Header Ads

Breaking News
recent

الیکٹرانک کرائمز بل....


اس سے پہلے کہ الیکٹرانک کرائمز کا انسدادی قانون مجریہ دو ہزار پندرہ قومی اسمبلی سادہ اکثریت سے منظور کرلے اور پھر میں اس قانون کے تحت دھر لیا جاؤں چند موٹی موٹی باتیں جلدی جلدی کرلوں۔

مجوزہ الیکٹرانک کرائمز بل مجریہ دو ہزار پندرہ کے دائرے میں ہر وہ پاکستانی شہری، ادارہ یا تنظیم ہے جو اس ملک کی جغرافیائی حدود میں یا اس سے باہر ہے۔ اس قانون کے تحت مختلف الیکٹرانک جرائم پر سزا کا دورانیہ تین ماہ سے لے کر پانچ برس اور جرمانہ ایک لاکھ سے پانچ کروڑ تک ہے۔پھر بھی مجھے نہیں معلوم کہ مذکورہ بل میں کیا کیا جرائم ہیں جن سے بچتے بچتے بھی میرا پیر غلط جگہ پھنس جائے۔

قومی اسمبلی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق جس قائمہ کمیٹی نے اس بل کو بہ عجلت منظور کیا اس میں شامل مسلم لیگ ن کے ارکان نے تو اس بل کو فوراً سمجھ کر ہاں کردی مگر حزبِ اختلاف کے جو ارکان اس قائمہ کمیٹی میں شامل ہیں ان میں سے صرف ایک یعنی ایم کیو ایم کے رکن نے مخالفت میں ووٹ دیا اور باقی حزبِ اختلافی اس لیے غیر حاضر رہے کہ ان کے بقول بل کے مسودے کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔

چونکہ سائبر کرائم ایک ٹیکنیکل موضوع ہے لہذا میں حسن ِ ظن رکھتا ہوں کہ اس بل کی منظوری دینے والے ارکان ِ مجلسِ قائمہ کی آئی ٹی سے متعلق معلومات ان کے اوسط ووٹر سے بہرحال زیادہ ہیں۔ چونکہ سائبر کرائم ایک ٹیکنیکل جرم ہے لہذا اس کی سماعت میں شامل ججوں ، وکلا اور تفتیش کاروں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رموز پر مناسب دسترس ہوگی۔ بصورتِ دیگر انصاف کی بلے بلے ہو سکتی ہے۔

ایسا نہیں کہ اس ملک کو سائبر کرائمز کے انسداد کے لیے موثر قانون کی ضرورت نہیں۔یقیناًمذکورہ قانون میں الیکٹرانک جعلسازی ، فراڈ ، ہیکنگ، ذاتی کردار کشی اور ٹھوس یا معروضی ثبوت کے بغیر کسی فرد یا ادارے پر بے بنیاد الزام تراشی ، ذاتی جاسوسی،پورنو گرافی اور تشدد آمیز تصاویر کی اشاعت، بلااجازت کاروباری اشتہارات کی صارف پر بمباری ، منافرت آمیز مواد وغیرہ وغیرہ کے تدارک کا احاطہ کیا گیا ہے۔

لیکن اگر کسی اچھے سے اچھے قانون میں بھی جرم کی عام فہم اور جامع تعریف کے بجائے زیرِ موضوع جرائم کا مبہم سا تعارف ہو تو پھر ایسا قانون بہترین نیت اور عزم کے باوجود کم عقل یا منتقم ہاتھوں میں دو دھاری تلوار بن جاتا ہے۔اور پھر یہ تلوار انھیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جنہوں نے یہ قانون خوش نیتی سے بنایا ہو۔اور ایک دفعہ کوئی دو دھاری قانون بن جائے تو اس ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ جان چھڑانا کس قدر مشکل ہوجاتا ہے۔کیونکہ ایسے قانون کے نتیجے میں جو مفاداتی لابی جنم لیتی ہے وہ اس میں تبدیلی یا اسے مزید بہتر بنانے کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنی رہتی ہے۔

چونکہ سائبر کرائم کا نیا قانون مفادِ عامہ کے نام پر بنایا گیا ہے۔لہذا حکومت کا یہ فرض تھا کہ وہ اس قانون کے مسودے کو عام مباحثے کے لیے مشتہر کرتی تاکہ اس کے سقم کم سے کم ہو سکتے اور خوبیاں زیادہ سے زیادہ ابھر سکتیں۔ہاں حکومت نے آئی ٹی سے متعلقہ نجی اداروں اور ماہرین کو اس بابت مدعو کیا اور ان کی تجاویز بھی حاصل کیں۔لیکن جو مسودہ قائمہ کمیٹی نے منظور کیا اس کے بارے میں آئی ٹی سیکٹر سے متعلق لگ بھگ ہر سرکردہ ادارہ یا فرد کہہ رہا ہے کہ جو بتایا گیا تھا یہ مسودہ وہ تو نہیں اور اگر یہ نافذ ہوتا ہے تو گیہوں پسے نہ پسے گھن ضرور پسے گا۔

مثلاً مسودے میں یہ تو کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص نیٹ پر کسی ملزم یا مجرم کو سراہتا ہے یا ارتکابِ جرم پر اظہارِ مسرت کرتا ہے یا انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے یا مذہبی و فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دیتا ہے تو اسے پانچ برس قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔بادی النظر میں یہ بہت مثبت شق معلوم ہوتی ہے۔مگر یہ پتہ نہیں چلتا کہ ملزم اور مجرم میں فرق ہوتا ہے کہ نہیں ؟ ملزم جب تک مجرم نہیں بن جاتا تب تک اس کے حق میں یا خلاف کیا کیا نہیں لکھا جاسکتا ؟ ( تو کیا میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل کہہ سکتا ہوں ؟)

انتہا پسند تنظیم کیا ہوتی ہے اور کون کون سی تنظیمیں حکومتی تعریف و فہرست میں انتہا پسند ہیں؟ مذہبی و فرقہ وارانہ منافرت کے دائرے میں کیا کیا شامل ہے ؟ کیا تمام مذاہب و نظریات کو ماننے والوں کے خلاف سائبر نفرت قابلِ تعزیر ہے یا صرف اکثریتی عقیدے کے بارے میں منفی و مثبت مواد کی سائبر اشاعت ہی اس دائرے میں آئے گی ؟ کیا گرفت کرتے وقت علمی و غیر علمی مباحث میں تمیز ہوگی یا ہر اختلاف یا متبادل نظریے پر گرفت ہوگی ؟ ارتکابِ جرم پر سائبر اسکرین پر اظہارِ مسرت سے کیا مراد ہے ؟ کیا یہ تبصرہ بھی قابلِ گرفت ہے کہ شیدے کن کٹے کو پھانسی ہوئی بڑا اچھا ہوا یا شیدے کن کٹے کو پھانسی ہوئی بہت برا ہوا۔
خود عبدالرشید کو شیدا کن کٹا کہنا بھی تو نئے قانون میں کردار کشی کے باب میں جرم ہے۔لیکن پولیس ریکارڈ میں مسمی عبدالرشید اگر شیدا کن کٹا ہے تو کیا تب بھی میرے خلاف کارروائی ہوگی اگر میں اپنی ویب سائٹ ، پیج یا کمنٹ میں شیدے کن کٹے کو شیدا کن کٹا کہوں ؟

اس قانون کے تحت صارف کی اجازت کے بغیر اسے اسپام میلز بھیجنا قابلِ گرفت ہے ؟ مگر کون سی اسپام میلز ؟ تجارتی ، جعلساز اور فحش اسپام میلز سے یقیناً ہر شخص تنگ ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت یا ادارہ آپ کو پریس کانفرنس یا اپنی سرگرمیوں سے متعلق ازخود میل بھیجتا رہتا ہے تو کیا یہ بھی قابلِ دست اندازیِ قانون ہوگا ؟ اگر ایسا ہے تو کیا میں ویاگرا کی گھر بیٹھے سپلائی کی اسپام میل سے لے کر جماعتِ اسلامی اور پیپلز پارٹی وغیرہ کے روزانہ وصول ہونے والے درجن بھر پریس ریلیزوں تک سب اسپام میلز عدالت میں لے جاسکتا ہوں ؟
اس قانون کے تحت مجاز اتھارٹی یا افسر کسی بھی آئی ٹی سروس پرووائیڈر کو کسی بھی ایسی ویب سائٹ یا صفحے کی بلاکنگ کا حکم دے سکتا ہے جو مجاز اتھارٹی کے خیال میں احترام و عظمتِ مذہب ، پاکستان کے تحفظ و سلامتی ، غیر ملکی ریاستوں سے دوستانہ تعلقات ، مفادِ عامہ ، شائستگی و اخلاقیات کے منافی ہو یا جس سے توہینِ عدالت کا پہلو نکلے۔

کیا یہ بل عجلت میں منظور کرنے والی وفاقی کابینہ یا قومی اسمبلی کی مجلسِ قائمہ کا کوئی فاضل رکن یہ سمجھانے میں میری مدد کرے گا کہ احترام مذہب اور عظمتِ مذہب کی تشریح کا دائرہ کیا ہے اور اس بارے میں مسودہِ قانون کے کس باب میں یہ تشریح موجود ہے ؟ پاکستان کے تحفظ و سلامتی کا دائرہ کیا ہے ؟ دوست غیر ملکی ریاستیں کون کون ہیں اور کیا یہ سب کل بھی دوست ہی کہلائیں گی ؟ ( تو کیا میں یہ سمجھوں کہ چین ، امریکا اور خلیجی ممالک پر تبصرے میں محتاط ،ایران و افغانستان و بنگلہ دیش وغیرہ کے بارے میں نیم محتاط اور اسرائیل و بھارت پر تبصرے میں غیر محتاط رہا جاسکتا ہے ؟ )

اور یہ مفادِ عامہ کیا بلا ہے ؟ شائستگی کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہے اور اخلاقیات کا اول و آخر کیا ہے ؟ کیا یہ وہی زبان اور لب و لہجہ تو نہیں جو ایوب خان کے پریس اینڈ پبلیکشینز آرڈیننس سے لے کر چار مارشل لاؤں کے فرامین میں استعمال ہو ہو کر اپنی معنویت تک کھو چکے مگر ہر بار انھیں جھاڑ پونچھ کر پھر کسی ایکٹ میں جڑ دیا جاتا ہے ؟

اس پورے قانونی مسودے میں کہیں واضح نہیں کہ مجاز اتھارٹی یا افسر مجاز عدالت کے وارنٹ لے کر ہی کسی فرد ، تنظیم یا سروس پروائڈر کو احکامات دے سکتی ہے یا ان کا ہارڈ وئیر ضبط کرکے ریکارڈ کی چھان بین کرسکتی ہے۔ مسودے سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مجاز اتھارٹی وارنٹ یا بلا وارنٹ کچھ بھی کرسکتی ہے۔

یہ قانون صرف سائبر سرگرمیوں پر لاگو ہوگا۔پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر نہیں۔تو کیا یہ قانون اخبارات ، ریڈیو اور ٹی وی چینلز وغیرہ کی ویب سائٹس اور آن لائن ایڈیشنز پر لاگو ہوگا؟

اگر تو قانون سازوں کو تاحیات کابینہ یا پارلیمنٹ میں رہنا ہے تب تو یہ بہترین قانون ہے۔اگر کل کلاں انھیں بھی عام شہریوں کی صف میں آنا ہے تو پھر اس قانون کو ایک عام شہری کی روزمرہ سائبر ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے جامع انداز میں ری ڈیزائن کیا جائے۔ضروری نہیں کہ جو چھری سبزی کاٹنے کی نیت سے خریدی جائے اس سے کوئی جانے انجانے میں قتل یا زخمی نہ ہو۔اسی لیے کہتے ہیں کہ ایسی اشیا بچوں کی پہنچ سے دور رہنی چاہئیں۔

بنیادی آزادیوں پر پابندیوں سے نہ تحفظ مل سکتا ہے اور نہ ہی آزادی  ( بنجمن فرینکلن۔ سترہ سو انسٹھ )۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.