Header Ads

Breaking News
recent

شہرہ آفاق غریب صدر کا ترکی میں تھری سٹار ہوٹل میں قیام

معاصر تاریخ کے غریب ترین اور سفید پوش سمجھے جانے والے یوراگائے کے سابق صدر خوسے موخیکا ان دنوں ترکی کی اپوزیشن پارٹی"پیپلز ری پبلیکن" کی دعوت پر استنبول میں ہیں جہاں انہوں نے کسی پر تعیش ہوٹل کے بجائے ایک عام سے ریستوران میں رہائش اختیار کی ہے۔ خوسے جب اپنے ملک کے صدر تھے تب بھی انہوں نے غربت اور سفید پوشی کی زندگی بسر کی۔ ان کے دور میں یوراگائے کے صدارتی محل سے عیش عشرت رخصت ہو چکے تھے۔

اب وہ ایک دوسرے ملک کی سیاسی جماعت کی دعوت پر ترکی پہنچے ہیں۔ انہوں نے یہاں پر بھی کسی سابق صدر کا پروٹوکول لینے کے بجائے اپنی سادگی برقرار رکھی ہے۔ وہ 10 دن تک ترکی میں قیام کریں گے جہاں نے استنبول میں ایک تین ستارہ ہوٹل میں ایک کمرہ کرائے پر حاصل کیا۔ ہوٹل کے کمرے کا ایک دن کا کرایہ 90 ڈالر ہے۔ البتہ طعام کے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔ خوسے اپنی اہلیہ کے ہمراہ اس ہوٹل میں رہائش پذیر ہیں۔ دس دن کے بعد 900 ڈالر کی رقم ہوٹل کو ادا کرنے کے بعد وہ وہاں سے نکل جائیں گے۔

اخبار "حریت" کے مطابق یوراگائے کے سابق سفید پوش صدر خوسے موخیکا نے ترکی میں نہ صرف ایک سستے ہوٹل میں رہائش رکھی ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کے لیے وہ  ایک پرانے ماڈل کی فوکسی کار استعمال کرتے ہیں۔ یہ کار انہیں "پیپلز ری پبلیکن " پارٹی کے نائب صدر علی اغبابا نے تحفے میں دی ہے۔ سنہ 2010ء سے رواں سال مارچ تک خوسے اپنے ملک کے صدر رہے تو وہ یہی فوکسی کار استعمال کرتے رہے ہیں۔ وہ ایوان صدر میں رہنے کے بجائے ایک پہاڑی پر بنے اپنے کچے مکان میں رہتے رہے۔ ان کے گھر تک پکی کیا کچی سڑک تک نہیں ہے۔ وہ پگ ڈنڈی سے پیدل چل کر اپنے گھر تک پہنچتے ہیں۔

بہ طور صدر خوسے موخیکا 12 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی تنخواہ وصول کرتے تھے مگر اپنی تنخواہ کا 90 فی صد وہ خیراتی اداروں اور غریبوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والوں کو دے دیتے تھے۔ اپنے لیے وہ صرف 775 ڈالر کی رقم رکھتے جس میں وہ اپنے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔

صدارت سے سبکدوش ہوئے تو ان کے کل اثاثوں کی مالیت 1800 ڈالر بتائی گئی۔ اس کے علاوہ ایک 1987ء ماڈل کی "پیٹل" کار، ایک جھونپڑی نما مکان جس کے صحن میں ان کی اہلیہ نے کچھ پھول دار پودے لگا رکھے ہیں کل املاک تھیں۔ گھر میں سیکیورٹی کے لیے دو فوجیوں کی خدمات لی گئی تھیں جنہیں ایک تین ٹانگوں والے "مانویلا" نامی کتے کی بھی معاونت حاصل رہی۔


ترکی میں مصروفیات

دنیا کے غریب سمجھے جانے والے صدر خوسے موخیکا ترک پیپلز ریپبلیکن پارٹی کے مہمان ہیں۔ وہ  ترکی میں ان شہروں کا دورہ کریں گے جہاں جہاں ری پبلیکن پارٹی کی مقامی حکومتیں قائم ہیں۔ اس دوران ان کی ملاقات ترکی کی موجودہ حکومت کے عہدیداروں سے بھی ہو گی۔

اخبار "زمان" کے مطابق موخیکا ری پبلیکن پارٹی کے صدر کمال کیلچ دار اوگلو سے بھی ملاقات کریں گے۔ ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں بھی شرکت کریں گے۔ "اسکی شہر" اور  ازمیر شہروں کا دورہ کریں گے۔

میڈٰیا رپورٹس کے مطابق 81 سالہ موخیکا نے استنبول سے 19 گھنٹے کی فضائی مسافت پر واقع یوراگائے کے شہر مونٹی فیڈیو سے قومی ایئر لائن کی اکانومی کلاس کے ذریعے سفر کیا۔ یوراگائے میں یہ سب سے سستی فلائٹ سمجھی جاتی ہے۔ وہاں سے وہ پیرس پہنچے جہاں سے اور فضائی کمپنی کی اکانومی کلاس کے ذریعے استنبول کا سفر کیا۔

استنبول ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو وہ پرانے ماڈل کی ایک فوکسی کار میں سوار تھے۔ اس وقت ان کی کار ری پبلیکن پارٹی کے نائب صدر چلا رہے تھے۔ ترکی کے عوام بھی دنیا کے غریب صدر کی آمد کا سن کر سڑکوں پر ان کے استقبال کو کھڑے تھے اور وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آج کی دنیا میں کوئی ایسا سفید پوش صدر بھی ہو سکتا ہے جو ایک پرانی اور سست رفتار کار میں سفر کر رہا ہے۔
 

No comments:

Powered by Blogger.