی حکومتیں آئیں اور چلتی بنیں مگر پاکستان کی اندرونی و بیرونی دشمن قوتوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کے بی ڈی کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔

 وہ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اگر کالاباغ ڈیم بنا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا حالانکہ ملکی و غیر ملکی تکنیکی معائنہ کاروں نے واشگاف الفاظ میں آگاہ کیا ہے کہ اس ڈیم کے بننے سے کسی قریبی شہر اور آبادیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اس ڈیم کے بننے سے قرب و جوار میں موجود بنجر زمینوں کو سیراب کر کے علاقے کے عوام کو معاشی طور پر خوشحال کیا جا سکتا ہے۔

سندھ کے سیاستدان اعتراض کرتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کے بننے سے دریائے سندھ سوکھ جائے گا اور سمندر کا پانی دریائے سندھ میں داخل ہو جائے گا اور نمکین پانی کے اندر آنے سے ان کی زمینیں سوکھ جائینگی۔ یہ وہ کہانی ہے جو سندھ کے سیاستدانوں اور وڈیروں نے گھڑی ہوئی ہے تا کہ اپنے سیدھے سادے کسانوں کو اُکسا سکیں۔ اصل معاملہ یوں ہے کہ کراچی کی بندرگاہ سطح سمندر سے 7 میٹر اونچی ہے۔ ڈیلٹا کے مقام پر سمندر کبھی کبھار اندر کی طرف آتا ہے۔
جب مدوجزر ہوں تو اس وقت اس مقام سے آگے کا علاقہ سطح سمندر سے 7 میٹر اونچا ہے اس لیے پانی اندر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 دوسرے‘ دریا سوکھے گا کیوں؟ جب 24 گھنٹے بجلی بنتی ہے تو پانی کا بہاؤ تو ملتا رہیگا۔ رہی بات ڈیم کی تو ڈیم ایک مرتبہ بھر جائے تو پھر آمد اور اخراج تقریباً برابر ہوتا ہے اور بجلی کی ٹربائنوں سے گزرنے والا پانی واپس سیدھا دریا میں ہی جاتا ہے اور دریا کا بہاؤ چلتا رہتا ہے۔ اسی بہاؤ سے کالاباغ ڈیم کے بعد راستہ میں آنیوالے چشمہ بیراج، تونسہ بیراج، گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج بھی پانی کا ذخیرہ برقرار رکھیں گے جو زراعت کے کام آئیگا۔

سکھر بیراج اور کوٹری بیراج کے درمیان سیہون شریف کے مقام پر بھی ایک چھوٹا ڈیم ڈیزائن کیا گیا ہے جسکا نام سہون ڈیم ہو گا جو پانی ذخیرہ کرنے کے کام آئیگا۔ نہروں کے موجودہ نظام میں تھوڑے سے اضافہ کے ساتھ زراعت کے لیے اتنا پانی دستیاب ہو گا کہ آپ چاہیں تو تھر کو بھی سیراب کر لیں۔ وڈیرے سیاستدان صرف اپنے کسانوں کو اس پانی سے محروم رکھنے کے لیے کالاباغ ڈیم کے مخالف ہیں تا کہ کسان خوشحال نہ ہو سکیں‘ ان کے بچے پڑھائی سے محروم رہیں اور مزدور کا بچہ مزدور رہی رہے، کچھ ایسا ہی عالم کے پی کے کے سیاستدانوں کا بھی ہے۔ بھارت ایک کثیر رقم کالا باغ ڈیم کی مخالفت کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ہندو بنیا بڑی ہوشیاری سے ہمارے کچھ سیاستدانوں کو استعمال کر کے ہمیں آنیوالے دنوں میں پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے۔

بدقسمتی سے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بڑے ڈیم تعمیر نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہو چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک کی درآمد میں ہر سال اربوں روپیہ ضایع کر رہا ہے۔ پانی کی شدید قلت کی وجہ سے بجلی کی پیداوار اتنی متاثر ہو چکی ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 سے 20 گھنٹوں پر محیط ہو چکا ہے۔ بجلی بحران نے پاکستان کے اہم بڑے صنعتی یونٹوں سمیت ہزاروں کارخانوں و ملوں کو تالے لگوا دیے ہیں۔

ملوں و کارخانوں کی تالابندی نے نہ صرف غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں بلکہ اس سے بیروزگاروں کی ایک بڑی فوج بھی تیار ہو چکی ہے جو باعزت روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ملک دشمنوں و دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کر چند کوڑیوں کے عوض اپنے ہی وطن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ پانی زندگی ہے، جہاں پانی نہیں وہاں زندگی بھی نہیں۔ جب کبھی زلزلوں نے دریاؤں کے رُخ موڑے تو ان کی پرانی گزرگاہوں کے دونوں اطراف میں سرسبز و شاداب لہلہاتے کھیت دیکھتے ہی دیکھتے بے آب و گیاہ صحراؤں میں بدل گئے۔ انسان آج بھی کرۂ ارض سے زندگی کی تلاش میں سرگرداں سیاروں پر کمند ڈالنے میں کوشاں ہے۔

ابتدائی دور میں انسانوں نے پانیوں پر قبضہ کرنے کے لیے جنگیں لڑیں۔ جب انسانی آبادی کی نسبت سے پانی میں کمی ہونے لگے گی تو انسان اس پر جنگیں لڑیں گے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’ہر چیز اپنی اصل کی طرف واپس لوٹتی ہے‘‘۔ کشمیر کی جنگ ِ آزادی اگر ایک حقیقت ہے تو کشمیر کا پاکستان کی شہ رگ ہونا بھی ایک سچائی ہے۔ پاکستان ایک طرف کشمیریوں کی جنگ ِآزادی کا حامی ہے تو دوسری طرف کشمیر سے گزرنے والے دریاؤں کے پانیوں کی حفاظت کرنا بھی اس کا حق ہے۔

ان ہی بنیادوں پر پاکستان بھارت چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ بھارت پاکستانی دریاؤں اور ان کے معاون دریاؤں پر ڈیمز تعمیر کر کے پانیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ پانی روک کر پاکستان کو اکھنڈ بھارت کا حصہ بننے پر مجبور کر سکے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم مسٹر واجپائی نے اپنے دور میں وادیِ لیپہ میں پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی اور علامتی طور پر سندھ میں بہتے ہوئے پانی پر بیان دیا کہ یہ پانی ہمارے درمیان نفرتوں کی سرحدیں گرا دینگے۔ کیا ان کے ذہن میں دیوارِ برلن کے گرائے جانے کا واقعہ محفوظ ہے؟ ان کا خیال ہے کہ مشرقی جرمنی کے لوگ اقتصادی بدحالی کے باعث اگر دیوارِ برلن گرا دیتے ہیں تو پیاسے پاکستانی اپنی سرحدیں کیوں ختم نہیں کر سکتے۔

بھارت سردیوں کے موسم میں اگر 20 ہزار کیوسک پانی روزانہ روکنے میں کامیاب ہو گیا تو پاکستانی بھوکے مرنے لگیں گے۔ بھارت پاکستان کے دریاؤں اور ان کے معاون دریاؤں پر ڈیمز تعمیر کر رہا ہے لیکن بھارت یہ بھول رہا ہے کہ عام کاشتکار کا اگر کوئی پانی کاٹ لے تو بات قتل و غارت تک جا پہنچتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہو گا کہ بھارت اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کو پیاسا مارنے کے پروگرام پر عملدرآمد کرے اور لڑائی نہ ہو۔ ہندوؤں کی سازشی ذہنیت کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کا دریا صرف سندھ رہ جاتا ہے۔ تین دریاؤں ستلج، راوی اور بیاس کا پانی تو وہ چالاکی اور عالمی سازش سے ہتھیا چکا ہے۔

جہلم اور چناب کے علاوہ ان کے معاون دریاؤں پر ڈیمز کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر چکا ہے، پانی کی یقینی سپلائی مستقبل میں صرف دریائے سندھ سے رہے گی۔ منگلا اور تربیلا کی تعمیر میں جو سرمایہ استعمال ہوا ہے وہ دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے پانیوں کو بھارت کے حوالے کرنے کے عوض ملا تھا۔ جو بھی زرعی ترقی سندھ نے کی ہے وہ تربیلا ڈیم کی تعمیر کی مرہونِ منت ہے ورنہ تربیلا ڈیم کی تعمیر سے پہلے سندھ کے موجودہ زیر کاشت رقبے کے تقریباً نصف حصہ پر کاشت ہوتی تھی۔ تربیلا میں ریت بھر جانے سے سب سے زیادہ نقصان بھی صوبہ سندھ کو ہی ہو گا البتہ صوبہ سندھ کے خدشات دُور کرنے لازمی ہیں۔

کوٹری کے نیچے اتنا پانی ضرور چھوڑا جانا چاہیے جس سے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ذریعے آنے والے سمندری پانی کے نمکیات کو زائل کیا جا سکے‘ اس سے ایک تو دریا کی ری چارجنگ ہوتی رہے گی‘ دوسرا‘ میٹھے پانی کی ریزوائر میں کمی نہیں ہو گی۔ جو لوگ یکجہتی کی بنیاد پر کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو ترک کرنے کی بات کر رہے ہیں انہیں پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ملک پانی کے بغیر زندہ بھی رہیگا؟ 

اگر عقل سے کام نہ لیا گیا تو ملک ایتھوپیا اور صومالیہ بن کر رہ جائے گا، ایسی صورت میں سندھ بھی بنجر ہونے سے نہ بچ سکے گا۔ سب سے زیادہ سندھ کو ڈیم کی ضرورت ہے اور کالاباغ ڈیم سے سندھ زیادہ مستفید ہو گا۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو توانائی کی ہولناک قلت کا شکار ہیں۔
انتہائی طلب کے دنوں میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بعض اوقات 6 ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جسکا خمیازہ صنعتکاروں، تاجروں اور عوام کو 8 سے20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

 دنیا بھر میں ہائیڈل ذرایع سے انتہائی سستی اور وافر بجلی پیدا کرنے کا رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے لیکن ہم بجلی کا ایک بہت بڑا حصہ تیل سے پیدا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک تو بجلی بہت مہنگی ہے‘ دوسرا تیل وافر مقدار میں میسر نہیں اور تیسرا آئل امپورٹ بِل ہر سال مزید بڑھ جاتا ہے۔
ان تمام مسائل کا انتہائی بہترین حل کالا باغ ڈیم منصوبہ ہے لیکن بدقسمتی سے یہ سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں سب سے زیادہ سرگرمِ عمل سندھ اور خیبرپختونخوا ہیں جب کہ بلوچستان بھی دیکھا دیکھی ان کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہا ہے حالانکہ کالا باغ ڈیم بن جانے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ ان ہی صوبوں کو ہو گا۔

 کالا باغ ڈیم بننے کے بعد سندھ اور خیبرپختونخوا کے بہت سے علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائینگے۔ کالا باغ ڈیم میں ذخیرہ ہونے والے 7 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے 2.6 ملین ایکڑ فٹ پانی سندھ کے حصے میں آئیگا جو وہاں پانی کی قلت کا شکار زرعی علاقوں میں آبپاشی کے لیے استعمال ہو سکے گا۔

کالاباغ ڈیم سے بلوچستان بھی بھرپور مستفید ہو گا کیونکہ ڈیرہ بگتی، ڈیرہ مراد جمالی، جعفرآباد اور سبی کے علاقوں کو وافر پانی ملے گا۔ جہاں تک خیبرپختونخوا کا تعلق ہے تو کالا باغ ڈیم کی مدد سے 8 لاکھ ایکڑ زمین کو زیر کاشت لایا جا سکے گا جو دریائے سندھ کی سطح سے 100 سے 150 فٹ بلند ہے۔ 

یہ زمین صرف اسی صورت میں زیر کاشت لائی جا سکتی ہے جب دریا کی سطح بلند ہو اور یہ کام صرف کالاباغ ڈیم کی صورت میں ہی ممکن ہے، اس کا متبادل ذریعہ دریا کے پانی کو پمپ کر کے اوپر پہنچانا ہے جس پر پانچ ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ لاگت آئیگی جب کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بعد نہر کے ذریعے پانی ملنے سے یہ لاگت صرف 400 روپے فی ایکڑ سالانہ رہ جائے گی۔

کالاباغ ڈیم پاکستان کو توانائی کے بحران سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا بھی دلا سکتا ہے کیونکہ اس سے سالانہ 3600 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی جس کی ابتدائی طورپر لاگت صرف 2.50 روپے فی یونٹ ہو گی جب کہ 5 سال بعد جب یہ ڈیم اپنی لاگت خود ہی پوری کریگا تو بجلی صرف 1 روپے فی یونٹ کی لاگت پر پیدا ہو گی۔
اس وقت ملک میں بجلی کا ایک بڑا حصہ تھرمل ذرایع سے 19 روپے فی یونٹ کی لاگت پر پیدا کیا جا رہا ہے جو توانائی کے بحران اور صنعتی و تجارتی شعبے کے مسائل کی بہت بڑی وجہ ہے۔

 کالاباغ ڈیم بننے سے صرف بجلی کی پیداواری لاگت کی مد میں ملک کو 4 ارب ڈالر سالانہ کی بچت ہو گی جو کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امداد سے 3 گنا زیادہ ہے۔ کالاباغ ڈیم کے مجموعی معاشی فوائد کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر کے زرعی آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو ملکی معیشت کو کم و بیش 2 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔

تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب ہم کالا باغ ڈیم میں 7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر کے بجلی پیدا اور زرعی آبپاشی کے لیے استعمال کرینگے تو تقریباً 14 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہو گا جس سے آیندہ چند سالوں میں کالاباغ ڈیم جیسے مزید کئی ڈیم بنائے جا سکتے ہیں، تعلیم سے محروم کئی ملین بچے مستقل بنیادوں پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، عوام کو صحت کی اعلیٰ سہولیات مہیا کی جا سکتی ہیں، کئی ملین افراد کو روزگار دیا جا سکتا ہے، پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

سڑکوں کا جال بچھایا جا سکتا ہے اور غربت کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں مگر وہ بھی صرف اس صورت میں کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنے پرانے آبی ڈھانچے کو قابلِ عمل اور مستعد نظام سے ہم آہنگ کیا جائے۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ ’’پاکستان واٹر اکانومی رننگ ڈرائی‘‘ میں کہا ہے کہ پاکستان کا سارا واٹر انفراسٹرکچر انتہائی بوسیدہ حالت میں ہے‘ اس کی از سر نو تعمیر اور مرمت کی شدید ضرورت ہے۔

رپورٹ میں پاکستان میں فراہمی آب کے ذمے دار افسروں کو ’’واٹر بیوروکریسی‘‘ کہا گیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واٹر بیوروکریسی نہ صرف بدعنوان ہے بلکہ اسے واٹر مینجمنٹ کا پتہ ہی نہیں۔ اس بیوروکریسی نے واٹرانفراسٹرکچر جن میں نہریں، ڈیم اور بیراج شامل ہیں تعمیر تو کر دیے ہیں لیکن ان کی دیکھ بھال، مرمت اور ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جسکے نتیجے میں پاکستان کا سارا واٹر انفراسٹرکچر انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ہے۔

ابھی تک پاکستان میں فراہمیِ آب کے انفراسٹرکچر کو بچانے اور اس کی نگہداشت اور مرمت کے لیے کوئی ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ کہا گیا تھا کہ جب منگلا اور تربیلا ڈیم ہمالیہ کے پہاڑی علاقے سے آنیوالی مٹی سے بھر جائینگے تو اس کے لیے دوسرے ڈیم بنائینگے مگر 42 سال گزر جانے کے باوجود پاکستان کوئی نیاڈیم نہ بنا سکا۔  

رحمت علی رازی

No comments:

Powered by Blogger.