Header Ads

Breaking News
recent

فوجی عدالت کے لیے پہلا مقدمہ حاضر ہے....وسعت اللہ خان


اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جنہیں اپنے سر پہ پتھر مارنے سے پہلے احساس ہوجاتا ہے کہ اس کے کیا نقصانات ہوں گے، دوسرے وہ جنہیں سر پہ پتھر مارنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کیا بے وقوفی کر ڈالی اور تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو پتھر سر پہ مارنے کے بعد پتھر مارنے والے کو ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔

لیاقت علی خان کا سوویت یونین کا دعوت نامہ ٹھکرا کے امریکہ جانا حکمتِ عملی کی بڑی غلطی تھی۔ مگر مضمون نگاروں کو 40 برس لگے یہ غلطی دریافت کرنے میں۔

آج سب کہتے ہیں اردو کو قومی زبان بنا دینا اور بنگالی کو نہ بنانا ایسی غلطی تھی جو 20 برس میں ہی کینسر بن کے آدھا جسم کھا گئی۔ مگر آج بھی اردو ہی قومی زبان ہے اور علاقائی زبانیں قومی تو کجا صوبائی درجہ بھی نہیں رکھتیں (سندھی کے علاوہ )۔ آج بھی اس بابت سوال اٹھانا مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے۔

آج سب کہتے ہیں کہ ون یونٹ کا تجربہ ناکام تھا۔ اختیارات کی نیچے تک ایماندارانہ منتقلی ہی کسی بھی فیڈریشن کو آکسیجن دے سکتی ہے لیکن نئے صوبے بنانے پر کوئی تیار نہیں۔ ( جو پنجاب پیرٹی کے فارمولے کو مشرقی پاکستان کی اکثریت کے گلے میں اتروانے کے لیے پیش پیش تھا اب وہی پنجاب آبادی کے تناسب سے وسائل کی تقسیم کا سب سے پرجوش وکیل ہے۔)

آج سب کہتے ہیں کہ بھٹو کی پھانسی ایک عدالتی قتل تھا۔ پھر بھی تاریخی و قانونی ریکارڈ درست کرنے پر کوئی تیار نہیں۔ نہ پیپلز پارٹی، نہ کوئی حکومت، نہ کوئی عدالت۔

(اس پر یاد آیا کہ میرا ایک الکوحلک شاعر دوست جگر کے سرطان سے مرگیا۔ مگر جنازے میں شریک بہت سے شاعر ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہے کہ یہ تو کینسر سے مرا ہے۔ شراب سے تھوڑی مرا ہے ۔۔۔)آج سب کہتے ہیں کہ ضیا دور پاکستانی تاریخ کا تاریک ترین دور تھا۔ جو نہیں کہتے وہ بھی ضیا دور کی کھل کے تعریف کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مگر ضیا دور کی آئینی ترامیم اور قانون سازی کو سب حلال کہتے ہیں اور جو نہیں کہتے ان میں اتنی جرات نہیں کہ کھل کے یہ کہہ سکیں۔

آج سب کہہ رہے ہیں طالبان کی اندھا دھند حمایت بہت بڑی نادانی تھی۔ جو یہ نہیں کہہ رہے وہ بھی کھل کے طالبان کی حمایت سے قاصر ہیں۔ مگر کوئی نہیں کہہ رہا کہ طالب دراصل مدارس سے نکال کے ہی میدانِ جنگ میں بھیجے گئے تھے لہذا کوئی ایسا بندوبست بھی ہونا چاہیے کہ آئندہ مدارس کے طالبوں کو کوئی اپنے ایجنڈے کا ایندھن نہ بنا سکے اور یہ تو کوئی بھی کہنے کو تیار نہیں ہے کہ ساری مصیبت ہی سویلینز کو علاقائی جھگڑوں میں بطور پراکسی استعمال کرنے کی پالیسی کا پھل ہے۔ لہٰذا آئندہ کے لیے یہ حکمتِ عملی یکسر ترک کردی جائے۔ (بقولِ چرچل ماضی کو حال کا حصہ بنانے پُر اصرار مستقبل کو مفلوج کردیتا ہے۔)

سب کہہ رہے ہیں کہ اس وقت فوجی عدالتیں ہی درپیش عفریت سے نمٹ سکتی ہیں۔اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ یحییٰ خان اور ضیا الحق والی فوجی عدالتیں نہیں۔ یہ تو صرف دو برس کے لیے ہیں اور انہیں منتخب پارلیمنٹ قائم کررہی ہے۔ مگر کوئی بھی نہیں بتا رہا کہ ان فوجی عدالتوں کا خیال مشرف اور پھر زرداری حکومت کو کبھی کیوں نہ آیا؟ اور اگلے دو برس میں سویلین قوانین، تفتیشی نظام اور عدلیہ کو کیا اتنا جدید اور مضبوط بنا دیا جائے گا کہ آئندہ کسی سویلین حکومت کو فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی نہ پڑے؟

(یکم جنوری کی شام لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن کی بہاری کالونی میں ایک سات سالہ بچہ معین کھیلتے ہوئے غائب ہوگیا۔ دو جنوری کو معین کی ریپ زدہ لاش علاقے کی بیت المکرم مسجد کی دوسری منزل پر پنکھے سے عریاں لٹکی ملی۔ تین افراد تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ یہ المناک تصاویر فیس بک پر بھی شیئر ہو رہی ہیں اور معین میں مجھے اپنا سات سالہ بیٹا صاف نظر آ رہا ہے۔ کیا پہلی فوجی عدالت اس مقدمےسے اپنے کام کی بسم اللہ کرنا پسند فرمائے گی؟ حالانکہ ریپ آئین کی مجوزہ اکیسویں ترمیم میں درج دھشت گرد جرائم کی فہرست میں شامل نہیں)۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.