Header Ads

Breaking News
recent

3 کروڑ 60 لاکھ لوگ ’غلاموں کی طرح رہتے ہیں‘


دنیا میں تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ افراد، یعنی دنیا کی پانچ فیصد آبادی غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔
غلامی کے خلاف سرگرم عمل مہم ’واک فری‘ یا آزادی سے چلو کے ایک عالمی جائزے کے مطابق بحیثیت مجموعی بھارت میں غلاموں کی تعداد تمام ممالک سے زیادہ ہے جبکہ آبادی کے تناسب کے لحاظ یہ تعداد ماریطانیہ میں سب سے زیادہ ہے۔

واک فری کے اس برس کے جائزے میں سنہ 2013 کے مقابلے میں غلامی کے تناسب میں 20 فیصد اٰضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ اس برس جائزے کے لیے بہتر طریقہ کار اپنانا ہو سکتی ہے۔

اس جائزے میں غلاموں سے مراد ایسے لوگ لیے گئے ہیں جن سے جبری مقشت کرائی جاتی ہے، قرض کے عوض کام لیا جاتا ہے، زبردستی ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجایا جاتا ہے (ٹریفیکنگ)، پیسے بٹورنے کے لیے جنسی استحصال کیا جاتا ہے یا کسی کو غلام بنانے کے لیے اس سے زبردستی شادی کر لی جاتی ہے۔

غلامی کی نئی تعریف کی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جائزے میں غلامی کی اصطلاح جدید معنوں میں استعمال کی گئی ہے جو اس غلامی سے مختلف ہے جس میں لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف مزدروی میں باندھ کر رکھا جاتا تھا یا انھیں کسی دوسرے شخص کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ اس قسم کی غلامی پر دنیا کے اکثر ممالک میں اب پابندی لگ چکی ہے۔
غلامی کا طوق

لکی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ماریطانیہ میں غلاموں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ جہاں چار فیصد لوگ غلام ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی بڑی اکثریت وہ ہیں جن کے آباو اجداد غلام تھے اور انہیں غلامی کا طوق وراثت میں ملتا ہے۔
’واک فری‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے 167 ممالک کا جائزہ لیا اور ہر ملک میں انھیں کسی نہ کسی قسم کی غلامی کے شواہد نظر آئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلامی کی بیخ کنی کرنے میں افریقہ اور ایشیا کو سب سے زیادہ امتحان کا سامنا ہے، جبکہ یورپ میں غلامی دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ بھارت کے بعد چین آتا ہے جہاں یہ تعداد 30 لاکھ ہے۔ چین کے بعد پاکستان اور اس کے بعد ازبکستان کا نام آتا ہے۔
روس پانچویں درجے پر ہے جس کی معیشت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا انحصار غیر ملکی مزدوروں پر ہے جن سے تعمیراتی منصوبوں اور زراعت کے شعبے میں زبردستی کام لیا جاتا ہے۔

ملکی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ماریطانیہ میں غلاموں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ جہاں چار فیصد لوگ غلام ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی بڑی اکثریت وہ ہیں جن کے آباو اجداد غلام تھے اور انہیں غلامی کا طوق وراثت میں ملتا ہے۔
واک فری نے رپورٹ میں غلامی کے مسلے پر بین الاقوامی سطح پر وسیع تر تعاون پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ پر سزاؤں میں سختی لائی جائے اور ایسی کاروباری سرگرمیوں پر بھی سختی کی جائے جن میں لوگوں سے غلامانہ مزدوری کرائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ غلامی کا عالمی جائزہ یا ’گلوبل سلیوری انڈیکس‘ پہلی مرتبہ گذشتہ برس شائع کیا گیا تھا۔

Global Slavery

No comments:

Powered by Blogger.