Header Ads

Breaking News
recent

دہشت گردی۔ امریکی سی آئی اے رپورٹ۔ مثالی پاکستانی ڈاکٹر... .


اگر کسی کو امریکی صدر اوباما کے دورہ بھارت کے بعد بھی جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسی کی سمت اور ترجیحات کے بارے میں کوئی کنفیوژن یا خوش فہمی تھی تو امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان کی 30 جنوری کی معمولی بریفنگ کے بعد صورتحال بالکل واضح ہو جانا چاہئے کہ اب صدر اوباما اپنے عہدہ صدارت کے بقیہ دوسال مکمل ہونے تک بھارت کو جنوبی ایشیا ءکی علاقائی طاقت کا کردار ادا کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کنٹرول لائن اور پاک۔ بھارت سرحدوں پر کشیدگی کے بارے میں واشنگٹن کو صرف امن اور حل کیلئے پاک۔ بھارت ڈائیلاگ کی خواہش سے زیادہ کوئی سروکار نہیں۔ 

بلکہ امریکی ترجمان کے الفاظ میں امریکا امن ڈائیلاگ کی پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل ہمت افزائی کرتا ہے البتہ اس عمل کا ’’اسکوپ‘‘ اور ’’اسکیل‘‘ بھی دونوں ممالک پر منحصر ہے۔

امریکی ترجمان سے دوسرا سوال تھا کہ بھارت۔ امریکا ’’سول نیو کلیئر ڈیل‘‘ کے نتیجے میں خطے میں کئی سال سے قائم طاقت کا توازن بگڑ جائے گا کیونکہ اس ’’نیوکلیئر ڈیل‘‘ کے باعث حاصل شدہ ایٹمی مواد بھارت کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں کام آسکے گا جس کی وجہ سے طاقت کا توازن پاکستان کے خلاف بگڑ جائے گا اور بھارت کو بالادستی حاصل ہوجائے گی۔ اس سوال کے جواب میں امریکی ترجمان نے طاقت کے توازن کے معاملے کو نظرانداز کرتے ہوئے مبہم جواب دیتے ہوئے ’’بھارت۔ امریکا سول نیوکلیئر ڈیل‘‘ کو (امریکی نظام کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے) ایک ’’ایڈمنسٹریٹو‘‘ انتظام قرار دیتے ہوئے صرف یہ کہا کہ پاکستان اور بھارت سے امریکا کے علیحدہ علیحدہ تعلقات مضبوط ہیں۔ 

صدر اوباما کے دورہ بھارت نے تو پہلے ہی پاکستانی قیادت اور عوام کیلئے بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کا سامان فراہم کر رکھا ہے مگر اب یہ مزید واضح ہوگیا ہے کہ پاک۔ بھارت سرحدی کشیدگی اور ’’بھارت۔ امریکا ایٹمی ڈیل‘‘ سے پاکستان پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں امریکا کو کوئی فکر نہیں بلکہ علاقے میں بھارتی بالادستی کے نفاذ سے دلچسپی ہے۔

اب پاکستانی قیادت کے شعور اور حب الوطنی کو اس چیلنج سے نمٹنے کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ بھارت کی سرپرستی اور پاکستان سے لاتعلقی کے اس امریکی روئیے کے باعث کیا پاکستان کو بھی یہ آزادی اور اختیار حاصل ہے کہ وہ بھارت سمیت کسی غیرملکی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اور تیاریاں کر سکے؟ پاکستانی قیادت کو جرأت اور تدبر کے ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔

امریکی سی آئی اے کی ایک تازہ رپورٹ میں دہشت گردی کے عام انسانوں پر اثرات بیان کرتے ہوئے جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہر پاکستان شہری کیلئے قابل تشویش ہے۔ دہشت گردی کی کوئی واضح تعریف متعین نہیں ہوئی مگر دہشت گردی نے ہم سب کی زندگی کو مستقل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ روزمرہ کی زندگی، چھوٹی موٹی خوشیاں تبدیل ہوچکی ہیں۔ اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں غیریقینی، بے اعتمادی کو جنم دیدیا ہے۔ زندگی کے ہر لمحے صبح و شام ،سوتے جاگتے آپ دہشت گرد اور دہشت گردی سے خائف رہتے ہیں۔ امریکی سی آئی اے کے ماہر نفسیات ارسلاولڈر کی اس مطالعاتی اور تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جاسوس، فوجی ، قانون نافذ کرنے والے، ایمرجنسی اور فلاحی اداروں کے افراد کی زندگیوں پر دہشت گردی نے سب سے زیادہ برا اثر ڈالا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ امریکی سی آئی اے کے ماہر نفسیات کی اس رپورٹ میں صحافیوں کی زندگیوں پر بھی دہشت گردی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

شہریوں کی انفرادی زندگی کے علاوہ قوم کی معیشت ، سیاست، آزاد ماحول نفسیات پر منفی اثرات اس کے علاوہ ہیں۔ پاکستان ، افغانستان، عراق ، شام اور دہشت گردی سے متاثرہ دیگر ممالک کے شہریوں کو بیرونی دنیا میں سفر کرنے کی صورت میں جن مشکلات، دوسروں کے شکوک و شبہات کا جو سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی بہت سے منفی اثرات کا باعث ہے۔ جی ہاں! ملاحظہ کیا آپ نے کہ دہشت گردی کے شکار ممالک کے عوام اور معاشرہ سی آئی اے کی اس رپورٹ کے مطابق کن کن مسائل کا شکار ہو کر کس طرح اور کس قدر منفی تبدیلی کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہماری نئی نسل پر دہشت گردی اپنا کیا اثر دکھا رہی ہے۔ 

معاشرے کی تباہی اور انسانوں کے درمیان بداعتمادی ، مستقبل سے مایوسی اور غیریقینی کیفیات نئی نسل کے مزاج کا حصہ بن رہی ہیں۔ القاعدہ اور طالبان کے بعد اب داعش مسلم دنیا میں منظرعام پر آ کر سنگدلانہ قتل اور دہشت گردی کا بھیانک طوفان اٹھائے ہوئے ہے۔ مسلم دنیا کے حکمراں اپنے عوام کو بالخصوص نئی نسل کو اس سے بچانے اور اس انداز دہشت گردی کو روکنے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ اسلام کی اصل اور پرامن تعلیمات کے منافی دہشت گردی کرکے مسلمان کو موجودہ صدی کا ناپسندیدہ انسان بنانے کا عمل جاری ہے۔

 مسلمان ممالک کے حکمران محض اپنی حفاظت اور اقتدار کو طویل کرنے پر توانائیاں صرف کرنے کی بجائے اپنے ممالک اور عوام کی حفاظت کیلئے اقدام کریں تاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کا وقار اور امیج بہتر ہو اور اگلی نسل کی درست سمت بھی متعین ہو۔ ورنہ یہ صدی مسلم دنیا کیلئے بے شمار مسائل اور مشکلات لئے ہوئے ہے۔

ان تمام تلخ حقائق کے ذکر کا مقصد محض تنقید اور خرابیاں بیان کرنا نہیں ہے۔ آج بھی ایسی عمدہ اور بہترین مثالیں ہیں کہ جہاں مسلمان غیرمسلم اکثریت کیلئے نہ صرف عمدہ مثالیں ہیں بلکہ اس دہشت گردی اور منافرت کے دور میں بھی قابل عزت و احترام سمجھے جاتے ہیں۔ خود امریکا میں ہمارے متعدد پاکستانی نژاد امریکی ایسے ہیں جن کو یکساں طور پر عام امریکی شہری بھی احترام دیتے ہیں۔ مختلف امریکی شہروں اور قصبوں میں ایسے پاکستانی ڈاکٹر اور پروفیشنلز آباد ہیں جو نہ صرف پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے پل کے طور پر رول ادا کر رہے ہیں بلکہ عام امریکی معاشرے سے بھی یکساں احترام پاتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالوں میں سے اختصار کے ساتھ نیویارک اسٹیٹ کے بالائی علاقے میں آباد ڈاکٹر سعید باجوہ کی مثال ہے۔ 

ایک طرف انہوں نے اپنے علاقے میں ایک شاندار مسجد کی تعمیر میں مرکزی رول ادا کیا اور علاقے کی مسلم کمیونٹی سے محبت اور احترام حاصل کیا ہے تو دوسری طرف رحیم یار خان کے سابقہ رہائشی اس نیوروسرجن نے اپنی امریکی کمیونٹی کی جس طرح خدمت کی ہے وہ بھی منفرد ہے۔ وہ اپنے مرحوم والد سے کئے گئے وعدے کے مطابق کسی بھی پاکستانی سے امیری، غریبی کے امتیاز کے بغیر اپنی پیشہ ورانہ خدمات اور سرجری کا معاوضہ نہیں لیتے کیونکہ پاکستان نے انہیں میڈیکل تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔

یہ نہ جانے کتنے ہی ضرورت مند پاکستانی مریضوں کو امریکا اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے بلا کر اپنی بے لوث اور بلامعاوضہ سرجری کے ذریعے شفاء کا باعث بنے۔ آزاد کشمیر میں تاریخی زلزلہ کے ساتھ ہی یہ شخص اسلام آباد پہنچ کر متاثرہ مریضوں کی بلا معاوضہ سرجریاں انجام دیتا رہا۔ محض مسلمانوں اور پاکستانیوں سے ہی اخلاق اور مفت خدمات کا دائرہ محدود نہیں بلکہ خود اپنے علاقے میں ضرورت مند اور کم وسائل والے امریکیوں اور دیگر افراد کیلئے بھی اس انسان دوست ڈاکٹر سعید باجوہ کی خدمات اور حسن سلوک کا سلسلہ یکساں طور پر جاری ہے۔

 کچھ عرصہ قبل میں نیویارک کے اس اپ اسٹیٹ کے علاقے میں اپنے محترم صحافی دوست عتیق صدیقی کے ہاں مقیم تھا ،میں نے مقامی کمپنی کو کال کرکے ٹیکسی منگوائی اور علاقے سے ناواقفیت کے باعث اپنی منزل کے بارے میں گورے امریکی ڈرائیور کو بلڈنگ کی دوسری طرف اتارنے کو کہا تو وہ میری رنگت اور بودوباش کا اندازہ کرکے ڈاکٹر سعید باجوہ کی انسان دوستی، حسن سلوک اور علاقے کے عام لوگوں میں ان کی مقبولیت کا ذکر کرنے لگا اور تقریباً پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے دوران وہ سعید باوجوہ کی انسان دوستی کا ذکر کرتا رہا اور مجھ سے کرایہ نہ لینے کا بڑا مخلصانہ اظہار کرنے لگا اور میرے انتہائی اصرار کے بعد 12 ڈالر کرایہ قبول کرنے پر راضی ہوا۔ انسان دوستی کے پل کے طور پر رول ادا کرنے والا ڈاکٹر باجوہ دہشت گردی کے اس دور میں بھی ایک عمدہ مثال ہے۔ آج ہمیں ایسے کرداروں کی مزید اور بڑی ضرورت ہے۔

عظیم ایم میاں
"بہ شکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.