Header Ads

Breaking News
recent

ویلنٹائن ڈے - غیر مسلموں کا تہوار.....

بنیادی طور پر یہ غیر مسلموں کا تہوار ہے جو ہر سال14فروری کو منا یا جا تا ہے۔ اس تہوار کو غیر مسلموں کی تقلید میں اب مسلمان بھی بڑے زور و شور سے منا نے لگے ہیں ان کا موقف ہے کہ خوشی جہاں سے بھی ملے وہاں سے حاصل کر لینی چاہیے اور یہ سب جکڑ بندیاں انسانوں کے لئے کیوں ہیں جب کہ جانور اور پرندے تو ان سب زنجیروں سے آزاد ہیں مگر وہ اس حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور حیوانات اور چرند پرند کا ساطرز عمل اُس کے شایان نہیں جبکہ مسلمانوں کی تو اپنی اخلاقی اقدار اور تہذیب ہے اور اہل اسلام کے لیے خوشی کے جو معیار مقرر ہیں ان سے تجاوز کرنا اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ 

 کہا جاتا ہے دو لڑکوں نے روم کی بنیاد رکھی چنانچہ 44قبل مسیح میں یہ تہوار 13تا 15 فروی کو منایا جاتا تھا جس میں ان کی یاد میں دو بکروں اور ایک کتے کی قربانی دی جاتی تھی۔ اس میں پادری قربان شدہ بکروں کی کھالیں پہنتے اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عریاں ہو کر دوڑتے تھے۔ اس دوڑ میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی خواہش مند لڑکیاں لڑکوں سے ٹکراتی تھیں جو موٹے بالوں والی کھال کے تسمے پکڑے ہوئے ہوتے تھے۔ 

  ایک اور روایت کے مطا بق ویلنٹا ئن نا می تین شخص تھے جن میں سے ایک روم میں پا دری تھا اور دوسرا ٹرنی میں بشپ تھا جبکہ تیسرا فریقہ میں فوت ہوا اول الذکر ویلنٹا ئن کو شاہ روم کلا ڈیس نے 270ء میں اس جرم میں قید کر دیا کہ وُہ فو جیوں کی خفیہ طو ر پر شادیاں کروا دیتا تھا با وجو د اس امر کے با دشاہ نے فوجیوں کی شادیوں پر پا بندی لگا رکھی تھی کیونکہ اُسکے خیال میں شادی شدہ فو جی اپنے فرائض بہتر طور پر ادا نہیں کر سکتے تھے دوران قید اسے قید خا نے کے داروغہ آسٹیریس (جیلر ) کی اُس بیٹی سے عشق ہو گیا جو پہلے بینائی سے معذور تھی جسے اس نے اپنی رو حا نی قوت سے بینا کر دیا پھا نسی پا نے سے قبل اس نے داروغہ کی بیٹی کو ایک خط لکھا جس کے آخر میں لکھا تھا ’’تمہا را ویلنٹا ئن‘‘ یہ طریقہ بعد میں لو گوں میں رواج پا گیا (یہ واقعہ 14فروری 270عیسوی کا ہے )۔

  پھولوں کا استعما ل بھی فروغ پا نے لگا۔ اب تو پا کستان میں بھی ویلنٹا ئن ڈے پر پھولوں کی ایک کلی والی شاخ سو روپے میں فروخت ہو تی ہے مخملیں کپڑے کے دل ما رکیٹ میں نہا یت مہنگے دا موں میں فروخت ہو تے ہیں میڈیا بھی اس موقع کو تجا رتی مقاصد کے لئے استعما ل کر تا ہے نو جوان دلوں میں جذبا ت کو بھڑکا کر کسی محبو ب کی ضرورت کا احساس دلا کر نئی نسل کو بے راہ روی کی طرف ما ئل کیا جا تا ہے۔ غیر محرم لڑکے لڑکیوں کے آزادانہ تعلق اور اعلانیہ برائی کو فروغ دے کر احکام الہیٰ کی صریح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ 

اس دن کو منا نے کے حا می اپنے رشتے داروں کو محبت کے پیغا ما ت بھیجتے نظر آتے ہیں حالانکہ اپنوں سے محبت کے اظہار کے لئے کسی دن کو مخصوص کرنے کی ضرورت نہیں ویسے بھی بحیثیت مسلمان لڑکے لڑکی کی خفیہ دوستی منع ہے سورہ النسا ء میں نیک عور ت کے اوصاف اسطرح بیان ہو ئے ہیں۔
پا ک دامن نہ کہ اعلا نیہ بدکا ری کر نے والی ، نہ خفیہ آشنا ئی کر نے والی (آیت نمبر 25 جزو)۔

اسلام انسان کو اپنے رب سے محبت کر نے کا درس دیتا ہے۔ کہ اسی کی محبت ہی انسا نیت کے لئے پا کیزہ جذبہ پید ا کر تی ہے نہ کہ نفسا نی خواہشات ، کیونکہ مسلما نوں کے پا س اظہا ر محبت کے لئے عید الفطر ، عید ا لاضحیٰ اور میلا د النبی ﷺ کے دن مو جود ہیں عید الفطر پر رمضا ن المبا رک کی بر کتوں کا شکر ادا کیا جا تا ہے عید الا ضحی ایثا ر و قربا نی کا درس دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ قربا نی کے موقع پر یہ دعا پڑھا کر تے تھے : بے شک میں اپنا چہرہ یکسوئی سے اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (الانعام 79:6) بے شک میری نماز اور میری قر بانی ، میرا جینا ، میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (الانعام 163,162:6)

 سورہ یو نس آیت 58میں حکم الہی \"اللہ کے فضل و رحمت پر ہی خو شی منا یا کرو 

سید کرامت علی شاہ بخاری

No comments:

Powered by Blogger.