Header Ads

Breaking News
recent

بی ففٹی ٹو کوریا کے مسئلہ کا حل نہیں

شمالی کوریا کی طرف سے ہائیڈروجن بم بنانے کی اطلاع یا انکشاف کے بعد اس خطے میں نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور امریکا کے خطرناک B-52 بمبار کوریا کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں۔

اس صورتحال کو مبصرین بہت تشویشناک اس لیے قرار دے رہے ہیں کہ B-52 بمبار ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور عموماً یہ بمبار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بھی ہوتے ہیں۔ شمالی کوریا کی طرف سے ایک عرصے سے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں اور شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ بھی چلتا رہا ہے، لیکن لگتا ہے کہ امریکا اور اس کے ہمنوا شمالی کوریا کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ بین الاقوامی ذمے دار طاقتیں ان تضادات کو حل کرنے سے قاصر رہی ہیں جو شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی طرف لے جاتی رہی ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد بڑی طاقتوں نے جس بندربانٹ کا مظاہرہ کیا وہ اس قدر بے رحمانہ اور عالمی اخلاقیات سے عاری تھا کہ اس بندربانٹ کے نتیجے میں نہ صرف کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کوریا کے عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا گیا بلکہ جرمنی کے دو حصے کرکے اسے بھی ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا، یہ بڑی طاقتوں کا ایسا جرم ہے جسے کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔

جرمنی کے عوام نے ایک طویل جدوجہد کے بعد دیوار برلن کو مسمار کرکے بڑی طاقتوں کو یہ بتادیا کہ جب عوام ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو انھیں مفاد پرست طاقتیں جدا نہیں کرسکتیں۔ اور عوام ہر دیوار برلن کو اپنی ٹھوکروں سے مسمار کردیتے ہیں۔ دوسری جنگ کے بعد جب کوریا تقسیم ہوا تو شمالی کوریا روس کے حصے میں آیا اور جنوبی کوریا امریکا کے حصے میں آیا۔ جنوبی کوریا کو امریکا نے اپنے فوجی اڈے میں بدل دیا۔ اس تقسیم کے علاوہ ایک تقسیم اور عمل میں آئی کہ شمالی کوریا سوشلسٹ بلاک کا ایک حصہ بن گیا اور جنوبی کوریا سرمایہ دارانہ نظام کا ایک حصہ بن گیا۔
یوں عملاً امریکا اور روس ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ روس کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد شمالی کوریا کا شمار ان ملکوں میں ہونے لگا جو سوشلزم سے وابستہ رہے جب کہ جنوبی کوریا مکمل طور پر نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن گیا بلکہ عملاً امریکا کا فوجی اڈہ بن گیا۔ شمالی کوریا کی قیادت جنوبی کوریا کی اس حیثیت کی سخت مخالف رہی اور یہ مخالفت دونوں کوریاؤں کے درمیان ایک بڑا تضاد بنی رہی۔

امریکا نے جنوبی کوریا کی بھرپور معاشی مدد کی جس کے نتیجے میں جنوبی کوریا نے نسبتاً زیادہ اقتصادی ترقی کی۔ شمالی کوریا کی قیادت کا خیال تھا کہ جنوبی کوریا کی پوزیشن کا مقابلہ کرنے اور جنوبی کوریا میں امریکا کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا ایٹمی ملک بننا ضروری ہے۔

اس نفسیات نے شمالی کوریا کو ایٹمی طاقت بننے کی طرف مائل کردیا۔ بدقسمتی یہ رہی ہے کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کو اولیت دیتی رہیں اور عوامی مفادات کو ہمیشہ پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔ یہی نفسیات یہی روایت بین الاقوامی تنازعات میں بھی حاوی ری  اور بڑی طاقتیں متحارب ممالک کے درمیان موجود بنیادی تضادات کو حل کرنے کے بجائے عارضی اور غیر منطقی طریقوں سے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔

برصغیر کے دو انتہائی پسماندہ ملک ہندوستان اور پاکستان غیر ایٹمی ملک تھے ان کے درمیان بنیادی تضاد مسئلہ کشمیر تھا۔ بڑی طاقتوں نے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اس تضاد کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ہندوستان ایٹمی ملک بننے کی راہ پر چل پڑا اور جب وہ ایٹمی ملک بن گیا تو پاکستان کی قیادت کے سامنے یہی آپشن رہ گیا کہ وہ بھارت کی کسی ممکنہ جارحیت سے بچنے کے لیے ایٹمی ہتھیار تیار کرے۔

مرحوم بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے کی سمت میں پیش رفت شروع کی تو امریکا نے پاکستان کو مثبت اور منطقی طریقوں سے ایٹمی ملک بننے سے روکنے کے بجائے منفی طریقوں روکنے کی کوشش کی اور اپنے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو پاکستان بھیجا اور کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے باز نہ آئے تو انھیں نشان عبرت بنادیا جائے گا اور واقعی بھٹو کو نشان عبرت بنادیا گیا لیکن پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔

اسی روایت کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران میں دہرانے کی کوشش کی۔ ایران کے تضادات اگرچہ کہ عرب ملکوں خصوصاً سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے بھی ہیں لیکن اس کا بنیادی تضاد اسرائیل کے ساتھ ہے۔ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایران کا اسرائیل سے خوفزدہ ہونا منطقی بھی ہے فطری بھی ہے۔

یہی خوف اسے ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور کرتا رہا ہے لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان بنیادی تضاد کو حل کر کے ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے بجائے اس پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ بڑھا کر اس تضاد کو حل کرنے کی کوشش کی گئی اور وقتی طور پر امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے میں کامیاب تو رہے ہیں لیکن جلد یا بدیر ایران بھی پاکستان کے راستے پر چل پڑے گا کیونکہ ایران کو اسرائیل کے خوف سے آزاد نہیں کیا گیا، اس کے برخلاف خلیجی ملکوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو منطقی طور پر ایک احمقانہ کوشش ہے، جو مشرق وسطیٰ میں امن کی فضا بحال کرنے کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

ان ہتھکنڈوں کا مقصد اسرائیل کو محفوظ بناکر ایران اور خلیجی ملکوں کو آپس میں لڑانا ہے، لیکن اس سازش سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا بلکہ غیر یقینی صورتحال میں اور اضافہ ہی ہوگا۔بلاشبہ ایٹمی ہتھیار خواہ وہ کسی ملک کے پاس ہوں انسانیت کی بقا کے لیے ایک زبردست خطرہ ہیں لیکن محض پسماندہ ملکوں کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے سے دنیا کے سر پر لٹکنے والے ایٹمی خطرے سے بچایا نہیں جاسکتا۔

بڑی طاقتوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اگر دنیا کو ایٹمی ہتھیار کے خطرے سے نجات دلانا ہے تو بلاامتیاز ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ کرنا ضروری ہے اگر شمالی کوریا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا حق نہیں ہے تو بڑی طاقتوں کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے کا قطعی حق حاصل نہیں محض B-52 جنگی جہازوں کی اڑانوں سے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیار کے استعمال سے روکا نہیں جاسکتا۔

ظہیر اختر بیدری

No comments:

Powered by Blogger.