Header Ads

Breaking News
recent

زلزلے کا سبق

فاٹا کی حیثیت سے متعلق کالم کا آخری پیراگراف تحریر کررہا تھا کہ  زلزلے
کے جھٹکوں سے پورا کمرہ ہلنے لگا۔ اللہ نے توفیق دی کہ باہر بھاگنے کی بجائے میں بیمار والدہ کے کمرے کی طرف بھاگا۔ انہیں سہارا دے کر میں باہر لے جانے کی کوشش کررہا تھا اور بالآخر بھابی کے تعاون سے اپنے ساتھ گھر کے صحن تک لے بھی آیا لیکن تب تک زلزلے کی شدت ختم ہوگئی تھی۔ اکتوبر2005 کے زلزلے کے وقت بھی میں اپنی والدہ کے ساتھ گھر میں موجود تھا۔ یوں ہر حوالے سے مجھے اس زلزلے کے دلخراش مناظر یاد آئے۔

واپس آکر کالم مکمل کرنے بیٹھا لیکن ٹی وی ا سکرین پر جو مناظر دیکھ رہا ہوں، ان کی وجہ سے کسی اور موضوع پر لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی۔ چنانچہ اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد جو کالم تحریر کئے تھے، ان میں سے ایک جو 13 اکتوبر 2005ء کو شائع ہوا، دوبارہ من وعن پیش کررہا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ حالیہ زلزلے کے بعد امدادی کاموں کے سلسلے میں ہم ان غلطیوں سے اعراض کریں کہ جو اس زلزلے کے بعد دیکھنے میں آئی تھیں۔
’’قدرتی آفات اللہ کی طرف سے ہوا کرتی ہیںجن سے تحفظ بھی صرف رب کائنات ہی فراہم کرسکتا ہے۔ ان کا تدارک یا مقابلہ انسانی بس میں ہوتا تو امریکہ جیسے ممالک میں کترینا اور ریٹا جیسےطوفان آتے اور نہ سینکڑوں انسان ان کی نذر ہوتے رہتے۔ قدرتی آفات کو ٹالنا کل انسان کے بس میں تھا اور نہ آج وہ اسے ٹال سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ انسان ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھا رہے ۔ قدرتی آفات کو ٹالا نہیں جاسکتا لیکن بروقت منصوبہ بندی اور حسن انتظام کے ذریعے ان کی تباہ کاریوں کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے ۔ حکومتیں یہی کام کرتی ہیں اور ان سے بس انہی کی توقع کی جاتی ہے ۔

حکومت پاکستان بھی یقینا زلزلے اور اس کی تباہ کاریوں کوٹال نہیں سکتی تھی لیکن حالیہ زلزلے سے جنم لینے والی صورت حال نے ثابت کردیا کہ ہمارے ملک میں ناگہانی آفات سے نمٹنے کا کوئی انتظام نہیں۔ دور دراز علاقوں کا کیا ذکرکریں خود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اندر یہ عالم ہے کہ تمام حکومتی ادارے مل کر بھی چند منزلہ عمارت کے ملبے کو کئی روز میں اٹھا نہیں سکے۔ کبھی صدر مارگلہ ٹاورز کے ملبے کا معائنہ کررہے ہیں تو کبھی وزیراعظم اور وزیرداخلہ وہاں کھڑے نظر آتے ہیں تو کبھی حکومتی پارٹی کے عہدیدار کف افسوس ملتے فوٹو بنارہے ہوتے ہیں ۔ فوج ادھر جاپہنچی ہے تو پولیس بھی وہیں مگن ہے ۔ 
نجی تعمیراتی کمپنیوں کی مشینری بھی وہاں پہنچا دی گئی ہے اور خیراتی اداروں نے بھی وہاں ڈیرے ڈال دیئے ہیں لیکن کچھ معلوم نہیں کہ ریسکیو آپریشن کی نگرانی کون کررہا ہے؟ ۔ آرڈر دینے والی اتھارٹی کونسی ہے اور عمل کرنے والے کون ہیں؟۔ نہ کسی کی ذمہ داری کا تعین ہوا ہے اور نہ کسی کو اس کے حصے کا کام سونپا گیا ہے جس کے جو جی میں آتا ہے کر گزرتا ہے اور دوسری طرف سینکڑوں انسان ہیں جو ملبے تلے موت کو گلے لگا رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں واقع ہونے کی وجہ سے مارگلہ ٹاور ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا سو تمام حکومتی عہدیدار اور ادارے بھی اس پر ٹوٹ پڑے ۔ وہاں ہیلی کاپٹر کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن فوجی ہیلی کاپٹر بھی اس کے اوپر محوپرواز ہیں۔ دوسری طرف رات گئے تک پورا دن گزرنے کے باوجود حکومتی شخصیات مانسہرہ ،بالاکوٹ، شانگلہ، گڑھی حبیب اللہ، کاغان، مظفر آباد، میرپور اور باغ وغیرہ میں برپا قیامتوں سے بے خبر ہیں۔

وہ ہیلی کاپٹر جن میں بیٹھ کر حکومتی شخصیات اسلام آباد اور دیگر علاقوں کی سیر کرتے رہے اگر بروقت مذکورہ مقامات پر روانہ کردیئے جاتے تو شاید وہ سینکڑوں انسانوں کی زندگیوں کو بچانے کا موجب بنتے۔ وہ ڈاکٹر جو مارگلہ ٹاور کے باہر کیمپ لگائے زخمیوں کے نکلنے کے منتظر رہے اگر بروقت آزادکشمیر اور ہزارہ بھجوا دیئے جاتے تو شاید چند انسان موت کے منہ میں جانے سے بچ جاتے ۔ میں اپنے اس قاری کی سسکیوں کو کبھی نہیں بھول سکوں گا جنہوں نے رات گئے بالاکوٹ سے فون کرکےشکوہ کیا کہ ان کا پورا گائوں ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے لیکن سارا دن گزرنے کے باوجود وہ امداد نام کی کوئی شے نہیں دیکھ سکے۔

پاکستان میں درددل رکھنے والے انسانوں کی کمی نہیں۔زلزلہ زدگان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے جو مناظر دیکھنے کو ملے ،وہ قابل فخر ہیں۔ایسے لوگ بھی تھے جو اپنا سب کچھ زلزلہ زدگان کی خاطر لٹانے کو تیار تھے لیکن کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔ لوگوں نے اپنے تئیں امدادی کیمپ لگادیئے اور چندے جمع ہونے لگے حالانکہ پہلی فرصت میں وہاں افرادی قوت درکار تھی تاکہ وہ ملبے سے لوگوں کو نکال سکیں ۔ اب چاہئے یہ تھا کہ حکومت لوگوں کی رہنمائی کرتی اور بتاتی کہ زلزلہ زدگان کے لئے فوری طور پر کس قسم کی امداد کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح یہ رہنمائی میڈیا بھی کرسکتاتھا لیکن ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار شہریوں کودو تین روز تک یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کس طرح سے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں۔

آزمائشوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے لیکن آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں۔ زندہ قومیں آزمائشوں سے نیا حوصلہ لیتیں اور مستقبل پہ نظررکھتی ہیں۔ حوصلہ ہارنے کی بجائے ہمیں ہمت کا مظاہرہ کرکے اس آزمائش سے نیا جذبہ اخذ کرلینا چاہئے ۔ صدر مشرف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ یہ ایک امتحان ہے لیکن انہیں یہ بھی کہنا چاہئے تھا کہ ہر امتحان میں انسان اللہ کی مدد کے سہارے ہی کامیاب ہوسکتا ہے ۔لہذا ہمیں بھی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجانا چاہئے ۔ شاید ہم حد سے زیادہ بگڑ گئے تھے جو اللہ نے اس آفت کی صورت میں ایک وارننگ دے ڈالی ۔ ہمیں اب اپنی تمام تر توجہ اپنی اصلاح پر مرکوز کرلینی چاہئے ۔ جو ہوا سو ہوا۔

جو چلے گئے ان کی مغفرت کی دعا اور جو زندہ بچے ، ان کی فکر کرنی چاہئے ۔ہمیں اب تمام تر توجہ مستقبل پر مرکوز کردینی چاہئے ۔جو یتیم ہوگئے ہیں ، جو بیوہ بن گئی ہیں ، جن کے گھر اجڑ گئے ہیں اور جو معذور ہوگئے ہیں ،ان کی بحالی کا کام ہم سب کی اولین ترجیح ہونا چاہئے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مرکزی سطح پر ایک ریلیف سیل قائم کرے اور تمام اداروں اور صوبائی یا مقامی حکومتوں کو اس کے تحت کام کرنے کا پابند بنائے تاکہ بحالی کا کام ایک مربوط طریقے سے سرانجام پائے ۔

مستقبل میں قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک کرائسس منیجمنٹ سیل قائم ہونا چاہئے ۔ اس کے سربراہ خود وزیراعظم ہوں۔ آفات کی صورت میں اعلانات سے لے کر عملی اقدامات تک سب کچھ ان کی ذمہ داری ہو۔ آفت کے دنوں میں میڈیا کو بھی خاص ضابطے اور قاعدے کا پابندبنایا جائے ۔ جاپان کی طرز پر پوری قوم اور بالخصوص اسکول کے بچوں کو آفات سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت دی جانی چاہئے لیکن سب سے اہم کام جس کی طرف ہم سب کو توجہ مرکوز کرلینی چاہئے ، وہ رجوع الی اللہ ہے ۔اللہ کی نصرت و تائید شامل حال رہی تو ہم مصیبتوں سے محفوظ رہیں گے اور ہر طرح کی آزمائشوں کا مقابلہ کرسکیں گے لیکن خدا نخواستہ اس سے محروم رہے تو ہماری ہر طرح کی تیاری بے کاررہے گی‘‘۔

سلیم صافی

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.