Header Ads

Breaking News
recent

روس، افغانستان اور ضیاء الحق

ہم چار لوگ دسمبر کے آخری ہفتے ’’آرمی ہائوس‘‘ راولپنڈی میں، فوج کے سربراہ اور صدر مملکت ضیاء الحق کے ہاں رات کے کھانے پر مدعو تھے۔ تب کمانڈر انچیف آرمی ہائوس میں مقیم تھے جو پشاور روڈ پر فوج کے دفاتر ’’جی ایچ کیو‘‘ سے ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہمارا قیام آرمی ہائوس کی انیکسی میں تھا، جو داخلی دروازے کے دائیں طرف واقع ہے، جس میں تین چار رہائشی کمرے ہیں۔ 

آج جس دن یہ مضمون جنگ کے قارئین کے زیر مطالعہ ہے، چھتیس (36) سال پہلے ٹھیک اسی تاریخ یعنی 27 دسمبر کو روس نے افغانستان میں داخل ہو کر کابل کے اہم مقامات اور مراکز پر قبضہ کر لیا تھا۔ روس کی ’’آرمی 40‘‘ کے دستے خفیہ ایجنسی ’’کے جی بی‘‘ کے ایجنٹوں کی رہنمائی میں افغان فوجیوں کی وردیاں پہن کر کابل پر قابض ہو گئے تھے۔
یہ کارروائی 27 دسمبر 1979ء کی رات سات بجے (7 بجے) شروع ہو کر 28 دسمبر کی صبح تک جاری رہی۔ 

اس عرصے میں روس کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے سربراہ ’’حفیظ اللہ امین‘‘ اسکے خاندان، دوست احباب کو بیدردی سے قتل کیا جا چکا تھا اور ان کی جگہ پر ’’کیمونسٹ‘‘ دھڑے کے دوسرے لیڈر ’’ببرک کرمل‘‘ روسی فوج کی نگرانی اور سرپرستی میں نئے حکمران مقرر کر دیئے گئے۔ 

یہ سب کچھ اچانک نہیں ہو گیا تھا، روس 1947ء، بلکہ اس سے بھی بہت پہلے افغانستان پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اور وہاں اپنے اثر و رسوخ کو مسلسل ترقی دے رہا تھا، اس کی طرف سے بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی تھی، سڑکیں، پل، سرکاری عمارتیں، اقتصادی امداد، فوجی تربیت، اسلحہ اور دیگر سہولتیں باافراط اور فراخ دلی سے دی جا رہی تھیں۔ ’’کیمونزم‘‘ کے نظریاتی گروپ بھی قائم کر دیئے گئے تھے۔
 اب اسے ایک مناسب موقع کی تلاش تھی اور 1979ء کے شروع ہوتے ہی روس کو ایسے مواقع باافراط میسر آنا شروع ہو گئے، خطے میں امریکہ کے سب سے بڑے حلیف ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، ایران کے اسلامی انقلاب کی دشمنی کا رخ امریکہ کی طرف تھا، فروری میں ایرانی انقلاب آ گیا، اپریل کی پہلی تاریخ کو ایران اسلامی جمہوریہ بن گیا۔
  
اپریل 1979ء کو پاکستان کی فوجی حکومت نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا اور پاکستان میں بھی سیاسی افراتفری پھیل گئی، رہی سہی کسر ایران کے انقلابی نوجوانوں نے امریکہ کے سفارتخانے پر قبضہ کرکے پوری کر دی، سینکڑوں امریکیوں کو یرغمال بنا لیا گیا اور امریکی حکومت صدر ’’کارٹر‘‘ کی سربراہی میں ناکام نظر آ رہی تھی، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے بھیجا گیا مشن بری طرح ناکام ہوا اور امریکیوں کی کمزوری آ شکار ہو گئی۔ 

ان واقعات نے یورپ کو سراسیمہ کر دیا، وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ افغانستان میں چند مہینے پہلے ’’انقلاب ثور‘‘ کے ذریعے دائود کو قتل کر کے کیمونسٹ حکومت ’’نور محمد ترکئی‘‘ کی سربراہی میں قائم ہو چکی تھی۔ یہ وہ آئیڈیل حالات تھے جس کا روس کو پچھلی چار دہائیوں سے انتظار تھا، حالات کو اس قدر ہموار دیکھ کر روس نے افغانستان پر براہ راست قبضے کا فیصلہ کر لیا۔اس روسی کارروائی کی اگلی رات یعنی 29 دسمبر 1979ء کو ہم لوگ صدر پاکستان ضیاء الحق کے مہمان تھے۔ رات تقریباً نو بجے ڈاکٹر بشارت الٰہی (جو بیگم شفیقہ ضیاء کے چھوٹے بھائی، ضیاء الحق کے ماموں زاد اور سمدھی بھی تھے) نے کہا چلئے کھانا کھاتے ہیں۔
کھانے کی میز پر بیگم صاحبہ موجود تھیں لیکن ضیاء الحق غیرحاضر۔ محترمہ نے بتایا کہ جنرل صاحب آرمی ہیڈکوارٹر ایک فوری مگر اہم میٹنگ کیلئے گئے ہوئے ہیں، ان کی واپسی شاید جلد نہ ہو سکے، اس لئے میرا خیال تھا کہ کھانا ٹھنڈا ہو جانے سے پہلے ہمیں کھا لینا چاہئے۔ کھانے کے بعد ہم واپس انیکسی لوٹ آئے، اگرچہ زوروں کی سردی تھی مگر کمروں میں ہیٹر کی وجہ سے موسم خوشگوار تھا۔ ہم لوگ یعنی ’’راقم‘‘، بھائی یٰسین، ڈاکٹر بشارت الٰہی اور اسلم خان (جو ڈاکٹر بشارت الٰہی کے کاروباری شراکت دار اور ضیاء الحق کے گہرے دوست تھے) ابھی گپ شپ لگا رہے تھے کہ ضیاء الحق کمرے میں داخل ہوئے اور کہا کہ ’’بہت زور کی بھوک لگ رہی ہے، آیئے کھانا کھائیں‘‘۔ کہا، ہم تو انتظار کے بعد کھا چکے، بولے، اچھا آپ ’’قہوہ‘‘ پئیں، میں کھانا کھاتا ہوں، ساتھ گپ شپ رہے گی۔ دوبارہ کھانے کی میز پر بشمول بیگم صاحبہ سب جمع ہو گئے۔ چند منٹ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد یٰسین بھائی نے کہا ’’جنرل صاحب، روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہو کر کابل پر قابض ہو چکی ہیں، آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ 

ضیاء الحق فوراً ہی بہت سنجیدہ نظر آنے لگے۔ ’’بولے، ہاں! جی ایچ کیو میں اسی لئے اہم اجلاس بلا رکھا تھا، آج امریکی صدر ’’کارٹر‘‘ کا بھی پیغام ملا ہے، انہوں نے کہا ہے پاکستان کو خاموش رہ کر حالات پر نظر رکھنی چاہئے اور روسیوں کو اشتعال دلانے سے اجتناب کریں تاکہ وہ مشتعل ہو کر پاکستان کو نقصان نہ پہنچائیں‘۔ مگر آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ اب کی بار یہ ڈاکٹر بشارت الٰہی تھے جنہوں نے یہ سوال اٹھایا، اب جنرل صاحب کی کھانے کی طرف رغبت کم ہو چکی تھی۔ کہنے لگے! یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے، افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کے خلاف دائود کی بغاوت بھی روس کے ایما پر ہوئی تھی، تب سے حالات پر پاکستان کی گہری نظر ہے، لیکن گزشتہ سال کا ’’انقلاب ثور‘‘ اور ’’نور محمد ترکئی‘‘ کی حکومت، افغانستان میں روس کی براہ راست آمد کے سلسلے میں ہے۔ نور محمد ترکئی جو دائود کے بعد، صدر، وزیراعظم اور پارٹی سربراہ بھی تھے، اس کے اپنے نائب وزیراعظم حفیظ اللہ امین کے ساتھ شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے، نور محمد ترکئی، حفیظ اللہ امین کو ختم کرنے والے تھے کہ امین کا ہاتھ پہلے اٹھ گیا اور اس نے ترکئی اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کر ڈالا اور خود پورے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

اس دن سے روس کی ’’آرمی 40‘‘ کے دستے مسلسل افغانستان میں اپنی تعداد بڑھا رہے تھے۔ 24دسمبر کو جب افغانستان اور روس کے درمیان ’’نام نہاد دوستی‘‘ کے معاہدے پر دستخط ہوئے تو ہم نے اپنے دوستوں کو روس کی براہ راست مداخلت کے امکان سے آگاہ کر دیا تھا۔ باقی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ ’’پرسوں یعنی 27 دسمبر 1979ء کو روسی دستوں نے کابل پر قبضہ کر کے حفیظ اللہ امین کو قتل اور اپنے خاص وفادار ’’ببرک کرمل‘‘ کو دکھاوے کیلئے اقتدار پر بٹھا دیا ہے۔‘‘ روس افغانستان کے پہاڑوں سے اپنا سر پھوڑنے نہیں آیا، اس کا ہمارے سمندروں کی طرف صدیوں سے سفر جاری ہے۔ اس نے ایک ایک کر کے مشرق میں مسلمان علاقوں پر قبضہ کیا، ان عظیم الشان مسلم ریاستوں کا نشان تک باقی نہیں، اب یہ سب روس کا قدرتی حصہ معلوم ہوتی ہیں، وہ زار روس کے عہد سے قدم قدم ہماری طرف بڑھتا آ رہا ہے۔ افغانستان کے بعد اس کی اگلی منزل براستہ بلوچستان سمندر تک پہنچنا ہے۔ یہ ایران اور پاکستان کیلئے خطرے کا الارم بلکہ آخری گھنٹی ہے۔

اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو افغانستان میں ٹکنے نہیں دیں گے۔ اب راقم کی باری تھی۔ عرض کیا! روس بڑی بے رحم عالمی طاقت ہے اور افغانستان کی ہمسایہ بھی، پاکستان اسے کس طرح روک پائے گا؟ بولے، افغانستان میں روس اور کیمونزم کے خلاف بڑی نفرت پائی جاتی ہے اور افغان اپنی سرزمین پر غیرملکی فوج کو برداشت نہیں کرتے، ہم ان کی مدد کریں گے۔ اب ان کے اندر کا فوجی ماہر بول رہا تھا۔ کہنے لگے! افغانستان میں روس کیلئے ٹرانسپورٹیشن، کمیونیکیشن، سپلائی کی سہولتیں کافی نہیں ہیں، اسلحہ ڈپو، رن وے، فوجی چھائونیاں، تیل کے ذخائر یہ سب کچھ بنانا اور تعمیر کرنا پڑے گا۔ درکار، دستیاب سہولتوں کے حساب سے وہ زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ ’’ٹروپس‘‘ لا سکتا ہے۔

پاکستان اور ایران کی طرف قدم بڑھانے کیلئے اسے دس لاکھ کی تعداد میں فوج درکار ہے، اتنی فوج کی تیاری اور سہولتوں کی تعمیر کیلئے اسے پندرہ، بیس سال درکار ہوں گے، وہ بھی اس صورت میں کہ اسے پرامن افغانستان مل جائے تو۔ اس لئے آج ہم نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ’’امریکہ کا مشورہ کچھ بھی ہو، ہم افغانستان میں روس کو پرامن قیام کا موقع نہیں دیں گے، ہمارے لئے آسان ہے کہ آج افغانستان کے پہاڑوں میں ایک لاکھ روسیوں کا سامنا کریں بجائے اس کے کہ دس برس بعد ’’ایک ملین‘‘ روسی فوجیوں کے خلاف پنجاب کے میدانوں یا بلوچستان میں لڑنا پڑے۔

 آپ کوئی فکر نہ کریں، جب تک ہم زندہ ہیں یہی کریں گے، جب ہم نہیں ہوں گے تو ہماری ذمہ داری ختم۔ اپنی فوجی جبلت کے اظہار کے بعد وہ ایک جذباتی مسلمان کی طرح بولے’’ افغانستان کے ہم برصغیر کے مسلمانوں پر بڑے احسانات ہیں، صدیوں سے وہ ہماری مدد کرتے آئے ہیں، ہر برے وقت میں وہاں سے ہمیں مدد ملتی رہی اور ہم ہندو اکثریت سے کبھی نہیں گھبرائے۔ انہوں نے مرہٹوں، ہندو انتہا پسندوں اور سکھوں کے مقابلے میں ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، ہمارے لئے صدیوں کے احسانات چکانے کا یہ پہلا موقع ہے، ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ 

ایک طرف یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے، دوسری طرف پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا فرض، ہم دونوں ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ ہاں ایک اور بات آپ پٹھانوں کی جنگ جوئی پر بھروسہ کریں گے، ان میں ہر کوئی پیدائشی گوریلا ہے، خطرے کا احساس ہوتے ہی ان کے اندر عجیب پراسرار قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ ہمیں ان کو منظم کرنا ہے، آپس میں الجھنے سے بچانا ہے، ضرورت کے مطابق اسلحہ اور وسائل فراہم کرنے ہیں، وہ ہم کر ہی لیں گے‘ آپ کوئی فکر نہ کریں۔ فوجی کام ہمارے ذمے۔ آپ اب سیاست کی سنائیے؟

طارق چودھری، سابق سینیٹر

 بشکریہ روزنامہ'جنگ'


No comments:

Powered by Blogger.