Header Ads

Breaking News
recent

غزہ کے لیے امدادی کشتی اسرائیل نے روک دی

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والی ایک کشتی کو روک کر اسے ایک اسرائیلی بندرگاہ کی جانب جانے پر مجبور کر دیا ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’غزہ کی پٹی پر لگی بحری پابندی کو توڑنے کی نیت سے آنے والی کشتی‘ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ بحریہ کی جانب سے کشتی کی تلاشی کے دوران کسی قسم کے تشدد کا واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس سے قبل رضاکاروں نے کہا تھا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان غزہ لے جا رہے ہیں۔ ان میں دوائيں اور شمسی تونائی حاصل کرنے کے لیے سولر پینل شامل تھے۔
اس کشتی کو پیر کو غزہ سے پہلے بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا ہے اور اس کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چار کشتیوں کے قافلے کی سربراہی کرنے والی ماریانے نامی کشتی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا: ’بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے اس کشتی کو راستہ بدلنے کے لیے کئی بار کہا۔ ان کی جانب سے انکار پر فوج اس کشتی پر گئی اور بین الاقوامی پانیوں میں اس کی تلاشی لی تاکہ اسے غزہ کی پٹی میں قائم بحری پابندی کو توڑنے سے باز رکھے۔‘

اس کشتی کو اب اشدد کی بندرگاہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔
یہ کشتی غزہ پر اسرائیل کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر لے جائی جانے والی کشتیوں میں تازہ ترین ہے۔ غزہ پر حماس کی حکومت ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2010 ترکی کی اسی قسم کی ایک کشتی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں نو رضاکار مارے گئے تھے۔
اس کی وجہ سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، حالانکہ اس سے قبل دونوں ملک اتحادی تھے۔

No comments:

Powered by Blogger.