Header Ads

Breaking News
recent

چین کی معیشت باقی دنیا کے لیے کیوں اہم؟

پیر کی صبح سے چینی بازارِ حصص میں گراوٹ کے بعد سے ایشیا، یورپ اور امریکہ میں بھی بازارِ حصص میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ چین کی معیشت میں گرواٹ باقی دنیا کے لیے کیوں اہم ہے اور چینی بحران کا پس منظر کیا ہے؟
اتنی بات سب جانتے ہیں کہ چین کی معاشی ترقی کی رفتار کم ہو رہی ہے اور خدشہ یہ ہے کہ اگر چینی معیشت سست پڑ جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات دنیا کے دوسرے ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ گذشتہ مہینوں میں چینی بازار حصص میں خاصی تیزی رہی ہے، جس کے نتیجے میں جون کے وسط تک چین کے سب سے بڑے انڈیکس ’شنگھائی انڈیکس‘ کی قیمت دگنی ہو گئی تھی۔
اس اضافے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ سرمایہ کار قرض پر لی ہوئی رقوم سے حصص خرید رہے تھے، چنانچہ جب بازار حصص میں مندی شروع ہوئی تو ان سرمایہ داروں کو اپنی رقوم نکالنا پڑیں تاکہ وہ اپنے قرضے لوٹا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بازار حصص میں ابتدائی گراوٹ کے بعد صورت حال تیزی سے بگڑنا شروع ہو گئی۔

بازارِ حصص جب کسی خاص دن مندی کا شکار ہوتے ہیں تو عموماً اس کا کوئی خاص سبب بھی ہوتا ہے۔ اس مرتبہ جو خاص بات تھی وہ یہ تھی کہ پیر کی صبح چین کے مرکزی بینک نے وہ نہیں کیا جو مرکزی بینک عموماً کرتے ہیں۔ بینک نے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے جو کاروباری لوگوں کو ترغیب دیتے کہ وہ مزید قرضے لیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انھیں توقع تھی کہ مرکزی بینک ایسے اقدامات کرے گا۔
باقی دنیا کے لیے کیا پیغام؟

ابھی تک باقی دنیا پر چینی بازار حصص میں تیزگراوٹ کے اثرات قدرے کم ہی پڑے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی بازار حصص میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا تناسب اتنا زیادہ نہیں ہے، بلکہ صرف دو فیصد ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا حالیہ مندی اس بات کی جانب اشارہ تو نہیں کرتی کہ چین کی معاشی ترقی واقعی سست پڑ چکی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں جب چین نے اپنی کرنسی کی قیمت کم کی تھی تو اس خدشے میں اضافہ ہو گیا تھا کہ چین کی شرحِ نمو واقعی سست ہو چکی ہے۔
 
چینی معیشت واقعی دھڑام سے گرنے جا رہی ہے یا بات بازار حصص میں تیز گراوٹ تک ہی محدود رہے گی؟

اسی خدشے کا اظہار ہمیں چینی بازار حصص میں گراوٹ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ کیا چینی معیشت واقعی دھڑام سے گرنے جا رہی ہے یا بات بازار حصص میں تیز گراوٹ تک ہی محدود رہے گی؟

چین اب دنیا کی معیشت میں اتنی بڑی طاقت بن چکا ہے کہ باقی دنیا چینی بحران سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ چین نہ صرف دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے بلکہ یہ ملک دنیا میں مصنوعات اور تجارتی سہولیات برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک بھی ہے۔

بات صرف حصص کی نہیں

گذشتہ عرصے سے عالمی منڈی میں کئی اہم مصنوعات کی قیمتیں خراب ہو رہی ہیں، جن میں سب سے اہم خام تیل ہے۔ گذشتہ سال کی دوسری شش ماہی میں خام تیل کی قیمتوں میں جو بڑی کمی دیکھنے میں آئی تھی، چینی حصص میں گراوٹ نے اس رجحان میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جون میں جب چینی حصص میں کمی ہونا شروع ہوئی تو اس کے بعد سے ’برینٹ کروڈ‘ کی قیمتوں میں ایک تہائی کی کمی ہو چکی ہے۔

چین مخلتف صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال کا اتنا بڑا خریدار ہے کہ اگر وہ تانبے اور ایلومینیم کی خریداری میں کمی کر دیتا ہے تو اِن معدنیات کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران عالمی منڈیوں میں سونے کی قیمتیں مستحکم ہوئی ہیں۔ اگرچہ چینی حصص میں گراوٹ اور سونے کی قیمتوں میں کوئی براہ راست تعلق دکھائی نہیں دیا، لیکن حصص میں حالیہ گراوٹ کے بعد دنیا کی کچھ کرنسیاں مہنگی ہو گئی ہیں، جیسے سوئس فرینک۔ امکان ہے کہ امریکی ڈالر پر بھی ایسے ہی اثرات مرتب ہوں گے۔

چینی حکام آگے کیا کریں گے؟

اپنی معیشت میں تیزی لانے کے لیے چینی حکام کئی قسم کے اقدامات کر سکتے ہیں۔ وہ شرح سود میں کمی کر سکتے ہیں (تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چین نے یہ قدم اٹھا لیا ہے۔)
 
عالمی منڈی میں کئی اہم مصنوعات کی قیمتیں خراب ہو رہی ہیں، جن میں سب سے اہم خام تیل ہے

اس کے علاوہ حکام بینکوں سے قرض لینے کی شرائط میں نرمی کر سکتے ہیں اور ایسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں جن سے چینی صارفین اپنے اخراجات میں اضافہ کر دیں۔ اس کے علاوہ چینی حکومت برآمدات میں اضافے کی غرض سے اپنی کرنسی کی قدر میں مزید کمی بھی کر سکتی ہے۔

کتنی فکر مندی ٹھیک ہے؟

چین کی معاشی صحت کیسی ہے، اس بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم چینی حصص میں کمی باقی دنیا کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر ان ممالک اور کمپنیوں کے لیے یہ بڑا مسئلہ بن سکتی ہے جو اپنی مصنوعات چین کو برآمد کرتے ہیں، مثلاً وہ ممالک جہاں سے چین تیل، تانبا یا لوہا برآمد کرتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام 

No comments:

Powered by Blogger.