Header Ads

Breaking News
recent

ٹونی بلئیر نے عراق جنگ کی غلطیوں پر معافی مانگ لی

برطانوی میڈیا کے مطابق سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے ایک انٹرویو میں عراق جنگ کے مختلف پہلوئوں پر معافی مانگ لی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی جانب سے کیا جانے والا انٹرویو ابھی تک نشر نہیں کیا گیا ہے مگر اس انٹرویو کو کئی افراد برطانیہ کی جانب سے عراق جنگ کے تحقیقاتی کمیشن 'چلکوٹ انکوائری" کی رپورٹ کے اجراء سے قبل حالات کو سازگار بنانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

انٹرویو میں بلئیر نے 2003ء میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں صدام حسین کی اقتدار سے رخصتی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے لئے مناسب منصوبہ نہ ہونے پر ندامت کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق اور شام میں سرگرم انتہاپسند گروپ دولت اسلامیہ 'داعش' کے بننے میں عراق جنگ کا بھی حصہ تھا۔ ٹونی بلئیر نے انٹرویو میں عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی جھوٹی معلومات پر بھی بات کی جسے ہی بنیاد بنا کر امریکا اور برطانیہ نے اتحادیوں سمیت عراق پر حملہ کیا تھا۔
بلئیر کا کہنا تھا "میں اس حقیقت پر معافی مانگتا ہوں کہ ہمیں ملنے والی معلومات غلط تھیں۔ میں اپنی منصوبہ بندی میں ہونے والی غلطیوں اور یقیناْ حکومت کو ہٹانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سمجھنے میں غلطی کرنے پر معافی مانگتا ہوں۔"

سابق برطانوی وزیر اعظم کو امریکی چینل کے میزبان نے سوال کیا کہ کیا داعش کی مقبولیت کی سب سے اہم وجہ یہ جنگ ہے؟ تو ان کا کہنا تھا "میرے خیال مین اس بات میں کچھ سچ ہے۔ یقینا آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ جن ممالک نے 2003ء میں صدام حسین کو اقتدار سے ہٹایا ہے ان کا 2015ء میں پیش آنے والی صورتحال میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔"

مگر ایک برطانوی نشریاتی ادارے "آئی ٹی وی نیوز" کے مطابق سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا سٹرجن نے ٹونی بلئیر پر الزام لگایا ہے کہ وہ چلکوٹ انکوائری کے نتائج سامنے آنے سے پہلے اپنے اوپر اٹھنے والے ممکنہ تنقید کو 'گھمانے' کی کوشش کررہے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.