Header Ads

Breaking News
recent

مکلی میں چند مشہور مقابر.....


مقبرہ جانی بیگ اور مقبرہ غازی بیگ:جانی بیگ، ٹھٹھہ کا آخری خود مختار فرمانروا تھا اس نے شہنشاہ اکبر کے جرنیل کا بہت مردانہ وار مقابلہ کیا جو سندھ پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن وہ ناکام رہا بعد میں اس نے اطاعت قبول کرلی لہٰذا اسے بطور صوبیدار ٹھٹھہ بحال کر دیا گیا۔ وہ 1599ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غازی بیگ اس کا جانشین بنا اور صوبہ قندھار کا صوبیدار بھی مقرر کیا گیا۔ وہ 1611-12ء میں قتل ہوا۔ 

باپ اور بیٹے دونوں کی میتیں اس مقبرے میں 1613ء میں دفن کی گئیں۔ یہ ایک اونچی کرسی کے احاطہ میں ایستادہ ہے کرسی پتھر کی ہے لیکن اوپر کی عمارت مستطیل شدہ نیلی اینٹوں کی ہے۔ پتھر کے کام میں بعض خوبصورت نقاشی کے نمونے اور کتبے ہیں۔ مقبرہ نواب مرزا عیسیٰ ترجمان: یہ معزز انسان پہلے ترخان فرمانروا کا ہم نام تھا اور اسے شہنشاہ جہانگیر نے 1627ء میں جنوبی سندھ کا گورنر مقرر کیا اس نے اسی سال اپنا مقبرہ بنانا شروع کر دیا یہ 1644ء میں مکمل ہوا مقبرہ بحیثیت مجموعی پہاڑی پر سب سے زیادہ پر جلال ہے یہ ایک وسیع احاطہ میں ایستادہ ہے اور خود 70 مربع فٹ ہے پورا مقبرہ پیلے رنگ کے پتھر سے بنا ہے جس پر بہت دیدہ زیبی اور خوبصورتی سے نقاشی کی گئی ہے۔ گنبد باہر کی طرف سادہ اور سفید ہے۔ نواب مرزا طغرل بیگ:کلان کوٹ کسی وقت طغرل آباد کہلاتا تھا جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی مشہور کمانڈر تھا اس کا مقبرہ قدرے انحطاط میں ہے لیکن کچھ عرصہ قبل اسے مزید نقصان سے محفوظ کر دیا گیا ہے یہ قریباً سارا ہی پتھر کا ہے اس کا گنبد یا چتر پتھر کے بارہ منقش ستونوں پر ایستادہ ہے۔ 

مقبرہ دیوان مشروفہ خان: یہ مذکورہ بالا دو سفید گنبد کے مقبروں کا تضاد ہے کیونکہ اس کا گنبد باہر کی طرف نفیس ترین سرخ اینٹوں کا بنا ہوا ہے جن میں نیلی سبز مینار کاری کی قطاریں عجیب منظر پیش کرتی ہیں یہ ایک بڑے صحن میں ایک چبوترے پر ایستادہ ہے دیوان ایک ارغون تھا اور دلی سے مقرر شدہ ٹھٹھہ کے وزیر کا گورنر تھا اس کا مقبرہ اس کی زندگی میں 1638ء میں تعمیر کیا گیا۔ مقبرہ نواب امیر خلیل خان: یہ 1572ء اور 1558ء کے درمیان کہیں تعمیر ہوا اس پر ایک موثر اور بے نظیر کتبہ ہے جو بڑی بڑی گاڑھی نیلی ٹائیلوں کی ایک چوڑی پٹی پر سفید عربی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ مقبرہ عیسیٰ ترخان: یہ سندھ کا پہلا ترخان فرمانروا تھا اور اس کا مقبرہ 1573ء میں تعمیر شدہ بتایا جاتا ہے یہ متعدد چھوٹے چھوٹے مقابر کے ساتھ ایک بڑے مربع احاطے میں ایستادہ ہے۔

 جس کے اندر چھوٹے چھوٹے احاطے ہیں سب پتھر کے بنے ہوئے ہیں اور سب پر نقاشی، کندہ کاری اور کہیں کہیں برمائی بھی کی گئی ہے۔ مقبرہ جام نظام الدین:یہ پہاڑی پر سب سے پرانا مقبرہ ہے اور واضح تاریخی دلچسپی کا حامل ہے یہ 1508ء میں بنایا گیا جام نظام الدین سمہ جاموں میں آخری سے پہلا فرمانروا تھا اس کا مقبرہ ایک مربع عمارت ہے غیر مسقف اور پورا پتھر سے بنا ہوا۔ دیوار میں دو ملحقہ پتھر بھی کبھی کبھار مختلف چوڑائیوں کے ہیں اور ان پر نمونے بھی غیر مشابہ ہیں ایک ملحقہ مزار جو یقینا بعد کا ہے اندرونی طور پر فیصل شدہ ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔
  پاکستان کے آثارِ قدیمہ ٭

شیخ نوید اسلم

No comments:

Powered by Blogger.