Header Ads

Breaking News
recent

عرب دنیا پندرہ سال کے بعد کہاں ہوگی؟

جدید مشرقِ وسطیٰ اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہا ہے۔خونریزی خونیں تنازعات ،ریاستی کرداروں اور اخلاقی جواز کی عدم موجودگی نے مکمل طوائف الملوکی کا ماحول پیدا کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔اس سے عربوں کے خوش اُمید خیرخواہ بھی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر گئے ہیں۔

ہم 2015ء میں رہ رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ سنہ 2030ء میں کیسا نظر آئے گا؟ایک امریکی تجزیہ کار نے پوچھا۔اس تمام کا انحصار مختلف سماجی،اقتصادی عوامل پر ہوگا اور اس کا علاقے کی سیاسی صورت حال پر انحصار ہوگا مگر استحکام اور سلامتی کے بغیر کوئی پیش رفت یا ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو ہمیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔جو عوامل ہماری قسمت کا فیصلہ کریں گے ،وہ آبادی پر کنٹرول ،تیل کی قیمتیں،متبادل توانائی ،پانی اور خوراک کی ضمانت ہیں۔

ایک بہتر مستقبل

اگر ہم ان ایشوز کو طے کرنے کے لیے نیم آزاد ہیں تو ہم ایک بہتر مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوسکتے ہیں لیکن اگر ہم بے روزگار نوجوانوں کے ہجوم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں،جو ادھر ادھر پھررہے ہوں اور جنھیں مستقبل کے قاتل جتھے آسانی سے اپنی صفوں میں شامل کرلیں،تو یہ بہت ہی تباہ کن ہوگا۔
اگر وسیع تر بات کی جائے تو مصر اور شام مشرق وسطیٰ میں شامل ہیں اور یہ اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے سے جڑے ہوئے ہیں۔وہ امن عمل میں ایک کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اگر امن عمل میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو اس سے پورا خطہ ہی استحکام سے محروم ہوجائے گا۔اس سے طوائف الملوکی اور ابتری ہی کی راہ ہموار ہوگی اور اس خطے کے لوگ پہلے ہی ان کا بہت تجربہ کررہے ہیں۔
عربوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اکیلے ہی سفر کرنا ہوگا۔امریکا پر بہت زیادہ انحصار ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا کیونکہ اس کی عظیم تر حکمت عملی جنوب مشرقی ایشیا کی جانب آگے بڑھنا ہے اور وہ وہاں اقتصادی حاصلات کے لیے اپنا کردار بڑھائے گا۔اس لیے عربوں کو زندہ رہنے کے لیے سنجیدہ سوچ اختیار کرنا ہوگی اور خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ان کے قائدین اچھے نظم ونسق کے اہل ہیں؟ کیا وہ فرقہ واریت ،بدعنوانی اور ناانصافی جیسی بیماریوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں؟

کیا وہ مقامی سطح پر انکل سام کی جانب جوہری سد جارحیت کے لیے دیکھنے کے بجائے اپنے معاملات چلا سکتے ہیں؟انھیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جوہری ہتھیار روایتی ہتھیاروں سے ہی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں؟ کیا کم سے کم جی سی سی کی سطح پر ہی ان کی دفاعی فورسز کا کوئی کمانڈ اور کنٹرول نظام ہے؟

کیا مغرب عربوں کو آزادانہ طور پر ایک پُرامن جوہری پروگرام کو ترقی دینے کی اجازت دے گا؟مشرق وسطیٰ میں تزویراتی سد جارحیت کو اسرائیل کے مقابل روایتی ہتھیاروں کی برابری اور ایک مضبوط اتحاد کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

امریکا کے بارے میں یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ عربوں کا ایک اتحادی بنے گا کیونکہ اس کا اسرائیل کی جانب بہت زیادہ جھکاؤ ہے۔ہم عربوں کو ایک ہی مرتبہ اور ہمیشہ کے لیے اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہیے اور اس بنیاد پر ہمیں اپنے مستقبل کی اس طرح تیاری کرنی چاہیے کہ ہم خود پر انحصار کریں۔درست شراکت دار کی تلاش کریں اور ایسا سیاسی فریم ورک وضع کریں جس سے کہ ہماری بقا کو یقینی بنایا جاسکے۔

عرب حکمت کاروں کو ابھی سے اس کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔

خالد المعینا ''سعودی گزٹ'' کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.