Header Ads

Breaking News
recent

ذوق مطالعہ کیسے پیدا ہو؟

آپ نے لیونارڈو ڈاونچی کا نام تو سنا ہو گا؟اطالوی سائنسدان جسے دنیا مونالیزا کی تصویر کے حوالے سے ایک مصور کے طور پر جانتی ہے مگر وہ ہر فن مولیٰ تخلیق کار تھا۔ وہ ایک قابل قدر مصور، شاعر اور موسیقار ہی نہیں، ماہر تعمیرات، انجینئر اور سائنسدان بھی تھا۔قدرت نے اسے یہ کمال عطا کیا تھا کہ و ہ لیبارٹری میں کھڑا ہو کر بیک وقت ایک ہاتھ سے کیمیائی تجربات کرتا رہتا اور دوسرے ہاتھ سے پینٹنگ بنا لیتا۔ لیونارڈو کے فسانے آپ نے بہت سنے ہوں گے،اس کی ایجادات اور علمی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔

لیونارڈو نے پندھرویں صدی میں اپنی علمیت اور فن کی دھاک بٹھائی تو حالات موافق تھے، سہولتیں عام ہو چکی تھیں اور علمی ذخائر کی کوئی کمی نہ تھی۔لیکن اس سے چار سو سال پہلے جب علم کی راہیں مسدود اور ترقی کے راستے دشوار تھے تو لیونارڈو سے کہیں زیادہ قد آور انسان نے جنم لیا اور اپنی ہمہ گیر شخصیت سے سائنسی و سماجی علوم کو نئی جہت بخشی
۔
اس کثیر العلوم شخص کا نام تو ابو ریحان محمدابن احمد الخوارزمی تھا مگر کوچۂ علم میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ اپنے ہم عصر نابغوں کے جھرمٹ میں ماہتاب کی مانند چمکتے اس گراںقدر شخص نے خوارزم کے علاقے میں جنم لیا جسے آج ہم ازبکستان کے نام سے جانتے ہیں۔شاید ہی کوئی ایسا علم ہو جسے البیرونی کی علمی خدمات کا مرہون منت نہ کہا جا سکے۔ وہ بیک وقت ایک جراح اور طبیب بھی تھا اور شاعر و ادیب بھی۔ایک طرف اس نے طبعیات و کیمیا جیسے علوم کو نئی وسعتیں عطا کیں تو دوسری طرف ظرافت و لسانیات میں کمال کر دکھایا۔ اسے عربی،فارسی،عبرانی اور سنسکرت سمیت اس وقت کی دس مشہور زبانوں پر عبور حاصل تھا۔مورخین یہ طے کرنے سے قاصر ہیں کہ اسے ماہر فلکیات کہیں ،جغرافیہ اور فلسفے کا بانی قرار دیں ،ریاضی دانوں کی فہرست میں شمار کریں یا پھر علم الادویہ و علم الادیان اور علم الاقوام کا خوگر تسلیم کریں۔
مختلف علوم پر اس کی 150 سے زائد کتابیں آج بھی معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ 
دسویں صدی میں جدید آلات کے بغیر اس نے زمین کے رقبے، طول بلد اور عرض بلد کی جو پیمائش کی وہ آج کے تخمینوں کے عین مطابق ہے۔ طویل عرصے تک البیرونی کی علمی خدمات کی روشنی پھیلنے نہیں دی گئی اور بہت سی تصنیفات معدوم ہو گئیں ۔ بدقسمتی سے کسی مسلمان کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ البیرونی کے علمی ورثے کو مستعمل زبانوں میں منتقل کرے بلکہ 1886ء میں ایک روسی اسکالر نکولاس داخانے خاد نے البیرونی کی کتب کو متعارف کرانے کا بیڑہ اٹھایا اور بعد ازاں ایک جرمن اسکالر ایڈورڈ سخائو نے اس کام کو آگے بڑھایا اور یوں انگریزی پڑھنے والا طبقہ اس عظیم تخلیق کار سے روشناس ہوا۔
مرزا مقبول بیگ بدخشانی کی کتاب جو ہمارے ہاں اردو ترجمے کے ساتھ ’’ادب نامہ ایران‘‘کے نام سے شائع ہوئی ،اس میں سرسری طور پر البیرونی کا جو تذکرہ موجود ہے اس سے دنیائے اسلام کے ’’لیونارڈو‘‘ کی ذہانت و فطانت آشکار ہوتی ہے۔ محمود غزنوی نے خوارزم پر حملہ کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کیا تو البیرونی المامون کے دربار میں موجود تھا۔ بادشاہ کے قتل کے بعد دیگر نامور درباریوں کے ساتھ البیرونی کو بھی مقید کر دیا گیا۔ محمود غزنوی کو البیرونی کی علمیت کے چرچے پہلے سے معلوم تھے لہٰذا وہ اسے غزنی لے آیا۔یہ ابتلاء و آزمائش کا دور تھا۔ بعض مورخین کے خیال میں سلطان غزنوی اس کی علمیت سے حسد کرنے لگا اور اسے قتل کرنے کے درپے تھا۔ ایک دن بادشاہ اپنے باغیچے میں آیا اور البیرونی کو بلوا کر کہا ،تم بڑے طرم خان بنے پھرتے ہو،بتائو آج میں کس دروازے سے باہر جائوں گا؟

اگر تمہارا جواب درست ہوا تو ٹھیک ورنہ قتل کردیئےجائو گے۔البیرونی نے جواب لکھ کر داروغہ کے حوالے کر دیا۔ بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا ،آج میں نے تمہاری علمیت کا بھانڈا پھوڑ ہی ڈالا۔ تم نے جو بھی جواب لکھا ہو گا،وہ غلط ہو گا کیوں کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج دیوار منہدم کروا کر باہر جائوں گا۔ البیرونی نے کہا، حضور والا! آپ میری پرچی تو کھلوا کر دیکھ لیں ،پھر جو چاہے فیصلہ کریں۔ جب پرچی کھلوا کر پڑھی گئی تو اس پر یہی لکھا تھا کہ بادشاہ سلامت کسی دروازے سے باہر نہیں جائیں گے بلکہ دیوار توڑ کر باہر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ محمودغزنوی کا خیال تھا کہ اس کا نسخہ تیر بہدف ہے اور اس بار البیرونی کا پتہ صاف ہو جائے گا مگر اپنی سبکی ہوتے دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا اور اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ البیرونی نے نہایت اطمینان سے جواب دیا،عالی جاہ! میرے علم کے مطابق ابھی میری موت کا وقت نہیں آیا لہٰذا آپ کا کوئی فیصلہ میری زندگی نہیں چھین سکتا۔

بادشاہ نے نہایت غصے میں حکم دے دیا کہ اسے اٹھا کر محل کی چھت پر لے جائو اور وہاں سے نیچے پھینک دو۔ غزنوی کے فرزند اور دیگر عمائدین کو سخت تشویش لاحق ہوئی کہ اگر اس حکم پر عمل درآمد ہو گیا تو دنیا علم کے بہت بڑے خزینے سے محروم ہو جائے گی۔ چونکہ بادشاہ اس وقت غصے میں تھا لہٰذا کوئی سفارش کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا۔ طے یہ پایا کہ البیرونی کو شاہی فرمان کے مطابق محل کی چھت پر لے جا کر نیچے تو پھینکا جائے مگر کوئی چیز تان کر زمین پر گرنے سے بچا لیا جائے۔ جب کچھ دن بعد بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گا تو حقیقت بتا دی جائے گی۔ کچھ دن بعد بادشاہ کو خود ہی خیال آیا اور اس نے پوچھا کہ، البیرونی کہاں ہے،وہ واقعی صحیح کہہ رہا تھا، مجھے یقین ہے وہ مر نہیں سکتا،بچ گیا ہو گا۔اس پر درباریوں نے حقیقت بیان کردی۔

کتابوں سے اس کے عشق کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک کتاب کی تلاش میں کئی کئی برس سرگرداں رہتا۔کسی سے معلوم ہوا کہ متواتر مانی کی کتاب ’’سفرالاسرار‘‘ بہت معرکتہ الآرا کتاب ہے تو اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ لگ بھگ چالیس برس بعد وہ کتاب میسر آئی تو جستجو کے گھوڑے پر سوار مسافر علم کا اشتیاق دیدنی تھا۔ سید سلیمان ندوی اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یوں لگا جیسے برسوں سے پانی کی تلاش میں بھٹکتے مسافر کو کنواں نظر آ گیا ہو۔ 

البیرونی کی علم دوستی اور تحقیق و جستجو کے اشتیاق سے متعلق ایک واقعہ ’’معجم الادباء‘‘میں بھی بیان ہوا ہے۔ ابوالحسن علی بن عیسیٰ الوالجی ان کے ہم عصر اسکالر تھے۔ جب البیرونی عالم نزع میں تھے اور بستر مرگ پر دراز تھے تو ابوالحسن ان کی تیمارداری کو پہنچے۔نحیف و لاغر ہونے کے باوجود البیرونی نے علم الہیت سے متعلق ایک مسئلے پر بات کرنا چاہی تو ابوالحسن نے حیرت سے تکتے ہوئے کہا،ارے او بندہ خدا،تم اپنی حالت تو دیکھو، یہ وقت ہے بھلا ایسے مباحث میں الجھنے کا۔

البیرونی نے جواب دیا،حیرت کی کیا بات ہے؟کیا تم چاہتے ہو میں جہالت کی موت مروں یا ایک اور گتھی سلجھا کر اطمینان سے کوچ کروں اس دنیا سے؟ اصرار پر ابو الحسن نے اس معاملے پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور اجازت لیکر چوکھٹ چھوڑی ہی تھی کہ البیرونی کے وصال کی خبر موصول ہوئی۔

مجھے بلا ناغہ ایسی ای میل موصول ہوتی ہیں کہ تحریر و تقریر میں نکھار کیسے لایا جائے،نئے لکھنے والے یا لکھنے کی خواہش رکھنے والے بالخصوص یہ پوچھتے ہیں کہ اچھی نثر لکھنے کا سلیقہ اور عمدہ طریقے سے بات کرنے کا قرینہ کہاں سے لائیں؟میں مطالعہ کو حرز جاں بنانے اور علم کے سمندر میں ڈوب جانے کا مشورہ دیتا ہوں تو دس پندرہ کتابیں پڑھ کر یہ دوست خود کو ادیب اور خطیب سمجھنے لگتے ہیں یا پھر چند ہی دنوں میں اکتاہٹ اور مایوسی غالب آجاتی ہے۔فصاحت و بلاغت تو آتے آتے آتی ہے بیشتر راہی عادت و ریاضت کے مراحل سے ہی لوٹ جاتے ہیں۔ ایک اور سوال جو کثرت سے کیا جاتا ہے کہ کیا پڑھا جائے،کن کتب کا مطالعہ کیا جائے؟ میری گزارش یہ ہے کہ آپ شوق پیدا کیجئے مطالعے کا ذوق خود بخود آجائے گا۔

محمد بلال غوری
بشکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.