Header Ads

Breaking News
recent

افغانستان کی تقسیم یقینی؟

مغربی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیںکہ اب یہ کوئی راز کی بات نہیں رہی کہ افغانستان تقسیم ہونے جارہا ہے، موجودہ افغان حکومت طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے والی ہے یا خونریزی کا ایک نیا باب رقم ہونے والا ہے کیونکہ 7 جولائی 2015ء کو پاکستان کی مدد سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونیوالے ’’مری مذاکرات‘‘ کے بعد امریکہ، بھارت اور خود موجودہ افغان حکومت جو زیادہ تر سابقہ شمالی اتحاد پر مشتمل ہے، طالبان کے ساتھ مذاکرات سے گریزاں ہیں۔ موجودہ افغان حکومت طالبان کو حکومت میں شریک کرنا نہیں چاہتی، امریکہ، افغانستان سے اپنے فوجی اڈے ہٹانا نہیں چاہتا اور بھارت اپنے قونصل خانے ختم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ وجوہات افغانستان کو خانہ جنگی کے دہانے پر لے جا رہی ہیں۔

امریکیوں نے جیسے ہی سابقہ شمالی اتحاد کے لوگوں پر مشتمل افغان آرمی بنائی تھی اسی وقت ہم نے لکھ دیا تھا کہ یہ افغانستان کی تقسیم کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ اِس کے بعد افغان انٹیلی جنس کے ایک سابق سربراہ نے کہا تھا کہ اب ہم طالبان اور پشتونوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہمارے پاس فوج ہے اور ہم حکمرانی کا تجربہ بھی حاصل کرچکے ہیں، تاہم مغرب کے کچھ لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ فوج طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،چاہے وہ کتنی ہی بڑی ہو اور کتنے ہی اچھے ہتھیاروں سے مسلح کیوں نہ ہو، کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے امریکہ جہاں سے گیا اُس کا تیار کردہ ہیکل اساسی ایسے ہی گر گیا جیسے وہ کوئی طلسماتی نظام ہو جو جادو ختم ہوتے ہی گر جاتا ہے۔

امریکہ کی تیار کردہ افغان فوج آج بھی لڑنے کی صلاحیتوں سے اسی طرح عاری ہے جس طرح کہ جنوبی ویت نام یا عراق کی فوج۔ افغانستان کی فوج صرف ایک لاکھ ستاون ہزار ہے جبکہ جنوبی ویت نام کی فوج ایک کروڑ تین لاکھ چالیس ہزار تھی۔ یعنی افغانستان کی فوج سے ساڑھے آٹھ گنا زیادہ اور عراق کی فوج ،افغان فوج سے دگنی اور رقبہ افغانستان سے 60 فیصد کم تھا۔ اس طرح ویت نام کا رقبہ بھی کم تھا، مگر افغان فوج کو عراق اور ویت نام سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ پھر افغان فوج میں بھاگنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ لڑنے اورمرنے کے جذبے سے عاری ہیں، افغان فورسز کے پاس فضائیہ کی مدد نہیں ہے۔

 امریکہ نے افغانیوں کی فضائیہ اس لئے بننے نہیں دی کہ اس کے پاس جو اڈے موجود ہیں اُن پرافغان فضائیہ کی طرف سے خودکش فضائی حملوں کا خطرہ تھا۔ مغرب کے کئی تجز یہ نگاروں کا خیال ہے جن میں کرس میسن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ افغانستان کی پولیس ناکارہ لوگوں پر مشتمل ہے جن میں اکثر نشے کے عادی ہیں اور ہر سال 50 فیصد افراد بھاگ جاتے ہیں، ان کے پاس گاڑیاں اور جدید اسلحہ بھی نہیں ہوتا جبکہ طالبان جوش و جذبے سے سرشار ہیں۔

اگرچہ امریکی یہ کہہ رہے ہیں کہ طالبان بٹ گئے ہیں مگر اُن میں صرف چند لوگ ہی ایسے ہیں جو ملّا منصور کی امارت تسلیم نہیں کرتے جن میں عبدالرئوف خادم بھی شامل ہیںجو گوانتاناموبے سے رہا ہوئے اور امریکی لائن پر چل رہے ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ طالبان مضبوط ہیں اور وہ موجودہ افغان حکومت کو شکست دے دیں گے یا انہیں افغانستان کے شمالی علاقہ جات میں دھکیل دیں گے۔ اس میں بنیادی سبق یہ ہے کہ امریکہ جو فوج تیار کرتا ہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی اور جدید ہتھیاروں سے لیس بھی ہو مگر وہ لوگ اپنے ہی لوگوں سے لڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے جیسے کہ ویت نام اور عراق میں ہوا۔ وہ کیوں کرپٹ، غیرقانونی اور امریکی پٹھو حکمرانوں کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کریں گے، اگر افغانستان کے موجودہ حکمرانوں نے عقل کے ناخن نہ لئے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع نہ کئے تو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور سابقہ شمالی اتحاد والے شمالی سمت سمٹ جائیں گے اور پھر افغانستان کی بظاہر تقسیم ہوجائے گی جیسا کہ اس وقت عراق میں ہورہا ہے۔
ایک شیعہ عراق کی حکومت تو دوسری کردوں کی اور تیسری داعش کے قبضے میںہے۔ اسی طرح افغانستان کی بھی Defecto تقسیم تین سے چار سالوں میں مکمل ہوجائے گی۔ اسکے بعد افغانستان کی تقسیم کو قانونی بنانے کے لئے گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جبکہ امریکہ بگرام اور شندند کے اڈے اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں کلیہ یہ ہے اگر کوئی قوم جیسا کہ اسوقت افغان قوم اِس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ اپنی ریاست کی تعمیر نہ کر سکے تو ایسی قوم تقسیم ہوجاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی قوم کو بننے میں 70 سے سو سال لگتے ہیں، اس عمر سے پاکستان گزر رہا ہے، راستہ کٹھن سے کٹھن ہوتا جا رہا ہے مگر پاکستان کوشش کررہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلے اور قوم بنے، راستے میں جو منازل آتی ہیں ان میں غربت، خواندگی، معیشت کا پروان چڑھنا، پھر آزاد جمہوریت سے گزر کر مستحکم معاشی پیداوار کا مرحلہ آتا ہے اور وہ بھی سول راستے سے آتا ہے ملٹری قوم نہیں بنا سکتی وہ بنی ہوئی قوم کا دفاع کر سکتی ہے۔

امریکہ نے پچھلے 50 سالوں میں تین بڑی اور مہنگی جنگیں لڑیں مگر کسی میں بھی وہ مقاصد حاصل نہ کرسکا جن کا اس نے اعلان کیا تھا۔ وہ ایک دیوقامت جھگڑالو طاقتور ملک کے طور پر دُنیا کے سامنے آیا ہے وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ناقابل شکست ہے لیکن ہر دفعہ اسے شکست ہوئی مگر وہ دوسری جنگ شروع کردیتا ہے جس سے اُس کی شکست کی تکمیل نہیں ہوپائی، دوسرے اُس کی مسلح فوج ہر ناممکن کو ممکن بنانے کا عزم لے کر عہدے ، ترقی اور مراعات حاصل کرتی ہے اور وہ ساری دُنیا اور اپنی قوم کو خطرے میں ڈالے رکھتی ہے، تباہی و بربادی قوموں کی قسمت کا حصہ بنا دیتی ہے۔ اب شام و عراق میں امریکہ انسانی ثقافت کو داعش کے ذریعے اس لئے تباہ کرا رہا ہے کیونکہ اُس کے پاس ایسا کوئی ثقافتی ورثہ نہیں ہے۔

افغانستان میں یہ خطرہ اپنی جگہ موجود ہے، جب طالبان اور افغان حکومت کے درمیانا جنگ ہو تو امریکہ داعش کو بیچ میں ڈال دے جو پورے خطے کیلئے تباہ کن ہوگا۔ روسی ڈپٹی چیف کا کہنا ہے کہ دُنیا میں داعش سے بڑھ کر تباہ کن کوئی چیز نہیں ہے۔ کئی امریکی دانشور بھی یہ کہتے ہیں کہ داعش امریکہ کا سب سے بڑا خطرناک ہتھیار ہے۔ اگر افغان حکومت سمجھدار ہو تو باآسانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے اور طالبان کیلئے ذرا سی گنجائش پیدا کرکے افغانستان کو تباہی سے بچا سکتی ہے۔

 اگر افغانی دوراندیشی کا مظاہرہ کریں تو افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان، ایران، چین، بھارت اور روس بھی اس تباہ کاری سے بچ سکتے ہیں۔ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے نیویارک کی کانفرنس جس میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ آسٹریلیا، اٹلی ،ایران اور جرمنی کے وزیرخارجہ موجود تھے میں کہا کہ پاکستان ، افغانستان میں امن کے حصول کیلئے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے، اگر اس پیشکش کو سنجیدگی سے قبول کرلیا جائے تو افغاانستان میں ممکنہ خون خرابہ رک سکتا ہے، افغانستان کی تقسیم کے امکانات معدوم ہوسکتے ہیں اور پاکستان میں بھی امن پائیدار بنیادوں پر قائم ہوسکتا ہے۔

نصرت مرزا
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.