Header Ads

Breaking News
recent

شہید حکیم محمد سعید کی یاد میں......


کیلنڈر پر جب بھی اکتوبر طلوع ہوتا ہے‘ میرے دل کی دھڑکنیں رک سی جاتی ہیں اور حکیم سعید صاحب کی یادوں کی ریت آنکھوں کی پتلیوںپر رگڑ کھانے لگتی ہے۔ میں حکیم صاحب سے نومبر 1993ء میں پہلی بار ملا تھا‘ حکیم صاحب کے ہونٹوں پر ایک طلسماتی مسکراہٹ اور ہاتھوں میں خوشبودار گرمائش تھی۔ میں اس وقت ایک عام‘ معمولی صحافی تھا جب کہ حکیم سعید عالمی شخصیت، مگر حکیم صاحب نے اپنائیت سے میری طرف دیکھا اور ان کے ساتھ زندگی بھر کا تعلق پیدا ہو گیا۔

میں عام زندگی میں ایک غیر سنجیدہ اور کیئرلیس انسان ہوں‘ میں زیادہ دیر تک خاموش اور با ادب نہیں بیٹھ سکتا جب کہ حکیم صاحب کی محفل میں ایک مقدس اور متبرک سی خاموشی ہوتی تھی مگر اس تضاد کے باوجود ان کے ساتھ میری دوستی ہو گئی‘ حکیم صاحب نے میری غیر سنجیدگی کے ساتھ خاموش سمجھوتا کر لیا۔ وہ شروع شروع میں میری غیر سنجیدہ باتوں پر خاموش رہتے تھے‘ پھر انھوں نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔

اس کے بعد وہ ان سے لطف لینے لگے اور آخر میں انھوں نے میری غیر سنجیدگی کو قبول کر لیا۔ مجھے ان دنوں شوگر کا مرض لاحق ہو گیا‘ میں حکیم صاحب کے پاس حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا ’’حکیم صاحب مجھے شوگر ہو گئی ہے‘ میں کیا کروں‘‘ انھوں نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولے ’’کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ چھوٹی سی بیماری ہے یہ تمہارا کیا بگاڑ لے گی‘‘ میں نے عرض کیا ’’حکیم صاحب میں بیماری سے خوفزدہ نہیں ہوں‘ میں اندیشے میں مبتلا ہوں‘‘ فرمایا ’’کیا مطلب‘‘ میں نے عرض کیا ’’جناب میں نے سنا ہے شوگر کے مریض اعصابی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں اور میں اس کیفیت سے بہت ڈرتا ہوں‘‘ حکیم صاحب نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور میرے ساتھ ہاتھ ملا کر بولے ’’یار میرا بھی یہی مسئلہ ہے‘ ‘ میری ہنسی نکل گئی اور میں نے عرض کیا ’’حکیم صاحب چلیے پھر دونوں مل کر کوئی حکیم تلاش کرتے ہیں‘‘ حکیم صاحب بڑی سنجیدگی سے بولے ’’بالکل ٹھیک ہے‘ کوئی حاذق حکیم تلاش کرتے ہیں‘‘۔
دنیا میں کوئی شخص اس وقت تک بڑا انسان نہیں بن سکتا جب تک اس میں تین خوبیاں نہ ہوں‘ ایک‘ اس میں حس مزاح نہ ہو۔ دو‘ اس میں جمالیاتی حس نہ ہو اور تین‘ اس کی ذات میں رومانویت نہ ہو۔

 حکیم صاحب میں یہ تینوں خوبیاں موجود تھیں۔ وہ خوشگوار مزاج کے انسان تھے‘ آپ ان کی محفل میں بیٹھ کر بور نہیں ہوتے تھے‘ ان کی طبیعت میں حس جمال خون بن کر دوڑتی تھی‘ وہ صاف ستھرا اور شفاف لباس پہنتے تھے‘ حکیم صاحب کی گفتگو تک میں کوئی سلوٹ نہیں ہوتی تھی‘ حکیم صاحب کے فقرے ایسے ہوتے تھے جیسے ابھی ابھی دھوبی کے گھاٹ سے دھل کر‘ استری ہو کر آئے ہیں‘ لفظوں کا چناؤ ایسا جیسے ان کے تمام لفظوں نے عطار کی دکان میں آنکھ کھولی ہے اور آپ کے دائیں بائیں ماحول میں نفاست کے انبار۔ رہ گئی رومانویت تو آپ شاعر کا دل‘ مصنف کی آنکھ اور موسیقار کا احساس لے کر پیدا ہوئے تھے۔

آپ حکیم صاحب کی تحریریں پڑھیں‘ آپ کو ان کے ایک ایک فقرے میں رومانویت کی ہلکی ہلکی تپش اور جذبوں کی بھینی بھینی خوشبو ملے گی۔ حکیم صاحب کی رومانویت اور عام انسانوں کی رومانویت میں فرق تھا‘ عام لوگ اس جذبے کو لیلاؤں کی گلیوں میں ’’رول‘‘ دیتے ہیں جب کہ حکیم صاحب نے اپنے اس جذبے کو ملک‘ قوم اور ملت کے ساتھ وابستہ کر کے اسے عبادت گاہ کی شکل دے دی چنانچہ حکیم صاحب کی رومانویت قوم کی کردار سازی کا فرض ادا کرتی نظر آتی ہے۔ امریکا کے ایک ادارے نے دس برس قبل دنیا کے ایک ہزار نو سو ایک کامیاب لوگوں کی عادتوں کی ایک فہرست بنائی تھی‘ ان تمام کامیاب لوگوں میں سات عادتیں مشترک تھیں‘ یہ لوگ وقت کے پابند تھے‘ حکیم صاحب بھی وقت کی بے انتہاء پابندی کرتے تھے‘ ان کے دس بجے ٹھیک نو بج کر 59 منٹ پر بجتے تھے‘ وقت کے معاملے میں گھڑی کی سوئیاں دھوکا کھا سکتی تھیں لیکن حکیم صاحب کے معمولات میں لغزش نہیں آتی تھی‘ دنیا کے کامیاب لوگ کام کو کام سمجھتے تھے‘ حکیم صاحب کام کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔

انھوں نے لاکھوں خطوط کا جواب اپنے ہاتھ سے دیا تھا‘ وہ گاڑی میں ہوں‘ جہاز میں یا پھر کسی تقریب میں وہ مسلسل لکھتے رہتے تھے‘ وہ سندھ کے گورنر بھی تھے تو معمول کے مطابق مریضوں کا معائنہ کرتے تھے۔ حکیم صاحب نے مختصر سی زندگی میں اتنے ادارے قائم کیے جتنے ہزاروں لوگ مل کر سیکڑوں برسوں میں قائم نہیں کر پاتے۔ دنیا کے کامیاب لوگ ایماندار ہوتے ہیں‘ حکیم صاحب کی ایمانداری ایمان کو چھوتی تھی‘ حکیم صاحب نے پوری دنیا میں کوئی ذاتی جائیداد نہیں بنائی‘ آپ کا اربوں روپے کا ادارہ ہمدرد پاکستان کے نام وقف ہے۔ وہ اپنی بیٹی سعدیہ راشد کے گھر میں ایک کمرے میں رہتے تھے اور اس کا بھی باقاعدہ کرایہ ادا کرتے تھے‘ سندھ کے گورنر تھے‘ لاہور میں مریضوں کے معائنے کے لیے آتے تھے تو ذاتی جیب سے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خریدتے تھے‘ خود اکانومی میں بیٹھتے تھے اور ان کے ملٹری سیکریٹری فرسٹ کلاس میں سفر کرتے تھے‘ ملٹری سیکریٹری کو شرم آتی تھی لیکن آپ انھیں کہتے تھے ’’بیٹا آپ میرے لیے اپنا اسٹیٹس خراب نہ کریں‘ میں ذاتی کام سے سفر کر رہا ہوں‘ آپ اپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں‘ آپ اپنے اسٹیٹس کے مطابق رہیں‘ مجھے اپنے اسٹیٹس کے مطابق رہنے دیں‘‘۔

لاہور اترتے تھے تو ہمدرد ادارے کی سوزوکی کار میں مطب جاتے تھے‘ کراچی میں بھی ذاتی کاموں کے لیے ذاتی کار استعمال کرتے تھے‘ دنیا کے کامیاب لوگوں میں عاجزی تھی‘ حکیم صاحب بھی انکسار سے بھرے ہوئے تھے‘ وہ کسی تقریب میں جاتے تو ریکارڈ سے اس علاقے کے مریضوں کے ایڈریس نکلوا کر ساتھ لے جاتے اور جاتے اور آتے ہوئے مریضوں کے گھر جا کر ان کی خیریت معلوم کرتے‘ بچوں تک سے جھک کر ملتے تھے‘ انھوں نے کبھی ڈرائیور کو ڈرائیور اور چپڑاسی کو چپڑاسی نہیں سمجھا‘ وہ سب کو انسان سمجھتے تھے اور انھیں اشرف المخلوقات کا درجہ دیتے تھے۔

دنیا کے کامیاب لوگ بے لوث تھے‘ حکیم صاحب کو بھی لالچ اور ترغیب چھو کر نہیں گزری تھی‘ انھوں نے جو کچھ کمایا ملک کے نام کر دیا‘ کراچی کے مضافات میں اسکول قائم کیا اور ڈاکوؤں کے دیہات میں جا کر ان کے بچوں کو مفت تعلیم دینا شروع کر دی‘ اس ملک میں جس میں ہر زورآور کے دامن پر کسی نہ کسی این آر او کا داغ ہے اس میں حکیم سعید واحد انسان تھے جن کے شفاف دامن کی قسم فرشتے بھی کھا سکتے ہیں۔ دنیا کے کامیاب لوگ بہادر تھے‘ حکیم صاحب کے لہو میں بہادری سرخی کی حیثیت رکھتی تھی‘ ان کی شہادت بھی بہادری کی وجہ سے ہوئی تھی‘ انھوں نے ملک کے ان طبقوں کو للکارنا شروع کر دیا تھا جن کی طرف قانون تک آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا‘ آپ کو رفقاء نے سمجھایا تو آپ نے جواب دیا ’’میں نہیں بولوں گا تو کون بولے گا‘‘ اور دنیا کے کامیاب لوگوں کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا‘ حکیم صاحب بھی جو کہتے تھے وہ کرتے تھے اور جو کرتے تھے اسی کی تبلیغ فرماتے تھے‘ ان کی ذات میں قول اور فعل جڑواں بھائیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔

مجھے یاد ہے 17 اکتوبر 2009ء کو لاہور میں حکیم سعید کی 11 ویں برسی منائی گئی‘ میں بھی اس تقریب میں شریک تھا‘ تقریب کی نظامت ٹیلی ویژن کے مشہور کمپیئر نورالحسن نے کی‘ نورالحسن نے تقریب کے آخر میں فرمایا ’’ہم 17 کروڑ لوگ حکیم سعید صاحب کی صاحبزادی محترمہ سعیدہ راشد سے معافی مانگتے ہیں کہ ہم حکیم صاحب کے قاتلوں کو سزا نہیں دے سکے‘‘ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کیونکہ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی حکیم سعید 17 اکتوبر 1998ء کو کراچی میں شہید ہوئے‘ ان کے قتل کے الزام میں لوگ پکڑے گئے لیکن صدر پرویز مشرف کے این آر او کی وجہ سے ان لوگوں کا جرم بھی معاف کر دیا گیا‘ یہ لوگ بھی این آر او کی واشنگ مشین میں دھو دیے گئے اور اس ظلم پر ہماری پارلیمنٹ کے کسی رکن نے آواز نہیں اٹھائی۔ کیا یہ حکیم صاحب کی شہادت سے بڑی بدقسمتی نہیں…! ہم سب واقعی اس قابل نہیں ہیں کہ حکیم سعید صاحب جیسے انسان ہمارے درمیان ہوتے کیونکہ حکیم سعید حضرت امام حسین ؓ کے قافلے کے بچھڑے ہوئے رکن تھے اور حضرت امام حسین ؓ کے قافلے کے لوگ کبھی کوفے میں قیام نہیں کیا کرتے۔

جاوید چوہدری
 

No comments:

Powered by Blogger.