Header Ads

Breaking News
recent

ان تعیشات پر بھی ٹیکس لگائیے حضور

شداد کو بڑا ناز تھا اپنی طاقت اور دولت پر۔ پھر ایک دن اُسے کسی ’’سیانے‘‘ نے بتایا کہ لوگ کسی اَن دیکھی جنت کی بات کرتے ہیں۔ تم (نعوذ باللہ) خدا ہو۔ تمہاری تو ضرور ایک جنت ہونی چاہیئے۔ بس پھر جنت بنائی جانے لگی۔ دودھ اور شہد کی نہریں  بنائی گئیں۔ انگور اور میوہ جات کے باغات سے مزین قارون نے جنت بنائی لیکن خود اُس جنت کو کبھی بھی نہیں دیکھ پایا۔

جناب وزیر خزانہ بھی میاں نواز شریف صاحب کی قیادت میں پاکستان کو دنیا میں جنت کا ٹکڑا بنانے پر تُلے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ عوام کو یہ جنت نصیب ہوگی یا خود صاحبینِ اقتدار کو۔ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، ڈار صاحب جنت بنانے کی مہم میں خاصے مگن ہیں۔ ان کی لگن کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی پارٹیاں جو پارلیمان میں اپنی نمائندگی رکھتی ہیں، خاموش تماشائی بنی نظر آرہی ہیں۔
جناب اسحاق ڈار صاحب نے گذشتہ چند دنوں میں جنت سازی کی مہم کے اہم معرکوں کا اعلان بھی کیا، جن میں بیسوں ارب روپوں کی کشکول مل جانے کا تذکرہ سر فہرست رہا۔

 پھر جناب نے فرمایا کہ اسپتالوں کوبہتر بنانے کے لئے فروخت کیا جائے گا۔ اب جناب نے ایک نوٹیفیکیشن نکال کر 40 ارب کے نئے ٹیکس بھی لگا دیئے۔ ایوان میں اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی جو صاف طور پر دو باتوں کا اظہار ہے۔ اول کہ حکومت کتنی دلچسپی لیکر ایوان اور جمہوریت کے دل کو متحرک رکھنا چاہتی ہے، ثانیاََ عوامی نمائندے کتنی دیانت داری سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
خیر اب کی بار ہمیں خیال آیا کہ کیوں نا جناب ڈار صاحب کو ایک ایسی فہرست پیش کی جائے، جو تعیشات کے دائرے میں آتی ہے لیکن ابھی تک سرکار کی نظر سے اوجھل ہے۔
 آخر ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہماری بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے کہ نہیں؟ جب فہرست بنانے بیٹھا تو سب سے پہلے ایوان سے آئی ایک خبر پر نظر پڑی سوچا یہ تعیشات کی آئٹم تو نہیں ہے لیکن بھر بھی ڈار صاحب کو تو ضرور بتانی چاہیئے تا کہ وہ غریب پروری کا اظہار تو کرسکیں۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی خاتون ممبر اسمبلی نے ایک بار پھر ایوان کے اندرونی حالات کے کچھ راز لیک کردئیے ہیں۔ اس سے پہلے جمشید دستی صاحب نے بھی کچھ اسی طرح کے رازوں سے کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب جناب ڈار صاحب آپ بھی متحرک ہو کر ان ایکشن موڈ میں ری ایکشن پلے کر دیں تو پارلیمان میں برآمد کی جانے والی چرس پر ٹیکس لگ سکتا ہے، کیوںکہ جو چرس پی کر ایوان میں آتا ہے وہ یقیناََ ٹیکس دینے کے قابل تو ضرور ہوگا۔

ایک مشہور ماہرِ معاشیات نے بتایا کہ 75 لاکھ افراد کو ضرور ٹیکس دینا چاہیئے، مطلب ہر 26 افراد میں سے ایک ٹیکس ادائیگی کی فائل جمع کروائے تو معاشرے میں خوشحالی کا دور لوٹ آئے گا۔ اس وقت پاکستان میں صرف 10 فیصد افراد ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے ہیں۔ ان میں بھی زیادہ تر کم آمدن والے افراد ہیں۔
اب ذرا ان آئٹم کا ذکر کرتے ہیں جو ابھی تک جناب ڈار صاحب کی نظرِ کرم سے اوجھل ہیں لیکن ہیں قابل در اندازی ٹیکس۔ ان اشیاء یا سہولتوں پر اگر ٹیکس لگا دیا جائے تو اُس منزل کے مل جانے کی قوی امید ہے جسے تلاش کرنے میں جناب ڈارصاحب ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور جس کی پشت پناہی بین الاقوامی ادارے اور ملکی سرمایہ دار یکساں طور پر کرتے ہیں۔

سب سے پہلے تو پیدائش ہی کو آنا چاہیئے۔ ملک میں روز بروز بڑھتی شرح پیدائش اس قابل ہے کہ مسندِ اقتدار پر بیٹھے افراد کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ان کو دائرہ ٹیکس میں لایا جائے۔ ساری دنیا پاکستان کی آبادی پر پریشان ہے، اب بھلا اس اہم سورس کو کیونکر اگنور کیا جائے؟

دوسری اہم سہولت سانس لینے کے لیے آکسیجن ہے۔ اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ ہر فرد کھلے عام سانس لیکر ہوا کو آلودہ کرتا پھرے۔ آخر ماحول کی پروٹیکشن بھی کسی کی ذمہ داری ہے کہ نہیں؟ اگر گاڑیاں دھواں چھوڑتی ہیں تو کیا پاکستانی بھی دھواں نما سانس دینے لگیں؟ نا بھائی، بالکل بھی نہیں۔ اگر سانس لینا بنیادی حق ہے تو دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا بھی تو غلط ہے۔ پھر سانس کی بیماریاں الگ ہیں۔ اب 20 کروڑ کی آبادی پر کم از کم یومیہ ایک روپیہ ٹیکس تو دینا بنتا ہی ہے نا۔

موت بھی ایک ایسا عمل ہے جس سے جانے والا تو سکھ کی سانس لیتا ہے، اب بھلا ایک آدمی سُکھ کی زندگی گذارنے کے قابل ہوگیا ہے تو ٹیکس دینے کے قابل تو وہ  ہوا ناں؟ کم از کم ایک بار ٹیکس دینا تو مرجانے والے کی ذمہ داری بنتی ہے۔ کیوںکہ یہ ٹیکس صرف ایک بار ہی دینا ہوگا اس لئے اس کی شرح سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔

سارے ملک میں حجامت کی دکانیں کھلی ہیں۔ لازم ہے کہ ان پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے ۔ یہ ذریعہ آمدن بھی کافی رقم وصول کرنے کا سبب بنے گا۔
صاحبو! ملک میں ٹیکس چوروں کا بازار لگا ہے۔ اس لئے سوچا کچھ ایسے ذرائع سامنے لائے جائیں جس کے آنے کے بعد کوئی ٹیکس دینے سے بچ نہ پائے۔ ورنہ یقین رکھئیے بندہِ ناچیز بھی ڈار صاحب کی ٹیکس منطق سے عاجز آچکا ہے۔

محمد عاصم

No comments:

Powered by Blogger.