Header Ads

Breaking News
recent

عراق اور شام کے بعد انڈیا صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ آف بارڈرز ( آر ایس بی) کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس دنیا بھر میں 110 صحافی ہلاک ہوئے۔ آر ایس بی کے سالانہ راؤنڈاپ کے مطابق ان میں سے 67 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

آر ایس بی نے صحافیوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنانا ان کے تحفظ کے لیے کیے گئے محدود اقدامات کی ناکامیوں کی جانب اشارہ ہے۔

   اب تک 787 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ آر ایس بی کا کہنا ہے رواں برس ہلاک ہونے والے 110 صحافیوں میں سے 43 کی ہلاکتوں کے بارے میں یہ پتہ نہیں لگایا جا سکا کہ انھیں اپنے کام کے باعث سے یا پھر کسی اور وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
بی بی سی کے صحافی ایکس این مارکس کا کہنا ہے 2015 میں ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صحافت ایک خطرناک شعبہ ہے۔ رواں برس ہلاک ہونے والے 110 صحافیوں میں سے 40 فیصد کو شدت پسند تنظیموں دولت اسلامیہ اور القاعدہ نے نشانہ بنایا۔

شام اور عراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ثابت ہوئے، لیکن وہاں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ باعث حیرت نہیں ہے۔   
     عراق، شام اور انڈیا کے بعد رواں برس سب سے زیادہ صحافی فرانس میں ہلاک ہوئے۔
شام میں گذشتہ سال کی نسبت رواں برس کم صحافی ہلاک ہوئے لیکن اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میڈیا تنظیمیں اب نہ صرف وہاں بلکہ عراق اور لیبیا میں بھی اپنے رپورٹروں کو بھجوانا خطرے سے خالی نہیں سمجھتیں۔
آر ایس بی کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفر ڈیلوا کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے موجود بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کے لیے مکینزم بنانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا خصوصی نمائندہ بلاتاخیر مقرر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 110 صحافیوں کی ایک سال میں ہلاکت ہنگامی اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے۔
صحافیوں کے تخفظ کے لیے رواں برس چھ اگست کو اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں سیکریٹری جنرل بان کی مون نے صحافیوں کی ہلاکتوں کے خلاف تشدد میں اضافے کو روکنے اور مجرمان کو سزا نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

آر ایس بی گذشہ 20 برس سے صحافیوں کے خلاف تشدد اور ان کی ہلاکتوں پر مبنی رپورٹ جاری کرتی آئی ہے۔ ایک اور عالمی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس بھی آج اسی موضوع پر اپنی رپورٹ جاری کرے گی۔

No comments:

Powered by Blogger.