Header Ads

Breaking News
recent

دہشت گرد کون؟....


کیا تمام دہشت گرد مسلمان ہوتے ہیں یا کیا تمام مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں؟ آنکھیں کھولئے، تحقیق کیجئے اور پھر دوبارہ سوچئے۔

یقیناً تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتے۔ اور جو دہشت گرد ہوتے ہیں، ان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ حقیقت کیاہے، پچھلے پانچ برسوں کے دوران ہونے والے جرائم کا جائزہ لیجئے، یورپی یونین کے ممالک میں ہونے والے جرائم میں صرف 2 فیصد کا محرک ’مذہبی‘ ہوتاہے۔ مثلاً
یورپی ممالک میںسن 2013ء میں دہشت گردی کے 152واقعات ہوئے جن میں سے صرف 2 کا محرک ’مذہبی‘ تھا۔ سن2012ء میں دہشت گردی کے 219 واقعات ہوئے جن میں سے صرف 6 کا محرک ’مذہبی‘ تھا۔ سن2011ء میں دہشت گردی کے 174واقعات ہوئے جن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کامحرک ’مذہبی‘ ہو۔ سن2010ء میںدہشت گردی کے 249 واقعات ہوئے جن میں سے تین کا تعلق مسلمانوں سے تھا۔ سن2009ء میں دہشت گردی کے 294 واقعات ہوئے جن میں سے صرف ایک میں مجرم مسلمان تھا۔ یادرہے کہ دہشت گردی کے 2فیصد مذہبی محرک کا مطلب اسلامی نہیں، ان واقعات میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شریک تھے۔

’گلوبل ڈیٹابیس ٹیررازم‘ کے اعدادوشمار کے مطابق اگر 1970ء سے2007ء تک،سینتیس برسوں کے دوران پوری دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کا جائزہ لیاجائے تو مجموعی طورپر دنیا بھر میںدہشت گردی کے87000 واقعات ہوئے تھے جن میں سے 2695 یعنی 3 فیصد واقعات ان لوگوں نے کئے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔ ان میں سے 2369 واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد10یا اس سے کم تھی،201 واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد11 سے50 تک تھی، 16 واقعات میں ہلاک ہونے والے51 سے100 تھے اور 4واقعات میں 101یا اس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

یورپین یونین کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی’یوروپول‘ کے مطابق 2007ء سے2008ء تک یورپ میں دہشت گردی کے99.6 فیصد واقعات غیرمسلموں نے کئے۔ ان میں سے 84.8 فیصد واقعات علیحدگی پسندوں نے کئے جبکہ کوئی علیحدگی پسند مسلمان نہیں تھا۔ بائیں بازو کے گروہوں کی دہشت گرد کارروائیوں کی تعداد مسلمان دہشت گردی کی نسبت16گنا زیادہ ہیں۔

نائن الیون کے واقعات کے بعد امریکہ اور مغرب نے اسلام کے خلاف ایسی دھول اڑائی کہ اہل مغرب سے حقائق پوشیدہ ہوگئے جیسے مندرجہ بالا حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا اگلا حصہ یہ ہے کہ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق 1980ء سے2005ء کے درمیان امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث مسلمان 6 فیصد تھے جبکہ یہودیوں کی شرح7فیصد تھی۔ یہ اعدادوشمار خود ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر terrorism-2002-2005 کے نام سے موجود ہیں۔ دوسرے الفاظ میں94 فیصد دہشت گرد غیرمسلم تھے۔ ان میں سے 24فیصد لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے تھے، 5فیصد دہشت گرد کمیونسٹ تھے، جبکہ 16فیصد دیگرگروہ تھے۔

یونیورسٹی آف نارتھ کیلی فورنیا میں سوشیالوجی کے پروفیسر چارلس کرزمان کہتے ہیں کہ امریکیوں کو امریکی مسلمانوں کی طرف سے خطرہ انتہائی معمولی ہے۔ انہوں نے ایک رپورٹ تیارکی جس کاعنوان تھا:’’ مسلم امریکی دہشت گردی 2013ء‘‘۔ اس میں چارلس نے لکھا کہ سن 2013ء میں امریکہ میں قریباً 14000 قتل ہوئے۔ نائن الیون کے بعد ایک لاکھ 90 ہزار قتل کی وارداتوں میں ملوث پائے جانے والے مسلمانوں کی تعداد صرف 37 تھی۔

سن2013ء میں دہشت گردی کے 152 واقعات میں سے84 حملے نسل پرست، قومیت پرست اور علیحدگی پسندنظریات کے حاملین نے کئے یعنی55فیصد سے زائد۔ اگرسن2012ء کے واقعات کا جائزہ لیاجائے تودہشت گردی کے 76 فیصد حملوں کے ذمہ دارنسل پرست، قومیت پرست اور علیحدگی پسند تھے۔
ایسے میں دہشت گردی اور بدامنی کا سارا ذمہ مسلمانوں ہی کو کیوں قرار دیا جاتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ سیاست دان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کارپوریٹ میڈیا مذہبی بنیادپر ہونے والے حملوں کو اس لئے نمایاں کررہاہے تاکہ سیاسی محرکات کی بناپر ہونے والی دہشت گردی پر پردہ ڈالا جائے۔ سب مغربی ادارے مانتے ہیں کہ زیادہ ترواقعات کا بنیادی محرک علیحدگی پسندی ہوتی ہے۔ سیکولرریڈیکل گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں۔ ان کا تعلق بائیں بازو کی طرف سے بھی ہوتاہے اور دائیں سے بھی۔ مغربی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ’مسلم دہشت گردی‘ ، دہشت گردی کی بہت سی اقسام میں سے ایک ہے لیکن وہ اس قدربڑا خطرہ نہیں جتنا بناکرپیش کیاجارہاہے۔

سن 2010ء کے اوائل میں امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ نے بھی ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایاگیاتھا کہ امریکہ میں ’مسلم امریکی دہشت گردی‘ کی کہانی مبالغہ آمیز ہے۔ یہ جائزہ رپورٹ ڈیوک یونیورسٹی اور یونی ورسٹی آف نارتھ کیلی فورنیا کے تعاون سے تیارکی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ’ریڈیکل اسلام کے نام سے امریکیوں کے سرپر جو خطرہ بھوت بناکر سوار کرایا گیا ہے، اس کے ذمہ دار دائیں بازو کے اسلاموفوبینز ہیں۔ امریکہ میں چونکہ کیبل نیوز نیٹ ورک کا غلبہ ہے، اس سے معلومات حاصل کرنے والے سمجھتے ہیں کہ تمام دہشت گرد مسلمان ہی ہیں۔ یہاں تجزیے کرنے والے ’’دیانت دار‘‘ اور ’’ذمہ دار‘‘ یوں کہتے ہیں ’’ یہ بات درست ہے کہ تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں تاہم قریباً تمام دہشت گرد مسلمان ہیں‘‘۔ یوں وہ ایک طرف اپنی ’’دیانت داری‘‘ اور ’’ذمہ داری‘‘ کا تاثرقائم کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنا پراپیگنڈہ بھی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

امریکہ میں ریڈیکل یہودیوں نے اپنے مذہب کے نام پر بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی۔ بے شمار ایسے واقعات تاریخ کا ریکارڈ ہیں جنھیں صرف تاریخ کا حصہ ہی بنادیا گیا ہے۔ امریکہ میں دہشت گرد یہودی گروہ سرگرم ہیں لیکن کبھی اس سوال پر بحث نہیں ہوئی کہ ’جیوش ڈیفنس لیگ ‘ امریکہ میں کیا کچھ کررہی ہے اورBoricua Popular Army والے کون ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ یہ اور ان جیسے دوسرے دہشت گروہ امریکہ میں مسلسل دندنا رہے ہیں لیکن ان کی دہشت گردی کا ذکر کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں کی جاتی کہ کچھ یہودی گروہ ہیں اور دوسرے علیحدگی پسند۔ امریکی کرتادھرتا سوچتے ہیں کہ اگر یہودی اور لاطینی دہشت گردی کا ذکرنمایاں کیاگیاتو یہ سیاسی اور سماجی خودکشی ہوگی۔

جب بھی آپ اسلاموفوبیا کے شکار کسی امریکی سے ان گروہوں کی بابت بات کرنا شروع کریں گے تو وہ فوراً سلسلہ کلام منقطع کرلے گا، اگر موضوع ہو’دہشت گردی اور اسلام‘ تو یہ امریکی بے تکان بولے گا۔ یہ لوگ ایک ایسی خیالی دنیا میں رہتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو سیاسی اعتبار سے درست سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انھیں اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

تھنک ٹینک ’ سنٹرفار امریکن پراگریس‘ شعبہ نیشنل سیکورٹی اینڈ انٹرنیشنل پالیسی میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے کین سوفر کہتے ہیں کہ جن واقعات میں مسلمان ملوث ہوتے ہیں، وہ اس لئے نمایاں ہوتے ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کا مجموعی تاثر مسلمانوں سے جڑا ہواہے۔ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں کون ملوث ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک فرد دہشت گردی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا تناظر دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔

مسلمانوں پر یہ تاثر اس لئے بھی لگ گیا کہ مسلمان حکمرانوں اور ایک طبقہ نے فوراً معذرت خواہانہ رویہ اختیارکرلیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک جھوٹ اور بدترین پراپیگنڈا مہم کے طوفان میں مسلمان حکمران نہ صرف معذرت خواہ ہوئے بلکہ وہ اس جھوٹ کا حصہ بن گئے اور انھوں نے اس جھوٹ کو سچ تسلیم کرلیا۔ کسی ایک بھی مسلم حکمران نے مغرب کے سامنے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ
٭کیاپہلی جنگ عظیم مسلمانوں نے شروع کی تھی؟ جس میں 3 کروڑ70لاکھ انسان ہلاک ہوئے اور 2 کروڑ 23 لاکھ 79 ہزار53انسان زخمی ہوئے،ان میں سے70لاکھ سویلینز تھے۔ ٭دوسری جنگ عظیم مسلمانوں نے شروع کی تھی؟ جس میں 6کروڑانسان ہلاک ہوئے۔٭ کیا مسلمانوں نے آسٹریلیا کے 2کروڑاصل باشندوں کو ہلاک کیا تھا؟ ٭کیا مسلمانوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایاتھا؟ جس کے نتیجے میں ایک لاکھ 66ہزارانسان ہیروشیما اور 80 ہزار ناگاساکی میں ہلاک ہوئے۔٭ شمالی امریکہ میں دس کروڑ ریڈانڈینز کو کس نے ہلاک کیا تھا؟٭ جنوبی امریکہ میں پانچ کروڑ انڈینز کو کس نے ہلاک کیا تھا؟٭18 کروڑ افریقیوں کو کون غلام بناکر امریکہ لایا تھا؟ جن میں سے 88 فیصد افریقی غلام ہلاک ہوئے ، ان کی لاشوں کو بحراوقیانوس میں پھینک دیا گیا تھا۔

ان کروڑوں انسانوں کاخون ان لوگوں نے کیا جو آج دنیا میں سب سے زیادہ مہذب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو دنیا میں امن کا پرچم اٹھائے پھرتے ہیں، جو دنیا میں انسانی حقوق کا غلغہ مچائے ہوئے ہیں اور جو چند واقعات کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد قراردے رہے ہیں، جو یہودیوں کی دہشت گردی کو چھپاتے ہیں۔

لگے ہاتھوں ’یوروپول‘ کی رپورٹ2009ء کا اختتامیہ بھی پڑھ لیجئے
’’اسلامی دہشت گردی کے بارے میں ابھی تک یہی خیال کیاجارہاہے کہ وہ دنیا میں سب سے بڑا خطرہ ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ 2008ء کے ایک سال کے دوران یورپ کودہشت گردی کے صرف ایک واقعے کا سامنا کرناپڑاہے جس میں کوئی مسلمان ملوث تھا، یہ بم حملہ تھا جو برطانیہ میں ہواتھا۔ یورپ کو علیحدگی پسند دہشت گردی سب سے زیادہ متاثرکررہی ہے۔ ان میںباسک علیحدگی پسند(سپین اور فرانس) اور کورسیکن علیحدگی پسند (فرانس) شامل ہیں۔ باسک ہوم لینڈ اینڈ فریڈم (ETA) اور ریولیوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا پیپلز آرمی (FARC) کے ماضی کے تعلقات اس حقیقت کے عکاس ہیں کہ علیحدگی پسند تنظیمیں غیر یورپی علیحدگی پسندوں سے بھی مشترکہ مفادات کی بنیادپر تعلقات رکھتی ہیں۔ برطانیہ میں آئرش ری پبلیکن گروہ اور دیگر پیراملٹری گروہ اب بھی جرائم اور تشددمیں مصروف ہیں‘‘۔

مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا’’دنیا میں جہالتِ مطلق اور پڑھ لکھ کر جاہل ہونے سے زیادہ خطرناک کچھ نہیں‘‘۔ اس کی تشریح موجودہ حالات میں یہی ہوسکتی ہے کہ جب آپ دہشت گردی کے سب سے چھوٹے کردارکو سب سے بڑا کردار بنا کر پیش کریں گے اور سب سے بڑے کردار کو نظراندازکریں گے تو یہ آپ کی حماقت نہیں بلکہ اپنے آپ سے سب سے بڑی دشمنی ہے اور یہی روش آپ کو مکمل طورپر ہلاک کردے گی۔

عبید اللہ عابد

No comments:

Powered by Blogger.