Header Ads

Breaking News
recent

موبائل فون کے مضر اثرات....

ایک رپورٹ کے مطابق موبائل فون فوبیا نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا ہے ‘دنیا بھر کی 50فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی 7ارب آبادی میں سے 5ارب 80کروڑ سے زائد مردوخواتین کی زندگی میں موبائل فون لازمی جزو بن کر رہ گیا ہے اور پاکستان کی کل 18کروڑ آبادی میں سے 13کروڑ 21لاکھ آبادی موبائل فون فوبیا کا شکار ہے ۔ آئی ٹی اور ٹیلی مواصلات کمیونی کیشن کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی ، جرائم ، اخلاقی وجنسی جرائم کے پھیلاؤ میں موبائل فون بنیادی کردار ادا کر رہا ہے اور معاشرے میں بے راہ روی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ موبائل فون نے زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کر دی ہیں مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں موبائل فون کا بے تحاشا منفی استعمال ہمارے معاشرے کوناقابل تلافی نقصان پہنچارہا ہے اور اس کے مضر اثرات ہر آئے دن مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں ۔ ذیل کی سطور میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی دنیا موبائل فون فوبیا میں مبتلا ہو کر رہ گئی ہے اور کیا اس کا منفی استعمال اس حد تک عام ہو چکا ہے کہ اب معاشرہ اس ’’پرزے‘‘ سے بیزار دکھائی دینے لگا ہے ۔

قارئین! ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو لاتعداد ایسے واقعات اور جرائم ملیں گے جو صرف اور صرف موبائل فون کی وجہ سے ہی وقوع پذیر ہو رہے ہیں اور آج کل پاکستان دہشت گردی کے جن سانحات سے گزر رہا ہے وہ سب اسی موبائل فون کی پیدا کردہ خرابیاں ہیں ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موبائل فون اس قوم اور بالخصوص جوانوں کے لیے کسی لا علاج مرض کی ہیئت اختیار کر چکا ہے ۔ کیا بچے ،جوان سبھی اس موبائل فوبیا میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں ، ناپسندیدہ سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور سچ پوچھیے تو اس چھوٹے سے ’’پرزے نے معاشرے میں بگاڑ ڈالنے کی ایک نئی طرح ڈال دی ہے اورپاکستان ایسے ترقی پذیر ملک میں جہاں اس سے بے شمار فوائد حاصل ہو رہے ہیں وہیں اس کے ذریعے سے عریانی ، فحاشی اوردیگر بے پناہ معاشرتی مسائل اور الجھنیں بھی جنم لے رہی ہیں ۔

یہ حقیقت ہے اور عالمی ماہرین کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہو چکی کہ اگر ایک طرف موبائل فون اور سیلولر سروسز نے ہمارے لیے آسانیاں پید ا کر دیں ہیں تو دوسری جانب اس نے خطرناک ترین مسائل بھی کھڑے کر دیے ہیں اور اس سے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک ہی متاثر ہو رہے ہیں ، اگر شہری آبادیوں میں موبائل فون اور اس کے ٹاورز خطرناک شعاعیں خارج کر کے انسان و حیوانات کو نقصانات پہنچا رہے ہیں تو کئی کئی گھنٹوں پر محیط کال پیکجز اور میسجز نے بھی حضرت انسان اور بالخصوص نوجوان نسل کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔

عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او(ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کی ایک رپورٹ کے مطابق موبائل فون کے نقصانات میں کینسر ، ذہنی ڈپریشن اور دیگر موذی امراض شامل ہیں اور سائنس دان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لوگوں کو بہت کم سیل فون استعمال کرنا چاہیے اور حکومتوں کو اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقداما ت کرنے چاہییں ۔فن لینڈ کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں یہ بات ثابت کی کہ موبائل فون انسانی سوچ ، فکر، ارتقاء اور دماغ میں بہت سی منفی تبدیلیاں لاتاہے ، اسی طرح سویڈن کے ایک ماہر نفسیات نے موبائل فون کے بہت سے مضمرات سے دنیا کو آگاہ کیا ہے جن میں سر فہرست ذہنی ڈپریشن اور اعصابی کھینچاؤ وغیرہ شامل ہے ، فن لینڈ ہی کے ایک میگزین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مسلسل تیس منٹ سے زائد موبائل فون کا استعمال انسانی صحت اور ذہنی توازن کے لیے از حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

سعودی عرب کی کنگ سعودیونیورسٹی کی ایک ریسرچ میں کہا گیا کہ جو لوگ موبائل فون زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں سردرد، ٹینشن اور ہر وقت تھکاو ٹ کی سی کیفیت رہتی ہے اور وہ مختلف نفسیاتی الجھنوں اور مشکلات میں گھر ے رہتے ہیں ۔ برطانیہ کے ایک پروفیسر لاواری ہیں جو عالمی سطح پر موبائل فون کے متعلق تحقیقی پروگرامز کے ماہر ہیں ‘کے مطابق اس کی برقی مقناطیسی لہروں سے مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور موبائل فون کا زیادہ استعمال کرنے والوں کی نسبت دوسرے لوگ زیادہ پرسکون وپر بہار زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔

معروف سائنس دان سرولیم نے اسی ضمن میں بتایا کہ موبائل فون بچوں کے لیے تو زہر قاتل ہے ،اس کی تابکاری سے بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں اورموبائل فون ٹاورز کی تابکاری شعاعیں خطرناک قسم کی بیماریوں کا باعث بن رہی ہیں ، ٹاورز کے ذریعے پھیلنے والی برقی لہریں ایک تسلسل کے ساتھ انسانی جسم کے خلیوں کو اپنا نشانہ اور ہدف بناتی ہیں جس سے ہمارے خلیوں اور اعضاء کے جنکشن پوائنٹس سمیت ہمارا سارا دماغی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ معروف تحقیق دان ڈاکٹر کارلو نے تحقیق کی ہے کہ برین ٹیومر کی خاص قسم کے امکانات ان ٹاورز کی قریبی آباد ی میں زیادہ پائے جاتے ہیں ، ان کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس طرف کے کان کے ساتھ فون زیادہ استعمال کیا جاتا ہے برین ٹیومر بھی اس میں زیادہ پایا جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔
قارئین !کم ازکم پاکستان میں لوگ جس انداز سے’’ موبائل فوبیا‘‘ میں مبتلا ہو کر مختلف مسائل کے دلدل میں دھنس چکے ہیں اسے پیش نظر رکھتے ہوئے ان حضرات کی تحقیقات پر اک نظر ڈالیں تو یہ نچوڑ اور تحقیق سو فیصد درست قرار دی جا سکتی ہیں ۔

قابل افسوس امر ہے کہ وطن عزیز میں موبائل فون کے اس بے دریغ استعمال ، ٹاورز سے جنم لینے والی بے شمار بیماریوں اور بالخصوص نوجوان نسل جس طرح سے کئی کئی گھنٹوں پر محیط کال پیکجزمیں گھر کر بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اور معاشرے میں بگاڑ کی ایک نئی جہت جنم لے رہی ہے اس طرح کے مضراثرات کے متعلق کہیں بھی ، کسی بھی سطح پر کوئی حکومتی یا غیر حکومتی ادارہ ، شہری سماجی تنظیمیں ، این جی اوز شعوری مہم چلاتی نظر نہیں آتیں۔جہاں تک پاکستانی حکمرانوں کی بات ہے تو ان سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے کرنے کے اور بھی بہت سے کام ہیں تا ہم انسانی حقوق اور دیگر شہری فلاحی تنظیموں کو موبائل فون کے ان مضمرات اور نوجوان نسل کو اس کے بے دریغ استعمال اور خطرناک نتائج سے آگاہ کرنا از حد ضروری ہے ۔

اس حوالے سے سکول و کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی بہتر انداز سے ورک کیا جا سکتا ہے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر بھی بھرپور مہم چلائی جا سکتی ہے ، وگرنہ موبائل فون کی جس وباء میں نسل نو گھر چکی اور فحاشی و عریانی کی جس راہ پر چل نکلی ہے اس کی بربادی کے نشان بالکل سامنے واضح طور نظر آرہے ہیں او رصرف کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے یقینی طور پر ایسے خطرات سے نہیں نمٹا جا سکے گا ۔

Abdul Sattar Awan

No comments:

Powered by Blogger.