Header Ads

Breaking News
recent

ذرا اسرائیل تک

ہم پاکستانیوں کا اور خاص طور پر مسلمانوں کا یہودیوں اور اسرائیل کے ساتھ ایک ناقابل بیان جذباتی، تاریخی اور سیاسی رشتہ ہے۔ جب ذکر قبلہ اول، بیت المقدس اور انبیاء کرام کی سرزمین کا ہو تو ہم اسرائیل کی سرزمین کے حوالے سے احترام اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب بات فلسطینیوں پر ظلم وستم، قبلہ اول کی بے حرمتی اور صہیونی طاقت کے بے قابو ہونے کی چل پڑے تو ہماری آنکھوں میں گویا خون اتر آتا ہے۔

 یہ بات بھی نہایت منفرد حیثیت اور اہمیت کی حامل ہے کہ 14اگست1947ء کو قائم ہونے والی اسلامی ریاست پاکستان اور 14مئی 1948ء کو قائم ہونے والی یہودی ریاست اسرائیل دنیا بھر میں دوایسی ریاستیں ہیں جن کی بنیاد نظریے پر استوار ہے۔ یہ قدر مشترک اپنی جگہ لیکن ان دونوں ریاستوں کے درمیان سرکاری اور عوامی سطح پر کبھی کوئی ایسا رابطہ مشاہدہ نہیں کیا گیا جو بین الاقوامی برداری کے سفارتی ماحول میں ایک معمول تصور کیا جاتا ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے درمیان 3283کلو میٹر کا فاصلہ ہے لیکن پھر بھی یہ ایک دوسرے کو اپنا حریف اور دشمن تصور کرتی ہیں۔

 اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم ہوا تو پاک فضائیہ کے شاہین اپنے عرب بھائیوں کی مدد کے لئے وہاں جا پہنچے اور اسرائیلی فوج کی کمر توڑ کررکھی دی۔ دوسری طرف جب بھارت نے پاکستان کے ایٹمی مرکز (کہوٹہ) پر حملہ آور ہونے کی سازش تیار کی تو اسرائیل کے ماہرین اپنا تجربہ اور معاونت فراہم کرنے کے لئے نئی دہلی آ گئے۔
اس پس منظر میں یہ حقیقت انتہائی حیرت انگیز قرار دی جاسکتی ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ''تعاون'' کا مرحلہ ''مردمومن'' جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں اس وقت طے پایا جب 1979ء میں سویت یونین نے افغانستان پر عسکری یلغار کردی۔ جواب میں افغان عوام کی مزاحمتی تحریک کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پاکستان کے توسط سے افغان مجاہدین کی ہر طرح کی مدد کرنا شروع کردی تو اسی دوران یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیل کی طرف سے بھی اس ''جہاد'' میں حصہ پیش کیا گیا یعنی تل ابیب نے اسلام آباد کو اسلحہ فراہم کیا جو کراچی کی بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ تک لایا گیا۔ اس واقعہ کی تصدیق بریگیڈیئر (ر) محمد یوسف نے اپنی کتاب  میں کیا۔ موصوف اس زمانے میں آئی ایس آئی میں افغان بیورو کے سربراہ تھے۔

غالباً یہ 1984ء کا واقعہ ہے، میں نے دانشور اور ادیب بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے پہلی مرتبہ اپنے خفیہ دورہ اسرائیل کی تفصیل بیان کی تھی۔ ان کے مطابق وہ یونیسکو میں خدمات انجام دے رہے تھے کہ بعض عرب ممالک کی طرف سے یہ شکایت کی گئی کہ اسرائیل کی حکومت اپنے زیرنگرانی علاقہ جات میں عرب طلباء کو جبری طور پر ایسی نصابی کتب پڑھنے پر مجبور کرتی ہے جن کی اجازت یونیسکو سے حاصل نہیں کی گئی۔

 مسئلہ یہ تھا کہ جب یونیسکو کے نمائندے پڑتال کے لئے مذکورہ مدارس کا معائنہ کرتے تو اسرائیلی حکام انتہائی مکاری کے ساتھ وہاں پر نصابی کتب تبدیل کردیتے اور طلباء کو ہراساں کرکے یونیسکو حکام کے سامنے حقائق کے منافی اعترافیہ بیان دینے پر مجبور کرتے۔ اس پس منظر میں طے پایا کہ شہاب صاحب بھیس بدل کر ان مدارس کا معائنہ کریں۔ شہاب صاحب نے اپنی پاکستانی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لئے ایرانی پاسپورٹ حاصل کیا (اس وقت ایران میں رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت تھی اور ایران اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات موجود تھے)۔ 

یوں شہاب صاحب نے ایک انتہائی خفیہ مشن کامیابی کے ساتھ مکمل کیا لیکن روحانی اور دینی اعتبار سے ان کی اصل کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے اس دوران ایک پوری رات مسجد اقصیٰ کے ایک حجرے میں یوں گزاری کہ ان کے پاس دوسرا کوئی شخص نہیں تھا۔ بعدازاں اپنے اس دورے کے احوال انہوں نے اپنی خودنوشت ''شہاب نامہ'' میں بھی رقم کئے تھے۔

یہ سطور تحریر کرتے ہوئے اچانک یاد آیا کہ ایک زمانے میں آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق احمد خان نے پشاور بار ایسویسی ایشن سے خطاب کے دوران اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے آواز بلند کی تھی۔ موصوف نے اس حوالے سے دلائل دئیے ان کا خلاصہ تھا کہ قیام پاکستان کے وقت بھارت میں ہزاروں مسلمانوں کو تہ تیغ جبکہ عورتوں کو اغوا اور بے آبرو کیا گیا، اب تک اس کے ساتھ ہمارے چار بڑے عسکری تصادم ہوچکے ہیں، نئی دہلی نے ہمارے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کردیا، وہ وہمارے کشمیر پر بھی قابض ہے، بھارت اور پاکستان کی روایتی دشمنی سے ساری دنیا واقف ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان نے بھارت کو تسلیم کررکھا ہے
 اور اس کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ 

اس کے مقابلے میں اسرائیل نے پاکستان کے ساتھ مذکورہ ''زیادتیوں'' میں سے کسی ایک زیادتی کا ارتکاب نہیں کیا لیکن ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجہ میں ہمارا رابطہ کسی سطح پر اس اسرائیلی اور یہودی لابی کے ساتھ نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں اور عملی طور پر بین الاقوامی سیاست، معیشت، میڈیا اور سفارت کاری پر اپنا نتیجہ خیز اثرور سوخ رکھتی ہے۔

واقفان حال اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جب پہلی مرتبہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو انہوں نے فلسطین کی ریاست اور اس کے لیڈر یاسر عرفات سے اظہار یکجہتی کے لئے فلسطین کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا۔ 
اس تاریخی دورے کے انتظامات اور تیاریاں شروع کردی گئیں لیکن درمیان میں مسئلہ یہ آن پڑا کہ اسرائیل کی حکومت کی طرف سے واضح کیا گیا کہ پاکستانی وزیراعظم کا یاسرعرفات اور آزاد فلسطین ریاست تک رسائی کے لئے اسرائیل کی سرزمین سے گزرنا ہوگا جس کے لئے تل ابیب سے اجازت حاصل کرنا سفارتی اور قانونی تقاضا ہے۔

 اس وضاحت کے ساتھ ہی البتہ یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اگر پاکستان کی حکومت کی حکومت نے ایسی اجازت کے لئے رجوع کیا تو تل ابیب کی طرف سے انکار نہیں کیا جائے گا۔ جب یہ معاملہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے مذکورہ دورہ منسوخ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی کسی اجازت کے لئے تل ابیب سے رابطہ کا سفارتی سطح پر اخلاقی مفہوم اور اشارہ یہ ہوگا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جن دنوں بیگم عابدہ حسین امریکہ میں وطن عزیز کی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں، ان دنوں بھی ایسی خبریں (یا افواہیں) گردش میں رہیں کہ بیگم صاحبہ کے توسط سے بعض پاکستانی تاجروں نے تل ابیب کا دورہ کیا تھا۔ اب حال ہی میں اچانک اسرائیل کے حوالے سے قومی سیاسی حلقوں میں تلخ وشیریں جذبات کا اظہار مشاہدہ کیا جارہا ہے چنانچہ سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری نے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران اپنے دورہ اسرائیل کی تصدیق کردی۔

 انہوں نے یہ سنسنی خیز اور تاریخی انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں امریکہ کے ساتھ سول جوہری ڈیل کرنے کے سلسلے میں اسرائیل کی حمایت حاصل کرنے کے لئے تل ابیب گئے تھے اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر کئے گئے فیصلے میں پاک فوج اور آئی ایس آئی سمیت جملہ حساس ادارے بھی شامل تھے۔ خورشید قصوری نے بتایا کہ مجھے بڑے عجیب طریقے سے وہاں پر لے جایا گیا۔ میں پہلے لیبیا، پھر مالٹا اور وہاں سے ایک چھوٹے جہاز کے ذریعے استنبول پہنچا۔ جب میں ایئر پورٹ پر اترا تو تمام بتیاں بجھا دی گئیں۔

وہاں پہنچنے پر ان کے ایک وزیر نہایت راز داری کے ساتھ مجھے ملنے آئے اور کہا کہ ہمیں بھی خدشہ ہے کہ یہ بات منظر عام پر نہ آجائے۔ ترکی، اسرائیل کو تسلیم کرچکا تھا لیکن وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتا تھا کہ وہ پاکستان اور اسرائیل کو ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے۔

قصوری نے کہا اسرائیل ہمیں بہت کچھ دینے کو تیار تھا۔ اس کی طرف سے جدید ترین زرعی ودیگر ٹیکنالوجی کی پیشکش کی گئی تھی۔ سابق وزیرخارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان پس پردہ تعلقات رہے ہیں اور اب بھی ہوسکتے ہیں۔ عرب ممالک بھی کھلم کھلا ہاتھ نہیں بڑھا رہے۔ ابوظہبی میں انہوں نے ایک دفتر کھولا ہے [اس خبر کی تردید کی جا چکی ہے]  قطر نے اس سے پہلے ٹریڈ آفس بھی کھولا تھا لیکن بعد میں بند کردیا گیا۔

مصر، اومان ماریطانیہ اور اردن کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور خلیج کونسل کے ممبر ممالک کی کوشش یہی ہے کہ تعلق خاموشی سے بہتر ہوجائے تاہم فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک کھلے بندوں اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے واپس نہیں جاتا، اس وقت تک سعودی عرب بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا۔

سحر صدیقی
 بشکریہ روزنامہ جہان پاکستان 

No comments:

Powered by Blogger.