Header Ads

Breaking News
recent

خوشامدی گروہ کا تازہ ترین ہدف


جہاں بوٹ پالش کرنے والے رفعتیں پاتے اور سچ بولنے والے کوڑے کھاتے رہے ہوں، وہاں سعادت حسن منٹو کی زندگی پر فلم بن جائے اور سنسر بورڈ سے پاس ہو کر سینما گھروں تک بھی پہنچ جائے ،تو جمع خاطر رکھیں کچھوے کی رفتار سے ہی سہی مگر اجتماعی سماجی شعور ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ منٹو ایسے زور آور قلمکار کی کتاب زیست اور فن کو یکجا کرکے دو گھنٹے کی فلم میں سمونا دریا نہیں سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اسلئے تشنگی کا احساس تو ہونا تھا مگر ’’منٹو‘‘ تخلیق کرنے والوں نے اس ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا ۔

کسی مغربی دانشور کا قول ہے کہ ریاستیں نیکی،جذبے اور ذہین عوام کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہیں اور تب تباہ ہوتی ہیں جب اہلیت و قابلیت کے بجائے خوشامدو چاپلوسی معیار بن جاتی ہے‘‘ ہمارے ملک کو بھی اگر کوئی چیز دیمک اور گھن کی طرح چاٹ رہی ہے تو وہ خوشامد اور چاپلوسی کا یہ کلچر ہے جس نے ہر دور میں عروج حاصل کیا۔خوشامد وہ قاتل حسینہ ہے جو پہلے دل لُبھاتی ہے اور پھر ہڑپ کر جاتی ہے۔کتنے ہی جوان رعنا ،کتنے ہی ذہین وفطین حکمران ،کتنے ہی عالی دماغ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے اس قاتل حسینہ کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے اور زمانے کے عجائب گھر کی زینت بن گئے۔ 

ان اٹھائی گیروں کا کمال یہ ہے کہ ہر آنے والے کے آگے سر دھنتے اور ہر جانے والے کے عیب چُنتے ہیں ۔حکمرانوں کی منقبت پڑھنے اور جھوٹی تعریف گھڑنے والے یہ حلیف سخن سازحالات بدل جانے پر یوں پینترا بدلتے ہیں کہ حریف بد لحاظ بھی شرما جائیں ۔ شاہی محلات میں مکھیوں کی مانند بھنبھناتے اور بھنوروں کی طرح چکر لگاتے اس دستر خوانی قبیلے کو جوں ہی بھنک پڑتی ہے کہ ’’صاحب کا ستارہ زوال میں ہے ‘‘تو بلا تاخیر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔

اسکندر مرزا سے نواز شریف تک سب کی یہی کہانی اور یہی تاریخ ہے۔ ایوب خان آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر باقاعدہ فیتہ لیکر اپنا قد ماپا کرتے تھے کہ میں فرانس کے ڈیگال سے دراز قد ہوں یا نہیں۔ آخر یہ واہمہ بھی تو اسی شجرہ نسب کے کسی مدح سرا ء نے ان کے دماغ میں ڈالا ہو گا۔ ویسے خوشامد کلچر کو قومی نشان بنانے میں ایوب خان نے بیحد محنت کی اور ایسے ایسے گوہر نایاب پید اکئے جنہوں نے چاپلوسی کے فن کو نئی جہتیں بخشیں ۔ان میں ایک گوہر نایاب میونسپل کمیٹی راولپنڈی کے چیئرمین کی حیثیت سے سامنے آنے والے مسعود صادق تھے جو ون یونٹ کے قیام کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان کے در دولت تک پہنچے تو اپنے اس فن میں یکتا ہو چکے تھے۔
انکے ہم عصر بذلہ سنج سیاستدان سردار صادق اور زمرد ملک لاہور کے ایک معروف ریستوران میں کھانا کھاتے وقت ویٹر سے چمچہ مانگنے کے بجائے اپنی حسن طلب کا اظہار ادبی پیرائے میں کچھ یوں کیا کرتے تھے’’بھائی ! ایک مسعود صادق تو لانا‘‘ اسی دور کے وزیر خزانہ محمد شعیب کے بارے میں ماجد میاں کی یہ پھبتی بھی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ ’’حضور! لوگ کٹلری کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ‘‘اسی تاریخی دور میں قدرت اللہ شہاب ایوب خان کو ’’بادشاہ سلامت‘‘ کہہ کر بلایا کرتے تو پیر علی محمد راشدی باقاعدہ خط لکھ کر ’’نیلی آنکھوں‘‘ اور ’’چوڑے شانوں والے‘‘فرزندِ ریحانہ سے ’’بادشاہت ‘‘ کا اعلان کرنے کی درخواست کیا کرتے تھے۔

چوہدری خلیق الزماں نے دست بستہ التجاء کی کہ ملک کا مفاد اسی میں ہے کہ آپ وطن عزیز کے دائمی صدر بن جائیں۔ خود بھٹو, ایوب خان کو ڈیڈی کہا کرتے تھے مگر جب تخت اور بخت نے منہ موڑا تو خوشامدیوں نے پلک جھپکنے میں پارٹی بدل لی۔ ذوالفقار علی بھٹو برسر اقتدار آئے تو ایک بار پھر خوشامدیوں کا جمگھٹا لگ گیا اور اس جیسا ذہین و فطین شخص بھی خوشامد کے سحر سے نہ بچ سکا کیونکہ بزرگ کہتے ہیں خوشامد اگر بتا کر بھی کی جائے تو پھر بھی کچھ نہ کچھ اثر ضرور چھوڑتی ہے اور بے ثمر نہیں جاتی۔ فخر ایشیاء، تیسری دنیا کے نپولین، قائد عوام ،علی کی تلوار اور نہ جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا گیا۔ اسی خوشامد کے زیر اثر بھٹو جیسا شخص اس خوش فہمی میں مبتلاء ہوا کہ مجھے قتل کر دیا گیا تو ہمالیہ خون کے آنسو روئے گا۔

ملتان گیریثرن میں شاندار استقبال ہوا تو قائد عوام کی عقل گھاس چرنے چلی گئی اور ضیاء الحق کو مسکین سمجھ کر آرمی چیف بنا دیا مگر اسی شخص نے پلٹ کر وار کیا اور طرفہ تماشا تو یہ ہوا کہ قائد عوام آخری دن تک راہ تکتے رہ گئے کہ کب عوام کا جم غفیر آئے گا اور جیل کے دروازے توڑ کر جئے بھٹو کے نعرے لگاتا ہوا کندھوں پر بٹھا کر لے جائے گا۔ خود ضیاء الحق کے تلوے چاٹنے والے کہاں ہیں؟ امیر المومنین کے یوم وفات پر کتنے لوگ جمع ہوتے ہیں ان کی قبر پر۔وہ جو کہا کرتے تھے کہ ہم ان کا ادھورا مشن مکمل کریں گے،کہاں کھو گئے؟
اسکے بعد بینظیر کی باری آئی، چاروں صوبوں کی زنجیر، بینظیر ۔یہ زنجیر ٹوٹ گئی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

ایک وقت تھا جب نواز شریف شیر شاہ سوری تھے تو ان کے بھائی شہباز شریف کو نظام الملک طوسی کہا جاتا تھا۔جاتی امرا میں نواز شریف کے گھر ارکان پارلیمنٹ ان سے ہاتھ ملانے کوسعادت سمجھتے تھے لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو رائے ونڈ اور ماڈل ٹائون سے یوں دور بھاگتے تھے جیسے کوچہ یار نہ ہو وادی پر خار ہو۔لیکن اقتدار واپس آیا تو یہ موسمی پرندے بھی لوٹ آئے اور آمریت کا طعنہ دینے والوں کوان میں پھر سے ’’قائد اعظم ثانی ‘‘دکھائی دینے لگا۔یادش بخیر کل تک گجرات کے چوہدری برادران پرویز مشرف کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے اور انہیں تاحیات باوردی صدر منتخب کروانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔لاہور کے چیئرنگ کراس چوک میں جہاں اب موجودہ آرمی چیف کی تصاویر والے خیر مقدمی بینر آویزاں ہوتے ہیں ،وہاں اس طرح کی شاعری دکھائی دیتی تھی:

غریبان وطن کا اب یہی منشور ہے
جو کہے پرویز مشرف وہ ہمیں منظور ہے
رہتی دنیا تک میرے مولا یہی ایکٹو رہے
زندگی بھر مسکراتا چیف ایگزیکٹو رہے

ان ریشم کے کیڑوں کا تازہ ترین شکار عساکر پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف ہیں جو اپنے خاندانی پس منظر کے باعث پہلے ہی قوم کی عقیدت کا مرکز تھے مگر اب انہوں نے آپریشن ضرب عضب کی بدولت اپنے ادارے کی ساکھ بحال کی تو ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ان جیسے سپہ سالار سے یہ توقع تو ہرگز نہیں کہ ان درباریوں کے جھانسے میں آئینگے مگر جو پیشہ ور خوشامدی اپنی عِلت اور جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر NA122 کی انتخابی مہم میں ان کی تصویروں والے پوسٹر لگا رہے ہیں یا شکریہ راحیل شریف کی مہم چلا کر انہیں متنازع بنا رہے ہیں، کسی ایجنسی کی خدمات حاصل کر کے اس دستر خوانی قبیلے کا سراغ لگانا چاہئے کہ ان کا شجرہ نسب کیا ہے؟ یہ مخلوق کس طرح کے ماحول میں کس طرح کی سرزمین پر پروان چڑھتی ہے؟ یہ تفتیش بھی کی جائے کہ ان پیشہ ور خوشامدیوں نے اس طرح کے پوسٹر سجا کر، زندہ باد کے نعرے لگا کر اور ہر چمکتے سورج کو ’’قتال جہاں معشوق ‘‘بنا کر کیا کیا مفادات حاصل کئے ؟ 
 
محمد بلال غوری 

بہ شکریہ روزنامہ جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.