Header Ads

Breaking News
recent

ساٹھ گھنٹوں میں 42ارب کے قرضوں کا نیا بوجھ.......


وزیر خزانہ اسحاق ڈار خوشخبری لائے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے کی پانچویں اور چھٹی قسط جاری کررہا ہے، یوں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر حکومت کو مل جائیں گے۔ حکومت کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو یقینی طور پر یہ اچھی خبر ہے، لیکن حقیقی معنوں میں عوام کی گردن پر مزید قرض کی آکاس بیل چڑھائی گئی ہے۔ ملک اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ ہر حکومت نے یہ سستا اور آسان حل نکالا ہوا ہے کہ نئی شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف سے قرض لے لیا جائے اور پھر یہی آئی ایم ایف ہمیں کشکول بھرنے کے عوض برے طریقے سے مطعون بھی کرتا ہے۔ نہ جانے ایوانِ اقتدار میں بیٹھے افراد آئی ایم ایف کو ہر دفعہ یہ موقع کیوں فراہم کرتے ہیں! بلاشبہ پاکستان کی غیر یقینی سیاسی صورت حال نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کرنے سے کترا رہی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے اس معاشی اور سیاسی بحران کی طوالت ختم کرنے کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ آئی ایم ایف قرض دے کر واپس بھی لے گا جس کے لیے وہ نج کاری پر زور دیتا ہے۔ سب سے اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی فراہم کردہ مالیاتی آکسیجن پر کب تک زندہ رہیں گے، اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کب شروع ہوگی؟

ابھی حال ہی میں وزیراعظم نوازشریف چین کے دورے سے واپس آئے اور چھ گھنٹے کے بعد جرمنی کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ بیجنگ میں تقریباً60 گھنٹے قیام کے بعد اسلام آباد واپس پہنچے تو ان کے کشکول میں 42 ارب ڈالر کا قرض تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور اس کا جواب قاری خود ہی تلاش کریں کہ احتساب بیورو کے سابق سربراہ سیف الرحمن ایک خلیجی ملک کے سربراہ کے بیٹے کے نمائندے کی حیثیت سے کیوں چین گئے اور ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے؟ سیف الرحمن اس معاہدے میں کیوں شامل ہوئے اور ماضی میں نوازشریف کے ساتھ ان کا کیا تعلق رہا؟ 

ان سب سوالات کا جواب پارلیمنٹ کو معلوم ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ چین کا معاشی نظام لازمی ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔ وہاں اصل معیشت کے ساتھ ساتھ متوازی نظام بھی موجود ہے کہ رسید لیے اور دیے بغیر کام چلائو۔ چین اسی نظام کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور چالیس سال تک وہ ان معاہدوں سے مالی منفعت حاصل کرتا رہے گا اور ہم اُس کی کمپنیوں کے لیے کنزیومر مارکیٹ کے طور پر موجود رہیں گے۔ چین نے جو معاہدے کیے ہیں ان کی بنیادی بات یہ ہے کہ یہاں پاکستان میں وہی 20 کمپنیاں کام کریں گی جنہیں چینی حکومت اجازت دے رہی ہے، لہٰذا اجارہ داری تو یہیں سامنے آگئی۔ وہ یہاں سے دل کھول کر منافع لے جائیں گی۔

وزیراعظم نوازشریف کے اس دورے میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، متعدد وفاقی وزرا اور بعض صنعت کار بھی ہمراہ تھے۔ پاکستان اور چین کے مابین تاریخ ساز19 معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں توانائی کے34 ارب ڈالر کے معاہدے بھی شامل ہیں۔ گویا ساٹھ گھنٹوں میں 42 ارب ڈالر کا قرض قوم کی قسمت میں لکھا گیا ہے اور حکومت اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان ہی کیوں دنیا اور خاص طور پر چین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چین یہاں اپنی سرمایہ کاری محفوظ سمجھتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک یہاں کی غیر یقینی صورت حال کے باعث سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ چین پاکستان میں جو سرمایہ کاری کررہا ہے اُس کے لیے مارکیٹ بھی خود ہی پیدا کررہا ہے جس کے لیے بھارت اور سارک کے دیگر ممالک اُس کا انتخاب ہیں۔ اس خطہ میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے آئی ایم ایف کے دبائو یا خود احتسابی کے باعث ریگولیٹری سسٹم بنایا ہے۔ 

اس وقت پاکستان کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے انتظامی اصلاحات کرنے والی جنوبی ایشیا کی 5 معیشتوں میں شامل ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں سے مقامی تاجروں کے لیے کم از کم ایک ریگولیٹری ریفارم کا نفاذ کرنے والے چار ممالک میں شامل ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان نے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے نفاذ کے ذریعے سرحدوں کے آر پار تجارت کو مزید آسان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2005ء کے بعد سے خطے کی تمام معیشتوں نے کاروباری ماحول میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس عرصہ میں بھارت نے سب سے زیادہ ریگولیٹری ریفارمز کیں جن کی تعداد20 ہے، دوسرے نمبر پر سری لنکا ہے جس نے 16 اصلاحات کی ہیں۔ وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کے ترجمان عامر ضمیر کے بقول پاکستان چین معاہدوں میں تمام سرمایہ کاری چین کی جانب سے کی جائے گی، توانائی پراجیکٹس پر کوئی قرضہ یا امداد نہیں دی جائے گی، چینی حکومت کی اپنی کمپنیاں پاکستان میں بجلی کے چار منصوبے لگائیں گی۔ یہ تو ترجمان کا مؤقف ہے لیکن حقائق یہ ہیں کہ چین کے پاس اس وقت 2200 ارب ڈالر سرپلس پڑے ہوئے ہیں اور وہ ان پیسوں سے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کررہا ہے جس کا بنیادی مقصد طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے چینی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کیے جانے والے حالیہ معاہدے بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں اور یہ امداد نہیں بلکہ غیر اعلانیہ قرض ہے جو ہماری معیشت کی ہڈیوں سے وصول کیا جائے گا۔ چین کی ایک کمپنی ہواوے نے اس وقت پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبے میں 34 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور یہ ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کے ذریعے وصولیاں کرکے چینی کمپنی کو مالی فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ حال ہی میں بیجنگ میں ہونے والے حکومت کے ساتھ چینی کمپنیوں کے معاہدے بھی سرمایہ کاری کی شکل ہیں اور یہ پیسہ بہتر منافع کے ساتھ واپس بیجنگ جائے گا جس کی ضمانت حکومتِ پاکستان نے دی ہے۔ 

حکومت جس کی بھی ہوگی ان معاہدوں پر عمل کرنا لازم ہوگا۔ ان معاہدوں کو قانون کی نظر سے لازمی دیکھنا ہوگا، کیونکہ عالمی سرمایہ کاری کے قوانین بہت واضح ہیں۔ ایک عالمی ادارہ فیڈک کے نام سے کام کررہا ہے جس نے تمام ملکوں کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے رہنما اصول دیے ہوئے ہیں اور تمام ملک ان اصولوں پر چل رہے ہیں، پاکستان میں بھی اسی اصول کے تحت پیپرا رولز بنائے گئے ہیں۔ چین کے ساتھ ہونے والے یہ تمام معاہدے پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہیں۔ جب بھی دو ملک باہمی معاہدہ کرتے ہیں تو دو بنیادی اصول مدنظر رکھے جاتے ہیں۔ کیا یہ معاہدے حکومتوں کے مابین ہیں یا ایک جانب حکومت اور دوسری جانب نجی شعبہ ہے؟ چین کے ساتھ ہونے والے یہ معاہدے نئی طرز کے ہیں کہ چین کی حکومت اپنی کمپنیوں کو طے شدہ شرائط پر قرض دے رہی ہے جس سے یہ کمپنیاں حکومتِ پاکستان سے معاہدہ کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ بجلی کے شعبے میں ہونے والے یہ معاہدے وہی ہیں جو پیپلزپارٹی نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے تھے اور ملک میں کام کرنے والی یہ غیرملکی نجی پاور کمپنیاں ملک کی کسی عدالت، پارلیمنٹ یا حکومت کو جواب دہ نہیں ہیں، وہ اپنی مرضی سے صارفین کے لیے نرخوں کا فیصلہ کررہی ہیں اور حکومتِ پاکستان مقررہ قیمتوں کے مطابق صارفین سے پیسے وصول کرکے انہیں دے رہی ہے۔ لہٰذا ان معاہدوں کے نتیجے میں مستقبل میں کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں اس کا ایک ہلکا سا جائزہ نجی کمپنیوں کے حالیہ رویّے سے لیا جاسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر یہاں مقابلہ بازی کرائی جائے اور ٹینڈر جاری کیے جائیں تو یہاں سرمایہ کاری کرنے والے امن وامان کی صورت حال بھی دیکھیں گے اور یہ بھی جائزہ لیں گے کہ انہیں مناسب منافع مل سکے گا یا نہیں؟ چین کی حالیہ سرمایہ کاری محض اس لیے ہورہی ہے کہ وہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ مارکیٹ سمجھتا ہے اور یہاں دوسری اقوام کا راستہ بھی روک رہا ہے۔ خطہ کی صورت حال کے باعث اسے کسی حد تک یہاں عسکری قیادت کا بھی اعتماد حاصل رہا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے ’’کارخانوں‘‘ کے لیے اس کی مالی معاونت دونوں ملکوں کے لیے مفید رہی ہے لیکن عام صارف کے لیے ان معاہدوں میں کوئی اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ چینی کمپنیاں بجلی اپنی من پسند قیمت پر واپڈا کو بیچیں گی اور واپڈا صارفین سے پیسے بٹورے گا۔ 

اس کے باوجود بھی اگر وزیراعظم کا خیال ہے کہ چین کی مدد سے ملک میں سستی بجلی آنے کے ساتھ ترقی بھی آجائے گی تو یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان معاہدوں سے دو دہائیوں سے جاری توانائی کے بحران کے حل کے لیے23 سو میگاواٹ کے قریب بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہونے کی توقع ہے، مگر یہ مہنگی بجلی خریدے گا کون؟ چین پاکستان میں دو ایٹمی بجلی گھروں کا معاہدہ بھی کرچکا ہے اور ان کی تنصیب کا آغاز ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کا شکوہ ہے کہ ہمارے وزیراعلیٰ (کے پی کے)کو کیوں نہیں ساتھ لے جایا گیا! عمران خان کو کوئی تو سمجھائے کہ آپ بچ گئے ہیں۔ تحریک انصاف ان معاہدوں کی حقیقیت سے قوم کو آگاہ کرے تو واقعی اسے نجات دہندہ کہا جائے گا، ورنہ بے مقصد دھرنوں کی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

جس طرح کے معاہدے وزیراعظم نے بیجنگ میں کیے ہیں، ایسے ہی معاہدے گزشتہ ماہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ آصف علی زرداری کے ہمراہ چین جاکر کرچکے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت اور ملک کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان معاہدوں کو پارلیمنٹ میں لانے پر مجبور کریں اور پارلیمنٹ سے ہی توثیق کرانے پر زور دیں، اور پارلیمنٹ میں یہ جماعتیں قوم کی رہنمائی کے لیے اپنا نکتہ نظر بیان کریں۔

ملک میں بجلی کے علاوہ گیس کا بھی بحران ہے۔ جب سے اکبر بگٹی قتل ہوئے ہیں سوئی میں گیس فیلڈ بحران کا شکار ہے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حکومت دھوکا دینے کے لیے کہہ رہی ہے کہ ملک میں گیس کی کمی ہے لہٰذا ایل این جی درآمد کرانا ضروری ہے۔ یہ ایل این جی بھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے درآمد کی جارہی ہے جس کے لیے نہ بولی ہوئی اور نہ ٹینڈر جاری ہوئے۔ پہلے یہ گیس اِس سال پاکستان آنا تھی، اب کہا جارہا ہے کہ 2015ء کے آغاز میں آنا شروع ہوجائے گی۔

پاکستان میں غربت کا مسئلہ۔ایک ملک گیر سروے

حال ہی میں ایک ملک گیر سروے کیا گیا ہے جس کے نتائج بتاتے ہیں کہ ہم آج بھی معاشی ترقی کے اعتبار سے تیس سال پیچھے کھڑے ہیں۔1981ء میں پاکستان میں غربت کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں 50 فیصد پاکستانیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ غریب لوگ بدقسمتی کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں۔ 40 فیصد کا خیال تھا کہ وہ غریب خاندانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں۔ 17 فیصد کا خیال تھا کہ وہ محنتی نہیں ہوتے۔ 13 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ روزگار کے لیے بیرون ملک نہیں جاتے۔ 18 فیصد کا خیال تھا کہ وہ غیرقانونی ذرائع سے نہیں کماتے۔ 33 سال بعد انہی سوالوں پر مبنی سروے کیا گیا ہے۔ 2014ء کے سروے کے مطابق 43 فیصد لوگوں نے غریب ہونے کو بدقسمتی اور 44 فیصد نے غریب خاندانوں میں ان کی پیدائش کو غربت کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔15 فیصد نے کہا کہ وہ محنتی نہیں ہوتے۔ 9 فیصد نے کہا کہ وہ روزگار کے لیے بیرون ملک نہیں جاتے۔ 20 فیصد نے کہا کہ وہ ناجائز ذرائع سے نہیں کماتے۔11 فیصد نے ناخواندگی کو غربت کی بڑی وجہ قرار دیا۔ یہ ملک گیر سروے کے نتائج ہیں۔ حقائق کا ایک رخ یہ ہے کہ ملک میںاس وقت سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کی 147 کانیں ہیں لیکن ان پر کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ چین کی کمپنیاں سونے اور چاندی کی کانوں پر کام کررہی تھیں لیکن وہ کوئلے کے بہانے یہاں سے سونا اور چاندی اکٹھا کرکے تجزیے کے لیے لے جاتی رہیں اور کچھ معلوم نہیں کہ کیمیکل تجزیے کے نام پر یہاں سے کتنی مقدار میں سونا اور چاندی لے جایا گیا ہے۔

میاں منیر احمد

Pakistan Foreign Debts

No comments:

Powered by Blogger.