Header Ads

Breaking News
recent

دہشت گردی پر مغرب کی منافقت....نوم چومسکی

پیرس کے ہفت روزہ جریدے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے، جس میں کہ اس کے ایڈیٹر اور چار خاکہ سازوں سمیت 12 افراد کو ہلاک کردیا گیا اور اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ایک سپرمارکیٹ میں چار یہودیوں کی ہلاکت کے بعد پیرس میں ایک ملین مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں چوالیس ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی اور گستاخانہ خاکے شایع کرنے والے جریدے کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر فرانسیسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی، ہر قسم کی جہادیت، ہر قسم کے بنیاد پرست اسلام اور ہر اس چیز کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں جس کا مقصد آزادی، استحکام اور اجتماعیت کو زک پہنچانا ہو۔ 

ملین مارچ کے شرکاء کی طرف سے بھی جس دہشت گردی کے خلاف جذبات کا باآواز بلند اعلان کیا گیا اس طرف مغربی میڈیا نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ اسرائیل کی لیبر پارٹی کے سربراہ آئزک ہرزوگ نے جوکہ آنے والے الیکشن میں موجود وزیراعظم کے مد مقابل سب سے مضبوط امیدوار ہیں، کہا ہے کہ دہشت گردی صرف دہشت گردی ہے اور آزادی سے محبت کرنے والی قوموں کو اس ظالمانہ خطرے سے سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

نیویارک ٹائمز نے جریدے پر حملے کو ’’تہذیبوں میں تصادم‘‘ کا نام دیا مگر دی ٹائمز کے کالم نگار آنند گروہرداس نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ یہ تہذیبوں کا تصادم ہے‘‘ بلکہ یہ ان گروپوں کی لڑائی ہے جو تہذیب پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ چارلی ہیبڈو کے نیویارک میں متعین نامہ نگار سٹیون ارلینگر نے اس واقعہ کو سائرنوں کی گونج، فضا میں ہیلی کاپٹروں کا گشت اور دیوانہ وار نیوز بلیٹن، پولیس کی جگہ جگہ تعیناتی اور کم عمر بچوں کے جمگھٹے جنھیں حفاظت کے لیے اسکولوں سے نکال لیا گیا تھا اور گزشتہ دنوں سے ایسا ہی ہوا تھا۔

پیرس اور اس کے گردونواح میں دہشت اور وحشت پھیلی ہوئی تھی۔ جریدے پر حملے میں بچ جانے والے جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ اب سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے اور ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا، ہر طرف دھواں پھیلا تھا اور لوگ چیخ رہے تھے۔ یہ دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ پہلے سیاہ دھویں والا بم پھینکا گیا جس کے دھوئیں میں سب کچھ چھپ گیا اور مکمل اندھیرا ہوگیا۔ یہ ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔

اس موقع پر ایک آزاد صحافی کے طور پر ڈیوڈ پیٹرسن نے یاد دلایا کہ اس نے اس سے بھی زیادہ خطرناک منظر اپریل 1999ء میں دیکھا تھا جب نیٹو کے جنگی طیاروں نے سربیا کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ہیڈکوارٹرز پر بمباری کرکے 16 صحافیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ لیکن اس حملے کی نیٹو اور امریکی افسروں نے حمایت کی تاکہ یوگوسلاویہ کے صدر سلوبوڈان میلوسووچ کا تختہ الٹا جاسکے۔
پینٹا گان کے ترجمان کینتھ بیکن نے واشنگٹن میں اپنی نیوز بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ سرب ٹی وی بھی میلاسووچ کی قاتلانہ مشین کا اتنا ہی ایک فعال حصہ تھا جتنی کہ اس کی فوج تھی۔ چنانچہ وہ حملہ کرنے کے لیے ایک جائز ہدف تھا لیکن وہاں پر 10 صحافیوں کی ہلاکت پر کوئی احتجاجی آواز بلند نہ کی گئی اور نہ ہی اس حملے پر تحقیقات کا کوئی شور مچایا گیا بلکہ اس کے برعکس سرب ٹی وی پر حملے کی ستائش کی گئی۔

امریکا کے معروف سفارتکار رچرڈ ہالبروک اس زمانے میں یوگو سلاویہ میں امریکا کے سفیر تھے۔ جنہوں نے سرب ٹی وی پر نیٹو حملے کی زبردست الفاظ میں تعریف کی اورکہا اس کامیاب حملے سے ہم نے اہم فتح حاصل کر لی ہے اور اس کے علاوہ بھی مسیحی تاریخ میں ایسے اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن کے بارے میں کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔

مثال کے طور پر یورپ میں سب سے خطرناک دہشتگرد حملہ جولائی 2011ء میں ہوا جب اینڈرز بریوک نے جو ایک عیسائی انتہا پسند تھا جس نے 77افراد کو قتل کردیا تھا جن میں زیادہ تعداد 20سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی تھی مگر اس کے خلاف انسداد دہشتگردی کی جنگ شروع کرنے کی کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ صدر بارک اوباما نے دہشتگردی کے خلاف جو عالمی جنگ شروع کر رکھی ہے اس میں مشتبہ سمجھ کر مارے جانے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے جس کا شمار ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی گزشتہ دسمبر میں شام پر امریکی بمباری سے 50 سویلین ہلاک ہو گئے۔

ٹی وی پر نیٹو کے حملے کے ضمن میں ایک شخص کو البتہ ضرور سزا دی گئی اور وہ تھا ٹی وی اسٹیشن کا جنرل مینجر ڈراگولجوب میلانووی جس کو انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے 10سال قید کی سزا دی کہ آخر وہ حملے کے دوران عملے کو عمارت سے بحفاظت نکلوانے میں کیوں ناکام رہا۔ صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی کمیٹی نے نیٹو کے حملے کو ’’مجرمانہ حملہ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے البتہ یہ تسلیم کیا ہے کہ سویلین ہلاکتیں غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہیں۔ نومبر 2004 میں عراق کے شہر فلوجہ پر امریکی اور برطانوی حملے میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بھی شمار نہیں کی جا سکتی۔

زیادہ تر ہلاکتیں فلوجہ پر سول اسپتال پر بمباری کے نتیجے میں ہوئیں۔ نیویارک ٹائمز کے فوٹو گرافر نے اسپتال پر ہونے والے حملے کی ویڈیو فلم تیار کی جس میں دکھایا گیا تھا کہ امریکی اور برطانوی فوجیوں نے مریضوں اور اسپتال کے عملے کو پشت پر ہاتھ باندھ کر زمین پر لٹا دیا ان میں سے بعض کو ہلاک کر دیا گیا جس کے بارے میں بعض ازاں وضاحت کی گئی کہ یہ آزادی اظہار پر حملہ نہیں تھا اور جہاں تک فرانس کی طرف سے آزادی اظہار کی حفاظت کے دعوؤں کا ذکر ہے اس میں بھی منافقت کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

(تلخیص و ترجمہ۔ مظہر منہاس)

No comments:

Powered by Blogger.