Header Ads

Breaking News
recent

پٹھان کوٹ کی جنگ

پچھلے سال ہم نے پہلی بار دنیا کو باقاعدہ اس بات کے ثبوت فراہم کئے کہ بھارت بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے مگر بھارت یہ کام بہت عرصے سے کئے جا رہا ہے۔ وہاں کچھ بھی ہو جائے اس کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا جاتا ہے۔ حتی کہ جنگل میں مرنے والے ایک بندر کی موت کا الزام بھی پاکستانی فوج پر لگایا گیا۔ راجستھان میں کسی وبا سے مرنے والے مور بھی پاکستانی دہشت گردی کا شکار قرار دئیے گئے۔

 گزشتہ رات تین بجے بھارتی پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر پانچ دہشت گرد حملہ آور ہوئے جنہوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ وہ گورداس پور کے ایس پی کی جیپ میں ایئر بیس میں داخل ہوئے۔ بھارت نے پھر اس واقعہ کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے ان دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’’پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملوں کا سلسلہ 1965ء سے مسلسل جاری ہے ‘‘۔ چھ ستمبر 1965ء کے دن پٹھان کوٹ ایئربیس پر آٹھ پاکستانی پائلٹس حملہ آور ہوئے تھے اور بھارت کے دس طیارے تباہ کرکے واپس چلے گئے تھے(یاد آیا کہ ان میں سے ایک پائلٹ ارشد سمیع بھی تھا۔ اُسی ارشد سمیع کے بیٹے اور معروف گلوکار عدنان سمیع کو ابھی دو دن پہلے بھارت نے شہریت دی ہے۔ 
اکتوبر2013میں پٹھان کوٹ میں فوج کی وردی پہنے تین دہشت گردوں نے ایک فوجی کیمپ پر اور ایک پولیس تھانے کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں میں فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سمیت 10 لوگ مارے گئے تھے۔ ان دہشت گردوں کی عمر16 سے19 سال کے درمیان تھی، ا ٓٹھ گھنٹے مقابلہ جاری رہا تھا۔ دہلی سے این آئی سی کمانڈوز بلائے گئے فوج نے اس حملے کے جواب میں ٹینک بھی استعمال کیے تھےاس کا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا۔

مئی 2014ء میں پٹھان کوٹ پولیس نے کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن سے حزب المجاہدین نامی عسکری تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری عسکریت پسندکو گرفتار کیا۔ گرفتار رئیس الاسلام سے 2امریکی ساختہ پستول40 گولیاں50 ہزار نقدی اور 2 موبائل فون برآمد ہوئے تھے۔ اس پر بھی پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا۔

پٹھان کوٹ کی پولیس نے پاکستانی جاسوس کبوتر کو گرفتارکرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ کبوتر کے متعلق اس کی خفیہ ایجنسیوں نے بھرپور تفتیش کی تھی ایکسرے کئے گئے تھے کہ کبوتر کے اندر کیمرہ تو نہیں لگا ہوا مگر کوئی ایسا ثبوت نہیں مل سکا جس کی بنیاد پر اسے جاسوس قرار دیا جا سکتا مگر پٹھان کوٹ کے ایس ایس پی راکیش کوشل نے کہا تھا کہ وہ سرحد پار سے آیا ہے اس لئے اسے بیگناہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی اخبارات نے سوال اٹھایا ’’ سرحد پار سے آنے والا کبوتر ایک شاطر جاسوس ہے یا معصوم سیاح‘‘۔ 

پولیس کے مطابق سرحد کے قریب بہت سی فوجی تنصیبات ہیں، یہ کبوتر ان کی آسانی سے تصویریں کھینچ سکتا ہے۔۔۔ اگر ایسا ہے تو سیکورٹی کے نظرئیے سے بہت خطرناک ہو سکتا ہے یعنی پٹھان کوٹ میں واقعی بہت اہم فوجی تنصیبات ہیں ۔ پٹھان کوٹ اُس زمانے میں بھارت کا ایک اہم ایئر بیس تھاجب 65کی جنگ ہوئی تھی ۔اس ایئر بیس کو مسلسل بہتر سے بہتر بنایا گیا۔ 2015میں پٹھان کوٹ ایئر بیس کو نیوکلیئر سروس سے بھی جوڑ دیا گیا۔ 

بھارتی فضائیہ نے پٹھان کوٹ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو ایٹمی سازو سامان اور جدید ریڈارز سے بھی لیس کر دیا ۔ جموں کے قریب تر ہونے اورایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے کے سبب پٹھان کوٹ کی ائیربیس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے جماعتِ اسلامی کا مرکز اِسی پٹھان کوٹ میں ہواکرتا تھا۔ مولانا مودودی بھی وہیں ہوتے تھے۔ پٹھان کوٹ کے اس مرکز کی زمین چوہدری نیاز علی خان نے دی تھی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد بھی مئی 1947میں پٹھان کوٹ میں ہی رکھی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد وہیں سے فوجی ٹرکوں پر مولانا مودودی اپنی کتابیں لاد کر لاہور لائے تھے۔ سنا ہے اب بھی وہاں جماعت اسلامی کے خاصے لوگ آباد ہیں۔ سو پٹھان کوٹ ابھی تک حالت جنگ میں ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی نائب وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے بھی کہا کہ بھارت میں دہشت گردی کے ممکنہ حملے سے اس کی پاکستان کے ساتھ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ چند دن پہلے جب بھارتی وزیر اعظم کی اچانک لاہور آمد نے صورتحال بدل دی مگر بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات نارمل کرنا اتنا آسان نہیں ۔

پاکستان تو ہمیشہ سے بھارت سے تعلقات بہتر بنا ناچاہتا ہے اور مذاکرات کی میزپر کشمیر واپس لینے کے خواب دیکھتا ہے مگر بھارت میں کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ صرف اور صرف بندوق کی زبان سے بات کی جائے وہ ایسے حالات پیدا کرتے رہتے ہیں کہ دوملکوں میں کشیدگی برقرار رہتی ہے مگر بدلتی ہوئی دنیا میںیہ الزام تراشی کی ہنروری زیادہ دیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ دنیااب اچھی طرح جان چکی ہے کہ پاکستان کسی دہشت گردی میں ملوثٖ نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ایک طویل جنگ میں مصروف عمل ہے۔

منصور آفاق
بشکریہ روزنامہ "جنگ"


No comments:

Powered by Blogger.