Header Ads

Breaking News
recent

مہر گڑھ کی بربادی کوئی سانحہ نہیں

گزشتہ ہفتے بی بی سی نے اطلاع دی کہ بلوچستان کے ضلع بولان میں دنیا کی سب سے قدیم منظم بستی مہر گڑھ کے آثار رئیسانیوں اور رندوں کی قبائلی جنگ میں برباد ہو چکے ہیں۔ انیس سو تہتر سے دو ہزار دو کے درمیان تیس برس کے عرصے میں فرانسیسی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے موہن جو دڑو (پانچ ہزار برس)  کی پیش رو مہر گڑھ کی آٹھ ہزار برس پرانی تہذیبی بستی دریافت کی۔ جس کے مکین اتنے ترقی یافتہ تھے کہ کپاس اگاتے تھے، اوزار بناتے تھے، دندان سازی کرتے تھے اور بیرونی دنیا سے تجارت کرتے تھے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب جب مہر گڑھ اجڑنے لگا تو اس کے مکینوں نے دریائے سندھ کی جانب ہجرت کی اور یوں عظیم الشان انڈس تہذیب وجود میں آئی۔ دو ہزار دو میں رئیسانیوں کے علاقے میں واقع مہر گڑھ میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئیں۔ فرانسیسی ٹیم کے زیرِ استعمال عمارت پر بلڈوز چلا دیے گئے۔ اس ٹیم نے تب تک بمشکل دس فیصد مہر گڑھ دریافت کیا تھا۔ پچھلے تیرہ برس کے دوران یہ آثار دوبارہ غائب ہونے لگے اور اب ان پر مٹی کی تہہ اتنی بڑھ چکی  ہے کہ کچھ ہی عرصے میں یہ آثار دوبارہ مکمل دفن ہو جائیں گے۔
مگر مہر گڑھ کے آثار کی تباہی پر تنقید ایسے ہے جیسے کوئی گنجا گھنے بالوں کی حمائیت میں اٹھ کھڑا ہو۔ جیسے باسی کڑھی میں خوامخواہ ابال آ جائے۔ جیسے کوئی تمباکو نوش صحت مند زندگی کے راز بیان کرے۔

حفاظت اس شے کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھا جائے۔ بیس کروڑ میں کتنے ہیں جو اندر سے سمجھتے ہوں کہ مہر گڑھ ہو کہ موہن جو دڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا کے آثار، مکلی اور چوکنڈی جیسے تاریخی قبرستان اور افغانوں اور مغلوں سے لے کے تالپوروں تک کے قلعے ایسے ہی اہم اور متبرک ہیں جیسے ہمارے پرکھوں کی قبریں، جیسے اولیا کے مزارات، جیسے تاریخی مساجد، جیسے ہمارے نانا، دادا اور پردادا کی تصاویر اور ان کی تسبیحیں اور ان کے برتن اور ان کی باتیں…کیا ہمیں یہ نہیں بتایا  پڑھایا گیا کہ قبل از اسلام کی ہر نشانی باطل ہے۔ تو پھر باطل نشانیوں کا احترام اور دیکھ بھال اور اس سے اپنائیت کے کیا معنی؟

مگر آپ میں سے کچھ ضرور کہیں گے کہ نہیں ایسا نہیں۔ یہ آثار، عمارات اور نشانیاں ہمارے خاندانی شجروں جیسی ہیں جو ہمیں نسل در نسل بتاتے ہیں کہ ہم کون تھے، کیوں تھے، کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں۔ ہمارے پرکھوں نے کیا کیا اور ہم کیا کر رہے ہیں۔

آپ میں سے کتنے جانتے ہیں کہ وادیِ بولان یا سندھ کی تہذیب کے نمایندہ ہڑپہ، جام پور کے دلو رائے ٹھیڑ اور چولستان کے پتن منارے کے آثار پر فصلیں دستک دینے لگی ہیں۔ ٹیکسلا میں گندھارا تہذیب کے نمایندہ سد کپ شہر کے آثار کو جھاڑیوں سے بچانے کے لیے ہر سال ان جھاڑیوں کو آثارِ قدیمہ کے محافظ اہل کار آگ لگا دیتے ہیں۔

چکوال کے نزدیک مہا بھارت کے زمانے کے کٹاس راج مندر ناقدرے موسموں کے رحم و کرم پر ہیں اور وہ جھیل سکڑ کے ایک چوتھائی رہ گئی ہے جو شیو دیوتا کے آنسوؤں سے وجود میں آئی جو انھوں نے اپنی بیوی ستی کی موت پر بہائے تھے۔۔ مگر ان مندروں اور جھیل سے کچھ فاصلے پر کچھ عرصہ قائم ہونے والے سیمنٹ کے کارخانے نے زیرِ زمین پانی چوس لیا ہے۔ اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑی سلسلے میں ہوٹلنگ اور کمرشلائزیشن کے راکھشس نے ہزاروں برس پرانے  دو غاروں کا محاصرہ کر لیا ہے جن کی دیواروں پر ہمارے آبا و اجداد نے مصوری کی۔

مانا کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے کے ورثے سے بعد کی نسلوں کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ مگر خود مسلم ورثے کے ساتھ کیا ہوا؟؟ پشاور کا بالا حصار قلعہ فرنٹیر کور کا صدر دفتر ہے۔ اکبرِ اعظم کا اٹک قلعہ کمانڈوز نگرانی میں ہے۔ اور جب دور بدلتا ہے تو اس ملک کے آصف زرداریوں اور نواز شریفوں کو بھی یہاں بلا ٹکٹ مہمان رکھا جاتا ہے۔ جہلم کے قریب شیرشاہ سوری کے قلعہ روہتاس کے دروازوں اور اندرونی تعمیر کو بارش اور نمی کھائے جا رہی ہے۔

لاہور کے ماتھے کا جھومر مغل فورٹ اور مغل فورٹ کا دل شیش محل۔ جہاں چند برس پہلے تک غیر ملکی مہمانوں کو ضیافتیں دی جاتی رہیں۔ اسی فورٹ کا تاریخی دیوانِ خاص کچھ عرصے پہلے تک نجی تقریبات کے لیے دان ہوتا رہا۔ پیسے اور تعلق کی طاقت سے مسلح ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات یہاں شوٹ ہوتے رہے۔

مگر ایسے مواقع پر محکمہ آثارِ قدیمہ اکثر نوادرات و آثار کے تحفظ کے ایکٹ مجریہ انیس سو پچھہتر کو بغل میں دبا کر ضروری کام سے کہیں چلا جاتا ہے۔ اور اسی قلعے کے ایک حصے کو بوقتِ ضرورت سیاسی قیدیوں کے عقوبت خانے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا اور یہاں کے قیدی اور قلعہ اپنی حالتِ زار پر گلے مل کے چیختے رہے۔

اب ایک نئی آفت اورنج لائن کی صورت میں نافذ ہو رہی ہے جس کے جدید پہیے بچے کھچے اجدادی ورثے کو اور کم کرتے ہوئے کچل جائیں گے۔
اور سب سے خوبصورت ریاست بہاولپور کے وہ قلعے اور محلات کس حالت میں ہیں۔ قلعہ دراوڑ باہر سے تندرست اور اندر سے ملبے کا ڈھیر۔ اطالوی طرزِ تعمیر کا مظہر صادق گڑھ پیلس جہاں پچھلی صدی کی ہندوستانی و یورپی اشرافیہ کا کون سا نمایندہ مدعو نہیں ہوا آج مکمل طور پر بھوتوں کے قبضے میں ہے۔ شاہی ورثا نے اپنی دولت اپنے ہی ہاتھوں ایسے لوٹی کہ دروازے اور جالیاں تک اکھاڑ لیں۔

سندھ میں تالپور دور کا شاید ہی کوئی قلعہ ہو جو نوحہ گر نہ ہو۔ حیدر آباد کا پکا قلعہ موٹی دیواروں کے پیچھے ایک مفلوک الحال کچی بستی سے زیادہ کیا ہے؟ حیدرآباد کا  کچا قلعہ سیم زدگی کی مسلسل حرمزدگی سے نبرد آزما ہے۔ نوکوٹ کے قلعے میں سورج چڑھے آس پاس کے بچے کھیلتے ہیں۔ ہاں ایک نیلے رنگ کا بورڈ ضرور دیوار میں جڑا ہوا ہے جس پر محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ نامی کسی ادارے کی جانب سے قلعے میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کو تادیبی کارروائی سے ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ شام کے بعد اس قلعے میں بسیرا کرنے والے کتے بلیاں تحریر نہیں پڑھ سکتے۔ عمر کوٹ کا قلعہ اور  بھمبھور کے آثار کہ جن کے تحفظ کا بجٹ انسانوں کی جیبوں میں اور حفاظت خدا کے ذمے ہے۔

اور یہ جو ہر مہینے دو مہینے بعد بندرگاہ یا کسی ایئرپورٹ پر قدیم مجسمے اور نوادارت پکڑے جانے کی خبر چھپتی ہے یہ کیا ہے؟  اور یہ جو وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب اور گندھارا پیریڈ کے مجسمے اور نوادارات یہاں سے وہاں تک کے عجائب گھروں کے کمروں اور گوداموں میں پڑے ہیں۔ ان کی آمد، موجودگی اور غائب ہونے کا ریکارڈ کتنے عرصے بعد اور کون اپ ٹو ڈیٹ کرتا ہے۔ ان میں سے کتنے اصلی ہیں اور کتنے اصلی نہیں ہیں۔ کتنے نجی عجائب گھروں میں کون سے نوادرات کہاں کہاں سے ڈاکا ڈال کے آئے ہیں؟

جب جرمن نازیوں نے پیرس کا محاصرہ کر لیا تو انھوں نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کے ورثے کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ لہذا جب ہم پیرس میں داخل ہوں تو مزاحمت نہ کرنا۔ نازیوں نے اپنا وعدہ نبھایا اور پیرس کو جوں کا توں رہنے دیا۔ انھوں نے جن جن ممالک پر قبضہ کیا ان کی آبادیوں پر وہ تمام مظالم کیے جو قابض قوتیں کرتی ہیں۔ مگر پینٹنگز کے زخیرے تباہ نہیں کیے بلکہ انھیں احتیاط کے ساتھ برلن منتقل کر دیا۔ جب اتحادیوں نے برلن پر قبضہ کیا تو شہر کھنڈر بن چکا تھا مگر مقبوضہ پینٹنگز کا بیشتر ذخیرہ تہہ خانوں میں محفوظ تھا۔۔۔

اقبال کا دل تو اپنے آبا کی کتابیں لندن میں دیکھ کر بہت  تلملایا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ انگریز برِصغیر کا جتنا ثقافتی و تاریخی خزانہ لوٹ کے لے جا سکتا تھا لے گیا۔ ورنہ یہ سب کب کا غتربود ہو چکا ہوتا۔ اگر یہ بات کسی کو بری لگتی ہے تو میری بلا سے۔ 

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.