Header Ads

Breaking News
recent

یہ وی آئی پیز آخر کب سمجھیں گے؟

آخر یہ لوگ کب سمجھیں گے؟ اگر ایک شیرخوار بچی، جسے اس کے والدین ہسپتال اس لیے نہیں لے جا سکے کیونکہ ہسپتال کے دروازے بلاول بھٹو کے 'پروٹوکول' کی وجہ سے بند تھے، کی موت بھی بلاول بھٹو کی پارٹی کے رہنماؤں کو نہیں سمجھا سکی تو پھر آخر یہ لوگ کس چیز سے سمجھیں گے؟

ہمیں اس ملک میں ایک عرصہ قبل وی آئی پی پروٹوکول کا مکمل خاتمہ کر دینا چاہیے تھا۔ کسی بھی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ پر "وی آئی پی پروٹوکول پاکستان" لکھ کر سرچ کریں اور وی آئی پی قافلوں کی ویڈیوز دیکھیں۔ خیبر پختونخواہ کے گذشتہ وزیرِ اعلیٰ کے پروٹوکول کی ویڈیو ہے جس میں 24 گاڑیاں، بشمول ایک ایمبولینس اور فائر انجن کے، گننے کے بعد آخر میں گنتی بھول گیا۔ ایک ویڈیو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے پروٹوکول کی بھی ہے جس میں میں 30 کے قریب گاڑیاں بشمول دو ایمبولینسز گن سکا، اور پھر گنتی بھول گیا۔

یہی وہ ملک ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کے گارڈز نے لاہور میں فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو قتل کر دیا تھا کیونکہ اس نے قافلے سے دور ہو جانے کے اشارے پر عمل نہیں کیا تھا۔ بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ کی بے حسی تو یادگار ہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے پروٹوکول کی وجہ سے ایک عورت نے ٹریفک جام میں رکشے میں ہی بچے کو جنم دیا، تو انہوں نے اس بات کو ہنسی میں اڑا دیا۔

ایک دفعہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں شہباز شریف کے دورے کے موقع پر ہسپتال کے باہر ایک بچہ ہلاک ہو گیا، لیکن ہسپتال انتظامیہ نے عوام کو یہ یقین دلانے کی پوری کوشش کی کہ بچے کی موت قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے ہوئی ہے، نہ کہ ہسپتال میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے۔ ایک دفعہ کرکٹ گراؤنڈ میں وزیرِ اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر لینڈ کروانے کے لیے کالج کرکٹ ٹورنامنٹ کو بھی رکوا دیا گیا تھا۔
یہاں تک کہ مشرف حکومت بھی، جس نے اپنے ابتدائی سالوں میں پورے وی آئی پی کلچر کو ختم کردینے کا عزم کیا تھا، آخر میں "سکیورٹی" کا بہانہ پیش کرنے لگی جب 2006 میں ایک یونیورسٹی کا طالبعلم جنرل مشرف کا قافلہ گزرنے کے انتظار میں ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے پتہ پھٹنے سے انتقال کر گیا۔
ایسی لاتعداد مثالیں موجود ہیں اور انہیں دوبارہ یاد کر کے متلی سی ہونے لگتی ہے۔ ایک عام آدمی کی زندگی اور اس کی مشکلات کے ہم اتنے عادی ہوگئے ہیں اور یہ سب کچھ اتنا معمول بن گیا ہے کہ اب ہمیں ایئرپورٹس پر وی آئی پی لاؤنج یا کراچی پولیس کے ایک چوتھائی حصے کے وی آئی پی سکیورٹی پر مامور ہونا عجیب محسوس نہیں ہوتا۔

ملک بھر کی سیاسی قیادت سے زیادہ پیپلز پارٹی کو احساس ہونا چاہیے کہ وی آئی پی کلچر کی وجہ سے عوام کتنی ذلت محسوس کرتے ہیں۔ آخر کو یہ جماعت خود کو پیپلز پارٹی کہلواتی ہے اور ملک میں جمہوریت کی اہمیت پر معمول سے بات کرتی ہے۔ ان کے رویے اور کچھ اقدامات کا جواز تو ہم پیش کر سکتے ہیں، لیکن آخر یہ لوگ کب جانیں گے کہ شیرخوار بچی کی موت پر نثار کھوڑو کے استعمال کردہ الفاظ سے ناقابلِ شمار سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے؟
اور کراچی میں جاری آپریشن پر رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر وفاقی حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد سیاسی نقصان وہ آخری چیز ہے جس کی یہ جماعت متحمل ہو سکتی ہے۔

بلاول کو یہ سمجھنے کے لیے زیادہ فہم درکار نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ایک بڑے سرکاری ہسپتال کا ایک بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ دورہ کرنا بہرحال سڑکیں جام کرے گا جس سے اس طرح کا کوئی بھی واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔ ہسپتال میں بلاول کو آخر ایسا کون سا ضروری اور فوری کام کرنا تھا کہ وہ عام فہم والی اس بات پر غور نہیں کر سکے؟

ہاں ایک بات ہمیں ماننی چاہیے، اور وہ یہ کہ صرف پیپلز پارٹی نہیں جو وی آئی پی کلچر میں شامل ہے۔ یہ ایسا کلچر ہے جو پورے پاکستان میں یکساں طور پر موجود ہے۔ اور یہ خود ہی فروغ پاتا ہے کیونکہ ایسے ماحول میں جس کے پاس بھی وی آئی پی پروٹوکول نہیں ہے یا جس کسی نے بھی عوامی ٹیکس کے پیسوں سے سکیورٹی گارڈ نہیں رکھے ہوئے، اسے کمزور سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔

اور اس ذہنیت سے میڈیا بھی آزاد نہیں ہے۔ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ کس طرح ٹی وی چینلز کی سیٹلائٹ وینز ایمرجنسی کا راستہ روک دیتی ہیں کہ ایمبولینسیں بھی اندر اور باہر نہیں آ جا سکتیں۔ ہسپتال انتہائی حساس جگہیں ہوتی ہیں اور ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کیسے رپورٹرز نے ڈاکٹروں کی جانب سے کام میں دخل اندازی سے منع کرنے پر ڈاکٹروں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ بریکنگ نیوز کسی کی جان بچانے سے زیادہ اہم نہیں ہے، اور یہ بات سمجھنے کے لیے بہت زیادہ ذہانت درکار نہیں ہے۔

کوئی بھی شخص عوامی وسائل کو ذاتی مقاصد کے لیے کس حد تک استعمال کر سکتا ہے، ہم اس حوالے سے قانون سازی کیوں نہیں کر سکتے؟ عوامی وسائل جیسے کہ پولیس کو ذاتی سکیورٹی کے طور پر استعمال کرنے، یا فائر انجنوں اور ایمبولینسوں کو وی آئی پی قافلے میں ساتھ لے کر چلنے پر حدود ہونی چاہیئں۔ یہ عام فہم کی بات ہے اور یہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔

خرم حسین
لکھاری ڈان اخبار کے اسٹاف ممبر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 24 دسمبر 2015 کو شائع ہوا 

No comments:

Powered by Blogger.