Header Ads

Breaking News
recent

حج کے دوران پیش آنے والے سانحات تاریخ کے آئینے میں

حج 2015 کے دوران دو بڑے سانحات میں بڑے پیمانے پر حجاج شہید ہوئے۔ گیارہ ستمبر کو مکہ میں تعمیراتی کام کے لیے منگوائی گئی کرین گر گئی تھی جس سے 107 حجاج نے جام شہادت نوش کیا۔

بعد ازاں عید الاضحی کے روز 24 ستمبر کو جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 717 حجاج شہید اور 863 سے زائد زخمی ہوئے۔
رواں برس پیش آنے والے سانحات سے قبل بھی حج کے دوران مختلف سانحات میں حجاج شہید ہوتے رہے ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

رمی جمرات میں حادثات

رواں برس 2015 میں رمی جمرات کے دوران بھگدڑ کے باعث 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔

سال 2006 میں (12 جنوری کو) حج کے آخری روز منیٰ کے مقام پر بھگدڑ سے 346 حاجی جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

2004 میں (یکم فروری کو) منی ہی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 251 حجاج جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔

2003 میں (11 فروری ) بھی جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ میں 14 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ 2001 میں 35 حجاج بھگدڑ مچنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔

2001 میں (5 مارچ کو) رمی کے دوران 5 افراد جان سے گئے تھے۔

1998 میں (9 اپریل کو) جمرات کے پل پر رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی اور 118 حاجی کچل کر جان سے گئے تھے جبکہ 180 زخمی ہوئے تھے.

1994 میں (23 مئی کو) شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران منیٰ میں بھگدڑ سے 270 حجاج جاں بحق ہوئے تھے۔

1990 میں سے بدترین واقعہ پیش آیا تھا جب جمرات کی رمی کے دوران پل پر 1426 حجاج بحق ہوئے تھے، جاں بحق ہونے والے اکثر حجاج کا تعلق انڈونیشیا ، ملائیشیاء اور پاکستان سے تھا.

آتشزدگی کے واقعات

2011 میں (یکم نومبر کو) حاجیوں کی ایک بس میں آگ لگ گئی تھی جس میں سے اکثر حجاج کو باحفاظت اتار لیا گیا تھا البتہ بس کی آخری نشستوں پر موجود شوہر اور بیوی ابھی بس سے اتر ہی رہے تھے کہ بس کے فیول ٹینک میں دھماکا ہونے سے وہ جاں بحق ہو گئے۔

1997 میں منٰی کے میدان میں حاجیوں کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے 347 حجاج جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے۔

1975 میں حاجیوں کے خیمے میں ایک گیس سیلنڈر پھٹ گیا تھا جس سے آتش زدگی کے باعث 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے.

احتجاج، بد امنی سے ہلاکتیں

1984 میں (9 جولائی کو) مکہ میں 2 دھماکے ہوئے تھے جن میں ایک حاجی جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے تھے بعد ازاں سعودی حکام نے ان دھماکوں کے الزام میں 16 کویتی باشندوں کے سر قلم کیے تھے۔

1987 میں (31 جولائی) ایران کے عازمین نے سعودی عرب میں احتجاجی مارچ نکالا تھا جس میں فورسز سے تصادم میں 402 افراد مارے گئے جن میں 275 ایرانی مظاہرین اور 85 سعودی پولیس اہلکار شامل جبکہ 42 دیگر ممالک کے عازمین جاں بحق ہوئے۔

فضائی (جہازوں کے) حادثات

1991 میں (11 جولائی کو) سعودی عرب سے نائیجیریا جانے والی حج پرواز جدہ کے کنگ عبد العزیز ائر پورٹ سے اڑنے کے کچھ دیر بعد ہی کریش ہو گئی تھی جس سے عملے کے 14 افراد سمیت 247 افراد مارے گئے تھے۔

1979 میں (26 نومبر کو) پاکستان انٹر نیشنل ائر لائن (پی آئی اے) کی پرواز جدہ ائر پورٹ سے اڑنے کے چند لمحوں بعد گر گئی جس سے 156 حجاج جاں بحق ہوئے۔

1978 میں آئی لینڈ ائر لائن کی پرواز حٓدثے کا شکار ہوئی، یہ پرواز سعودی عرب سے واپسی پر سری لنکا کے قریب حادثے سے دوچار ہوئی جس سے 170 افراد مارے گئے جن میں اکثر انڈونیشیا کے حجاج تھے۔

1974 میں (4 دسمبر کو) نیدر لینڈ کی مارٹائنائر کا جہاز سری لنکا میں کولمبو کے قریب کریش ہوا، جس سے 182 حجاج جاں بحق ہوئے جبکہ جہاز کے عملے کے 9 افراد بھی مارے گئے۔

1973 میں (22 جنوری کو) اردن کا طیارہ نائجیریا میں کانو کے قریب گرا، جس سے حج سے واپس آنے والے 176 افراد جاں بحق ہوئے۔

تعمیراتی کے دوران حادثات

2015 میں 11 ستمبر کو مکہ کی توسیع کے کام کرنے والی سب سے بڑئ کرین تیز ہوا کے باعث مسجد الحرام کی چھت اور احاطے میں گر گئی جس سے 107 حجاج جاں بحق ہوئے۔

2006 میں 5 جنوری کو مکہ میں مسجد الحرام کا الغزہ ہوٹل زمین بوس ہوا، جس سے ہوٹل میں ٹہرے ہوئے 76 حجاج جاں بحق ہوئے جبکہ 64 زخمی ہوئے۔

No comments:

Powered by Blogger.