Header Ads

Breaking News
recent

شامی فوج کا محاصرہ، مضایا میں بھوک اور موت کے ڈیرے

  مضایا میں خوراک اور طبی امداد کے انتظار میں مزید پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ خوراک اور امدادی سامان سے لدے ٹرک دارالحکومت دمشق سے مضایا کی جانب رواں دواں ہیں۔

خبررساں اداروں کی رپورٹس کےمطابق دمشق کے شمال میں واقع چالیس ہزار آبادی والے اس قصبے میں بھوک اور قحط کے ڈیرے ہیں۔ مضایا میں موجود ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ بھوک کی وجہ سے اتوار کو پانچ افراد کی موت ہوئی ہے۔ان میں ایک نو سال کا لڑکا بھی شامل ہے۔
ریڈکراس نے بتایا ہے کہ لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع مضایا کے علاوہ شمال مغرب میں واقع دو دیہات کی جانب بھی امدادی سامان سے لدے ٹرک بھیجے جارہے ہیں۔ شامی فوج اور متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان سمجھوتے کے تحت ان تینوں مقامات پر بیک وقت ٹرک داخل ہوں گے۔

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے گذشتہ کئی ماہ سے مضایا کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے اس قصبے میں خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قلت ہوچکی ہے۔امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مضایا اور شمالی مغربی صوبے ادلب میں واقع دو دیہات الفوعا اور کفرایا میں فوری طور پر امدادی سامان نہیں پہنچایاجاتا ہے تو قحط پھیل جائے گا۔
فرانس میں قائم ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد کا کہنا ہے کہ مضایا میں دس افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور انھیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرانے کی ضرورت ہے۔ اس نے مزید کہا ہے کہ اگر فوری طور پر امداد نہ پہنچائی گئی تو مزید دو سو افراد کی حالت بگڑ سکتی ہے۔ گذشتہ ماہ مضایا میں تیئیس افراد بھوک کا شکار ہو کر انتقال کرگئے تھے اور عالمی ایجنسیوں کی اپیل کے باوجود قصبے میں شامی فورسز نے امدادی سامان پہنچانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

عالمی خوراک پروگرام اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے سوموار کے روز خوراک اور امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کو دمشق سے مضایا کے لیے روانہ کردیا ہے۔اس سے قبل مضایا میں اکتوبر میں امدادی سامان پہنچایا گیا تھا۔ 
لیکن اس کے بعد سے شامی فوج کے محاصرے کا شکار مضایا کے مکین نان جویں کو ترس رہے ہیں۔

اسد حکومت مضایا کے محاصرے کو باغیوں کے زیر قبضہ الفوعا اور کفرایا میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے سودے بازی کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ستمبر میں ان تینوں مقامات پر جنگ بندی کے لیے باغیوں اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت گذشتہ پانچ سال سے اپنے خلاف مسلح عوامی تحریک کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھوک مسلط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ اپنی شرائط پران علاقوں تک خوراک مہیا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
ماضی میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے بھوک کا شکار ہونے والے شامی بڑی تعداد میں حکومت کے کنٹرول والے علاقوں کی جانب نقل مکانی کرتے رہے ہیں۔اس لیے ان علاقوں میں خوراک کی تقسیم میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
شامی حزب اختلاف نے اسد حکومت پر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں خوراک اور اشیائے ضروریہ کو پہنچنے سے روکنے کا الزام عاید کیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق اسد رجیم تنہا وہاں خوراک کی عدم تقسیم کی ذمے دار نہیں ہے بلکہ باغیوں کے درمیان باہمی لڑائیوں کے نتیجے میں بھی ان کے زیر قبضہ علاقوں میں عالمی اداروں کی جانب سے خوراک کی تقسیم کا عمل متاثر ہوا تھا۔

No comments:

Powered by Blogger.