Header Ads

Breaking News
recent

داعش سے تجارت اور بمباری ایک ساتھ نہیں چل سکتے

پیرس حملے کے بعد فرانس سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سانحہ پیرس کے بعد فرانس کے لوگ سکتےمیں تھے اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ دنیا کی بڑی طاقت کہلانے والی قوم کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے جو دنیا میں اُن کی تذلیل کا سبب بن جائے گا مگر جوں جوں دن گزرتے جارہے ہیں، یورپ میں مقیم مسلمانوں کے خلاف اُن کے متعصبانہ رویئے اور نفرت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور وہ سانحہ پیرس کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہراتے ہوئے اُنہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنارہے ہیں جس میں روز برور شدت آتی جارہی ہے۔ 

فرانسیسی وزیر داخلہ نے ملک میں سینکڑوں مساجد کو بند کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ان مساجد کے علماء کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ فرانس میں مقیم ایسے تمام علماء کو ملک بدر کرکے ان کی مساجد بند کردی جائیں گی جو فرانس میں مذہبی منافرت پھیلانے کے مرتکب پائے جائیں گے۔ واضح ہو کہ فرانس میں گزشتہ چند سالوں کے دوران 40 سے زائد علمائے کرام کو ملک بدر کیا جاچکا ہے جن میں سے زیادہ تر علماء کو 2015ء میں ملک بدر کیا گیا۔
پیرس واقعہ کے بعد فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے ملک میں نافذ ایمرجنسی میں 3 ماہ کی توسیع کردی ہے جس کے بعد فوج اور پولیس کو لوگوں کے گھروں پر بلااجازت چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرنے کے اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں فرانسیسی پولیس نے سینکڑوں چھاپوں میں فرانس میں مقیم کئی سو مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ پیرس حملے کے مرکزی ملزم صالح عبدالسلام کی تلاش میں پولیس اور فوج کے مشترکہ چھاپے جاری ہیں لیکن انہیں مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

 ایسی اطلاعات ہیں کہ سانحہ پیرس میں ملوث دہشت گرد 8نہیں بلکہ 9 تھے جن میں سے ایک حملہ آور اور منصوبے کا ماسٹر مائنڈ عبدالحمید اباعود پیرس کے مضافاتی علاقے میں واقع اپارٹمنٹ پر پولیس اور فوج کے مشترکہ چھاپوں کے دوران مارا گیا جبکہ وہاں موجود دہشت گرد کی خاتون ساتھی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

فرانس کے علاوہ امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھی مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جہاں مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور ان کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ بلجیم سمیت مختلف یورپی ممالک میں مسلمانوں کے گھروں پر متعدد بار چھاپے محض علاقہ مکینوں کی شکایت پر مارے جارہے ہیں جو اپنے قرب و جوار میں رہنے والے مسلمانوں کو شکل سے دہشت گرد سمجھ کر پولیس کو اطلاع کررہے ہیں۔ ان چھاپوں کی آڑ میں اب تک درجنوں بے گناہ مسلمانوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ 
اسی طرح جرمنی میں گزشتہ دنوں اسلام مخالف ریلی نکالی گئی جس میں اسلام مخالف بینرز اٹھائے ہزاروں جرمن شہریوں نے شرکت کی جبکہ کینیڈا میں ایک مسجد کو نذر آتش کردیا گیا۔ مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے متعصبانہ رویئے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انتہا پسندانہ اعلان کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو امریکہ کی تمام مساجد بند کروادی جائیں گی۔

 انہوں نے اپنے بیان میں حکومت کو یہ تجویز بھی دی کہ پیرس حملے کے بعد پناہ گزینوں کیلئے امریکہ کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کردیئے جائیں کیونکہ شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا مقصد امریکہ میں پیرس جیسے حملوں کی راہ ہموار کرنا ہے جس کے بعد امریکہ کی 23 ریاستوں میں شامی باشندوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پیرس واقعہ کے بعد داعش کے ٹھکانوں پر فرانسیسی طیاروں کے فضائی حملوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے شام میں داعش کی خود ساختہ ریاست کے دارالحکومت ’’رکا‘‘ پر متعدد فضائی حملے کئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر دفاع نے ان حملوں کو داعش کیلئے دھچکا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس ایسے مزید حملے کرکے بہت جلد داعش کا خاتمہ کردے گا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے اپنا بحری بیڑہ شام کی طرف روانہ کردیا ہے جبکہ فرانس کا طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی شام کی طرف پیش قدمی کررہا ہے

 جس سے یہ بات خارج از امکان نہیں کہ فرانس، امریکہ اور اتحادی افواج کے ساتھ مل کرداعش کے خلاف زمینی کارروائی کا آغاز کرے لیکن اگر فرانس نے شام میں امریکی افواج کی افغانستان میں فوجی کارروائی کی طرز پر داعش کے خلاف فوجی کارروائی کی تو وہ نہ صرف امریکہ کی طرح گہرے دلدل میں پھنس جائے گا بلکہ اسے بھاری جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔

روسی صدر ولا دی میر پیوٹن کے حالیہ انکشاف کہ عراق اور شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کو 10 ترقی یافتہ ممالک مالی طور پر سپورٹ کررہے ہیں جن میں سے کچھ ممالک G-20 کے رکن بھی ہیں، نے دنیا کے ہر شخص کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ ولادی میر پیوٹن کے بقول انہوں نے ترکی کے شہر اناتالیا میں منعقدہ G-20 سربراہی کانفرنس کے دوران روسی انٹیلی جنس اداروں کی ایسی رپورٹس بھی پیش کی ہیں جن میں مختلف ممالک اور پرائیویٹ اداروں کی جانب سے داعش سے منسلک گروپس کی فنڈنگ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 روس کے صدر پیوٹن کے انکشاف نے مالی طور پر مستحکم صنعتی و ترقی یافتہ ممالک کے کردار کو بے نقاب کردیا ہے لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ داعش کے خلاف حکمت عملی تیار کرنے کیلئے منعقد کئے گئے G-20 کے سربراہی اجلاس میں ایسے ممالک بھی شریک تھے جو داعش کو مالی طور پر سپورٹ کررہے ہیں۔

داعش کو کچلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس کی فنڈنگ کے ذرائع بند کر دیئے جائیں مگر شاید امریکہ اور کچھ مغربی ممالک ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ داعش، عراق اور شام کے جن علاقوں پر قابض ہے، وہاں تیل کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں جنہیں فروخت کرکے داعش مالی طور پر انتہائی مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ داعش سے ایسے ترقی یافتہ ممالک تیل خرید رہے ہیں جو بظاہر داعش کے خلاف ہیں لیکن ایک طرف وہ اندرونی طور پر داعش سے تجارت کر رہے ہیں تو دوسری طرف داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جس کی زد میں آکر عام شہری مارے جا رہے ہیں

 جبکہ داعش کے جنگجوئوں کا نقصان بہت کم ہو رہا ہے۔ داعش سے تجارت اور بمباری ایک ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ اگر داعش سے تجارت اور بمباری کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو داعش کمزور ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ طاقتور دہشت گرد تنظیم بن کر ابھرے گی اور پھر مستقبل میں بھی سانحہ پیرس جیسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔  

اشتیاق بیگ
 بشکریہ روزنامہ 'جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.